Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خرید و فروخت کے چند مسائل

    خریدنے اور بیچنے کے مسائل بہت زیادہ ہیں اس مختصر کتاب میں بھلا اس کی گنجائش کہاں؟ جس کو مفصل طور پر خرید و فروخت کے مسائل کو جاننا ہو وہ بہار شریعت حصہ یا زدہم کا بغور مطالعہ کرے یہ اس بارے میں بہت ہی جامع اور معتبر کتاب ہے ہم یہاں صرف چند ضروری مسائل کا ذکر کرتے ہیں جن سے اکثروبیشتر واسطہ پڑتا رہتا ہے ان کو غور سے پڑھ کر یاد کرلو۔
مسئلہ:۔جب تک خرید و فروخت کے ضروری مسائل نہ معلوم ہوں کہ کونسی بیع جائز ہے اور کون سی ناجائز اس وقت تک مسلمان کو چاہے کہ وہ تجارت نہ کرے بلکہ تجارت کرنے سے پہلے ان مسئلوں کو جان لینا چاہے تاکہ تجارت میں حرام کمائی سے بچا رہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۶۳)
مسئلہ:۔تاجر کو اپنی تجارت میں اس قدر مشغول نہ ہوجانا چاہے کہ فرائض فوت ہو جائیں بلکہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو لازم ہے کہ تجارت کو چھوڑ کر نماز پڑھنے چلا جائے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۶۴)
مسئلہ:۔بیچنے اور خریدنے میں یہ ضروری ہے کہ سودے اور قیمت دونوں کو اچھی طرح صاف صاف طے کر لیں کوئی بات ایسی گول مول نہ رکھیں جس سے بعد میں جھگڑے بکھیڑے پڑیں اگر ان دونوں میں سے ایک چیز بھی اچھی طرح معلوم اور طے نہ ہوگی تو بیع صحیح نہ ہوگی۔
    (ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب شرائط البیع انواع اربعۃ،ج۷،ص۱۵)
مسئلہ:۔آدمی کے بال اور ہڈی وغیرہ کسی چیز کا بیچنا ناجائز ہے اور اپنے کسی کام میں لانا بھی درست نہیں ۔ (فتح القدیر،کتاب البیوع،فصل بیع الفاسد،ج۶،ص۳۹۰)
مسئلہ:۔ عورت کے دودھ کو بیچنا اور خریدنا ناجائز ہے اگرچہ اس کو کسی برتن میں رکھ لیا ہو اگرچہ جس کا دودھ ہو وہ باندی ہو۔      (فتح القدیر،کتاب البیوع،فصل بیع الفاسد،ج۶،ص۳۸۸۔۳۸۹)
مسئلہ:۔خنزیر کے بال اس کی کھال وغیرہ اس کے کسی جزو کا بیچنا اور خریدنا حرام اور اس کی بیع باطل ہے اسی طرح مردار کے چمڑے کی بیع بھی باطل اور ناجائز ہے جب پکایا ہوا نہ ہو اور اگر دباغت کرلی تو اس کی بیع درست اور اس کا کام میں لانا جائز ہے۔         (فتح القدیر،کتاب البیوع،فصل بیع الفاسد،ج۶،ص۳۹۰)
مسئلہ:۔تیل ناپاک ہوگیا اس کی بیع جائز ہے اور کھانے کے علاوہ اس کو دوسرے کام میں لانا جائز ہے۔  (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب فی التداوی …الخ، ج۷،ص۲۶۷)
مگر یہ ضروری ہے کہ بیچنے والا خریدار کو تیل کے ناپاک ہونے کی اطلاع دے دے تاکہ خریدار اس کو کھانے کے کام میں نہ لائے اور اس وجہ سے بھی خریدار کو مطلع کرنا ضروری ہے کہ تیل کا ناپاک ہونا عیب ہے اور بیچنے والے پر لازم ہے کہ خریدار کو سودے کے عیب پر مطلع کر دے ناپاک تیل مسجد میں جلانا جائز نہیں گھر میں جلا سکتا ہے ناپاک تیل کا چراغ جلا کر استعمال کرنا اگرچہ جائز ہے مگر بدن یا کپڑے پر جہاں بھی لگ جائے گا ناپاک ہوجائے گا اور بدن یا کپڑے کو پاک کرنا پڑے گابعض دوائیں اس قسم کی بنائی جاتی ہیں جس میں کوئی ناپاک چیز شامل کرتے ہیں مثلاًجانور کا پتّا یا خون یا حرام جانوروں کی چربی یا شراب وغیرہ یہ دوائیں اگر بدن یا کپڑے میں لگ گئیں تو ان کا پاک کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ:۔مردار کی چربی کو بیچنا یا اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں نہ اس سے چراغ جلا سکتے ہیں نہ چمڑا پکانے کے کام میں لا سکتے ہیں نہ اس کو کسی مرہم یا صابن میں ملا سکتے ہیں ۔     ( ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب فی التداوی… الخ،ج۷،ص۲۶۷)
مسئلہ:۔مردار کے بال ہڈی سینگ کھر پر چونچ ناخن ان سب کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے شکاری جانور سکھائے ہوئے ہوں ان کو کام میں لانا بھی جائز ہے اسی طرح ہاتھی کے دانت اور ہڈی اور اس کی بنی ہوئی چیزوں کو بھی خریدنا اور بیچنا اور استعمال کرنا جائز ہے۔         (فتح القدیر،کتاب البیوع،فصل بیع الفاسد،ج۶،ص۳۹۲)
مسئلہ:۔کتا بلی ہاتھی چیتا باز شکرا ان سب کو خریدنا اور بیچنا جائز ہے شکاری جانور سکھائے ہوئے ہوں یا بغیر سکھائے ہوئے ان کو خریدنا اور بیچنا جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ سکھائے جانے کے قابل ہوں۔ کٹکھناکتاجوسکھائے جانے کے قابل نہیں ہے اس کو خریدنا بیچنا جائز نہیں ۔ (ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب فی بیع دودۃ القرمز،ج۷،ص۲۶۱)
مسئلہ:۔جانور یا کھیتی یا مکان کی حفاظت کے لئے یا شکار کے لئے کتا پالنا جائز ہے اور ان مقاصد کے لئے نہ ہو تو کتا پالنا جائز نہیں اور جن صورتوں میں کتا پالنا جائز ہے اُن صورتوں میں بھی مکان کے اندر کتوں کو نہ رکھے لیکن اگر چور یا دشمن کا خوف ہو تو مکان کے اندر بھی رکھ سکتا ہے ۔  (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۰۶۔۵۰۷)
مسئلہ:۔مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک کچھوا کیکڑا وغیرہ اور حشرات الارض چوہا سانپ گرگٹ گوہ بچھو چیونٹی وغیرہ کو خریدنا اور بیچنا جائز نہیں۔          (درمختار،کتاب البیوع ،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۰۷)
بندر کو کھیل اور مذاق کے لئے خریدنا منع ہے اور اس کو نچانا اور اس کے ساتھ کھیل کرنا حرام ہے ۔
مسئلہ:۔گیہوں وغیرہ اناجوں میں دھول اور کنکری وغیرہ ملا کر بیچنا ناجائز ہے۔                  (بہارشریعت،ح۱۶،ص۱۰۵)
اسی طرح دودھ میں پانی ملا کر بیچنا بھی ناجائز ہے ۔                 (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۰۶)
مسئلہ:۔تالاب کے اندر کی مچھلیوں کو بیچنے کا جو دستور ہے یہ بیع ناجائز ہے تالاب کے اندر جتنی مچھلیاں ہوتی ہیں جب تک وہ شکار کرکے پکڑ نہ لی جائیں تب تک ان کا کوئی مالک نہیں شکار کر کے جو ان مچھلیوں کو پکڑلے وہی ان کا مالک بن جاتا ہے جب یہ بات سمجھ میں آگئی تو اب سمجھو کہ جس شخص کا تالاب ہے جب وہ ان مچھلیوں کا مالک ہی نہیں تو اس کا ان مچھلیوں کو بیچنا کیسے درست ہوگا؟ ہاں اگر تالاب کا مالک خود ان مچھلیوں کو پکڑ کر بیچا کرے تو یہ درست ہے اگر کسی دوسرے شخص سے پکڑوائے گا تو پکڑنے والا ان مچھلیوں کا مالک ہو جائے گا تالاب کے مالک کا ان مچھلیوں میں کوئی حق نہیں ہوگا تالاب کے مالک کو یہ بھی حق نہیں ہے کہ مچھلیوں کے پکڑنے سے لوگوں کو منع کرے ۔     (ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب: شرائط البیع۔۔۔الخ،ج۷،ص۱۴)
مسئلہ:۔کسی کی زمین میں خود بخود گھاس اگی نہ اس نے لگایا نہ اس نے پانی دے کر سینچا تو یہ گھاس بھی کسی کی ملک نہیں ہے جو چاہے کاٹ لے جائے زمین کے مالک کے لئے نہ اس گھاس کو بیچنا جائز ہے نہ کسی کو منع کرنا درست ہے ہاں البتہ اگر زمین کے مالک نے پانی دے کر سینچا ہو اور محنت کی ہو اور حفاظت و رکھوالی کی ہو تو اس صورت میں وہ گھاس زمین کے مالک کی ہو جائے گی اب اس کو بیچنا بھی جائز ہے اور لوگوں کو اس گھاس کے کاٹنے سے منع کرنا بھی درست ہے۔
مسئلہ:۔کافر نے اگر قرآن مجید خرید لیا تو قاضی کو چاہے کہ اس کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ کسی مسلمان کے ہاتھ فروخت کر دے۔                 (بہارشریعت،ح۱۱،ص۱۸۶)
مسئلہ:۔تاڑی سیندھی شراب کی تجارت حرام ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر اور اس کے خریدنے والے پر اس کے بیچنے والے پر اور اس کو نچوڑنے والے پر اور اس کو چھاننے والے پر اور اس کو اٹھانے والے پر اور یہ جس کے اوپر لادی گئی ہو لعنت فرمائی ہے ۔                     (بہارشریعت،ح۱۱،ص۷۷)
مسئلہ:۔لوہے پیتل وغیرہ کی انگوٹھی جس کا پہننا مرد اور عورت دونوں کے لئے ناجائز ہے اس کا بیچنا مکروہ ہے ۔  (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۶۵)
اسی طرح افیون وغیرہ جس کا کھانا جائز نہیں ایسوں کے ہاتھ بیچنا جو ان کونشہ کے طور پر کھاتے ہیں ناجائز ہے کیونکہ یہ گناہ پر اعانت ہے۔                 (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۰۶)
مسئلہ:۔جس سودے کے متعلق یہ معلوم ہے کہ یہ چوری یا غصب کا مال ہے اس کو خریدنا جائز نہیں۔
مسئلہ:۔رنڈیوں کو حرام کاری یا گانے ناچنے کی اجرت میں جو سامان ملا ہے وہ بھی مال خبیث اور حرام ہے اس کو بھی خریدنا جائز نہیں۔
    کسی نے کوئی چیز بے دیکھے ہوئے خرید لی تو یہ بیع جائز ہے لیکن جب اس سامان کو دیکھے تو اس کو اختیار ہے پسند ہو تو رکھے اور اگر ناپسند ہو تو پھیر دے اگرچہ اس میں کوئی عیب نہ ہو اس کو شریعت میں خیار رؤیت کہتے ہیں۔         (فتح القدیر،کتاب البیوع،باب خیار الرؤیۃ،ج۶،ص۳۰۹)
مسئلہ:۔جب کوئی سودا بیچے تو واجب ہے کہ اس میں اگر کچھ عیب و خرابی ہو تو خریدار کو بتا دے عیب کو چھپا کر اور خریدار کو دھوکہ دے کر بیچنا حرام ہے۔     (الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب فی مسئلۃ المصراۃ،ج۷،ص۲۲۹)
مسئلہ:۔کوئی چیز خریدی اور خریدنے کے بعد دیکھا کہ اس میں عیب ہے مثلاً تھان کو اندرسے چوہوں نے کتر ڈالا ہے یا اندر سے کٹا ہوا ہے تو خریدار کو اختیار ہے کہ چاہے لے لے چاہے واپس کر دے اس کو شریعت میں خیار عیب کہتے ہیں۔          (فتح القدیر،کتاب البیوع،باب خیارا لعیب،ج۶،ص۳۲۷)
مسئلہ:۔جانور کے تھن میں جو دودھ بھرا ہے دوہنے سے پہلے اس کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں پہلے دودھ دوہ لے تب بیچے اسی طرح بھیڑ دنبہ وغیرہ کے بال جب تک کاٹ نہ لے  اس کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ۔  (درمختار،کتاب البیوع،مطلب فی حکم ایجار البرک للاصطیاد،ج۷،ص۲۵۲)
مسئلہ:۔گوبر کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے لیکن آدمی کے پاخانہ کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہاں البتہ اگر آدمی کے پاخانہ میں راکھ اور مٹی اس قدر مل جائے کہ مٹی اور راکھ غالب ہو جائے اور پاخانہ کھاد بن جائے تو اس کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے ۔     (الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۳۴)
مسئلہ:۔احتکار (ذخیرہ اندوزی) ممنوع ہے احتکارکے معنی یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کو اس لئے چھپا کر رکھ لینا کہ جب اس کا بھاؤ زیادہ گراں ہو جائے تو بیچے گا ایسا کرنے سے گرانی بڑھ جاتی ہے اور قحط کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور مخلوق خدا کو ضرر اور نقصان پہنچتا ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور اس کے بارے میں بہت سی وعید کی حدیثیں آئی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جو چالیس دن تک احتکار (ذخیرہ اندوزی) کریگا اﷲ تعالیٰ اس کو جذام (کوڑھ) اور مفلسی میں مبتلا کریگا اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اس پر اﷲ اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ہے اﷲ تعالیٰ نہ اس کی نفلی عبادتوں کو قبول فرمائے گانہ فرض عبادتوں کو (درمختارج۵ص۲۴۶)۔ احتکار (ذخیرہ اندوزی) انسان کے کھانے کی چیزوں میں بھی ہوتا ہے مثلاً اناج شکر وغیرہ اور جانوروں کے چارہ میں بھی ہوتا ہے جیسے گھاس بھوسا ۔
 (الدرالمختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۶۔۶۵۷/ سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ،رقم۲۱۵۵،ج۳،ص۱۵)
مسئلہ:۔احتکار وہیں کہلائے گا جب کہ غلہ کا روکنا وہاں والوں کے لئے مضر ہو یعنی اس کی وجہ سے گرانی ہو جائے یا یہ صورت ہو کہ سارا غلہ اسی کے قبضہ میں ہے اس کے روکنے
سے قحط کا اندیشہ ہے دوسری جگہ غلہ دستیاب نہ ہوگا (ہدایہ ج۴ص۴۵۴) اور اگر کسی نے فصل پر غلہ اس نیت سے خرید کر رکھ لیا کہ جب غلہ کا بھاؤ کچھ گراں ہوگا تو بیچ کر کچھ نفع اٹھاؤں گا تویہ نہ احتکار ہے نہ ممنوع ہے۔
 (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۸،۶۵۸)
مسئلہ:۔احتکار کرنے والوں کو قاضی یہ حکم دے گا کہ اپنے گھر والوں کے خرچ کے لائق غلہ رکھ لے اور باقی فروخت کر ڈالے اگر وہ لوگ قاضی کے حکم کے خلاف کریں یعنی زائد غلہ نہ بیچیں تو قاضی ان لوگوں کو مناسب سزا دے اور ان لوگوں کی حاجت سے زیادہ جتنا غلہ ہوگا قاضی خود اس کو فروخت کر دے گا کیونکہ لوگوں کو پریشانی اور ضرر عام سے بچانے کی یہی صورت ہے ۔
 (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۷،۶۵۸)
مسئلہ:۔بادشاہ کو رعایا کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتو ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے غلہ لے کر رعایا پر تقسیم کر دے پھر جب ان لوگوں کے پاس غلہ ہو جائے تو جتنا جتنا لیا ہے واپس دے دیں ۔  (الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۸)
مسئلہ:۔تاجروں نے اگر چیزوں کی قیمت بہت زیادہ بڑھا دی ہے اور بغیر کنٹرول کے کام چلتا نظر نہ آتا ہو تو حاکم چیزوں کی قیمتیں مقرر کر کے بھاؤ پر کنٹرول کر سکتا ہے اور کنٹرول کی ہوئی قیمت پر جو بیع ہوگی وہ جائز و درست ہوگی۔         (نصب الرایۃ،کتاب الکراہیۃ،فصل فی البیع،ج۴،ص۵۷۱)
error: Content is protected !!