حج کی فضیلت , یومِ عرفہ جہنم سے آزا دی کا دن

حج کی فضیلت:

حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:”جس نے حج کیا اور فحش کلامی نہ کی اور فسق نہ کیا تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسا لوٹاجیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پید اہواتھا۔”

(صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فضل الحج ولعمرہ ، الدیث ۱۳۵0 ، ص ۱۹0۳)

یومِ عرفہ جہنم سے آزا دی کا دن:

اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، رسولِ اَکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”یومِ عرفہ سے زیا دہ کسی دن جہنمیوں کو آزا د نہیں کیا جا تا پھر اللہ عزَّوَجَلَّ قریب (یعنی اپنی رحمت کے ساتھ متوجہ)ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے اور اِستِفسار فرماتا ہے کہ ” میرے بندے کیا چاہتے ہيں ؟” فرشتے عر ض کر تے ہیں: ”یارب عَزَّوَجَلَّ!یہ عفو ومغفرت چاہتے ہیں۔” اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرما تا ہے : ”اے فرشتو! گواہ ہوجاؤ!میں نے ان سب کو بخش دیا اور ان سے در گزر کیا ۔

( صحیح سلم،کتاب الحج، باب فضل یوم عرفہ، الحدیث۱۳۴۸،ص۹0۲۔شعب الایمان للبیھقی، باب فی المناسک، فضل الوقوف بعرفات، الحدیث۴0۶۸، ج۳، ص۴۶0)

اللہ عزَّوَجَلَّ ان لوگوں کو بھلائی عطافرماتاہے جنہوں نے دنیا میں اس کی عبادت کو نفع اور غنیمت خیال کیااورجنہوں نے یہ دیکھا کہ نافرمانیوں میں سراسَر وقت برباد کرنے سے بہت زیادہ نقصان ہے توان کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے عرفہ کے دن اپنے قریب کیا۔ جنہوں نے اس کی محبت کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے گناہوں سے درگزر فرما کران کی مغفرت فرما دی اور ان کے سبب علم کو پھیلایاتاکہ وہ سعادت مند ہو جائیں ۔

فضول سوالات سے بچو:

حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ عزَّوَجَلَّ نے تم پر حج فرض کیا ہے پس تم حج کر و۔”ایک

شخص نے عرض کی: ” یارسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ہر سال؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خاموشی اختیار فرمائی، اس نے پھر عرض کی: ”یارسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ہر سا ل؟” توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں ،اگرمیں ہاں کہہ دیتا تووا جب ہو جا تا اور اگر (ہر سال) وا جب ہو جاتاتو تم استطا عت نہ رکھتے ۔”

(صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فرض الحج مرۃ فی العمر ، الحدیث ۱۳۳۷، ص۹0۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *