Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پڑوسی کی اذیت سے بچنے کاانوکھاطریقہ:

(17)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی بارگاہ ميں اپنے پڑوسی کی شکايت کی تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنا ساز و سامان راستے پر رکھ دو۔” تو اس نے اپنا سامان راستے پر رکھ ديا، جو شخص بھی وہاں سے گزرتا معاملے سے واقفيت پر اس شرير پڑوسی پر لعنت بھيجتا،پس وہ رسولِ اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہوا اور عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! لوگ مجھے بہت تکليف دے رہے ہيں۔” حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا:”تجھے ان سے کيا تکليف پہنچی ہے؟” اس نے عرض کی:”وہ مجھ پر لعنت بھيج رہے ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا”لوگوں سے پہلے اللہ عزوجل نےتجھ پر لعنت بھيجی ہے۔” عرض کرنے لگا:”ميں آئندہ ايسا کبھی نہيں کروں گا۔” جب وہ شکايت کرنے والا بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے اسے حکم ديا:”اب اپنا سامان اٹھا لو بے شک تمہاری کفايت کر دی گئی۔”  ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۳۵۶ ، ج۲۲ ، ص ۱۳۴)
(18)۔۔۔۔۔۔ دوسری روايت میں یہ الفاظ ہيں کہ”اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا:”اپنا ساز و سامان اٹھا کر راستے پر ڈال دو تو اس نے ايسا ہی کيا جو بھی وہاں سے گزرتا تو اس سے پوچھتا:”تيرا کيا معاملہ ہے؟” وہ کہتا:”ميرا پڑوسی مجھے اذيت ديتا ہے۔” تووہ اس پڑوسی کو بد دعا ديتا ہواچلا جاتا، پس وہ پڑوسی اس کے پاس آيا اور بولا:”اپنا سامان واپس اٹھا لو ميں آئندہ تمہيں کبھی تکليف نہ دوں گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( مجمع الزوائد ،کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی اذی الجار ، الحدیث:۱۳۵۶۸،ج۸، ص ۳۱۰)
(19)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر اپنے پڑوسی کی شکايت کی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا:”جاؤ صبر کرو۔” پھر وہ 2يا3مرتبہ حاضر ہوا تو دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جاؤ اپنے گھر کا سامان راستے پر ڈال دو۔” تو اس نے ايسا ہی کيا، لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے اس سے معاملہ پوچھتےتو وہ انہيں اپنے پڑوسی کی حرکتوں کے بارے ميں بتا ديتا، لہذا وہ اس پر لعنت بھيجنے لگتے کہ اللہ عزوجل اسے سزا دے اور بعض لوگ اسے بددعائيں ديتےتو اس کا پڑوسی اس کے پاس آيا اور کہنے لگا:”واپس لوٹ آؤ آئندہ تم مجھ سے کوئی ايسی چيز نہ ديکھو گے جو تمہيں ناگوار گزرے۔”
( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی حق الجوار ، الحدیث: ۵۱۵۳ ، ص۱۶۰۰)
(20)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! فلاں عورت کا تذکرہ اس کی نماز صدقہ اور روزوں کی کثرت کی وجہ سے کيا جاتا ہے مگر وہ اپنی زبان سے پڑوسيوں کو تکليف ديتی ہے۔” تو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”وہ جہنمی ہے۔” اس نے پھر عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! فلاں عورت نماز و روزے کی کمی اور پنير کے ٹکڑے صدقہ کرنے کے باعث پہچانی جاتی ہے اور اپنے پڑوسيوں کو ايذاء بھی نہيں ديتی۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”وہ جنتی ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث: ۹۶۸۱، ج۳ ، ص ۴۴۲)
(21)۔۔۔۔۔۔ ایک اور روایت میں ہے:”فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی ہے اور ساری رات قیام کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے۔” توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”وہ جہنمی ہے۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!فلاں عورت صرف فرض نمازہی اداکرتی ہے اورپنیرکے ٹکڑے بھی صدقہ کرتی رہتی ہے لیکن اپنے کسی پڑوسی کوتکلیف نہیں پہنچاتی۔”توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:”وہ جنتی ہے۔”     (المرجع السابق)
error: Content is protected !!