خراسانی عالم کی توبہ

خراسانی عالم کی توبہ

ايک مرتبہ کوئی خراسانی عالم صاحب’ حضرت قطب الدين اولياء ابواسحق ابراہيم علیہ الرحمۃکے بیان ميں شريک تھے۔ پورے مجمع ميں آپ کے پُر اثر وعظ سے ايک وجدانی کیفيت طاری تھی ۔اس وقت خراسانی عالم صاحب کے دل میں یہ بات آئی کہ ميرا علم شيخ سے کہيں زائد ہے ليکن جو مقبوليت انہیں حاصل ہے وہ مجھے تمام علوم پر دسترس کے باوجود بھی حاصل نہيں ۔”
سیدناابواسحق ابراہيم علیہ الرحمۃنے اسی وقت اپنے نورِ باطن سے اس عالم کی نيت کو بھانپ کر اجتماع کو مخاطب کر کے فرمايا :”اس قنديل کی طرف ديکھو ، آج قنديل کا تيل اور پانی آپس ميں باتيں کر رہے ہيں ۔پانی کا کہنا ہے کہ خدا عزوجل نے مجھے ہر شے پر فوقيت عطا کی ہے کيونکہ اگر ميرا وجود نہ ہوتا تو لوگ شديد پياس سے مر جاتے اور يہ مرتبہ تجھے حاصل نہيں، اس کے باوجود تو ميرے اوپر آجاتا ہے ۔اس کے جواب ميں تيل نے کہا کہ ميں منکسر المزاج ہوں اور تجھ ميں غرور و تکبر ہے کيونکہ ميرا بیج پہلے زمين ميں ڈالا گياپھر پودا نکلنے کے بعد مجھے کاٹ کر کوہلو ميں پِیلا گيا، اس کے بعد ميں نے خود کو جلا جلا کر دنيا کو روشنی عطا کی اور جس قدر اذيتيں مجھے پہنچائی گئيں ميں نے ان سب کو نظر
انداز کر ديا ۔”اس کے بعد آپ نے وعظ ختم کر ديا اور وہ خراسانی عالم آپ کے مقصد کو سمجھ کرآپ کے قدموں پر گر پڑے اور تائب ہو گئے۔ (تذکر ۃ الاولياء،باب نودم ذکر شیخ ابواسحاق شہر یار ، ج ۱۲ ، ص۲۴۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *