Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

راہبوں کا قبول اسلام:

راہبوں کا قبول اسلام:

حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومدین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بلند مرتبہ کے مالک اور ابدال میں سے تھے، کم وقت میں طویل مسافت طے کر لیتے، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر زباں زدِ عام تھا،اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ صاحب ِکرامات وتصرُّفات بزرگ تھے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اُندُلُس کی جامع مسجد خضر میں نمازِ فجر کے بعد بیان فرمایاکرتے تھے۔عیسائی راہبوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے پورے ملک کے گرجوں کی تعداد معلوم کی تو وہ سترتھے۔دس بڑے راہب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو آزمانے کے لئے بھیس بدل کرمسلمانوں کے لباس میں لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ گئے اورکسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیان شروع کرنے لگے توتھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے، پھرایک درزی حاضر ہوا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے استفسار فرمایا:”اتنی دیر کیوں لگادی؟”اس نے عرض کی، ”حضور! آپ کے حکم پررات کو ٹوپیاں بناتے ہوئے دیر ہو گئی۔” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے ٹوپیاں لیں اور کھڑے ہو کر سب راہبوں کو پہنا دیں۔ لوگوں کو اس سے بڑا تعجب ہوالیکن معاملہ ابھی تک واضح نہ ہوا تھا۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بیان شروع کر دیا،جس میں یہ جملہ بھی فرمایا: ”اے فقراء !جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے توفیق کی ہوائیں سعادت مند دلوں پر چلتی ہیں تو وہ ہر روشنی کو بجھا دیتی ہیں۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سانس لیاجس سے مسجد کی تقریباً تیس(30) قندیلیں بجھ

گئیں۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سر جھکائے ہوئے خاموش ہو گئے اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ہیبت سے کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ کوئی بات یاحرکت کرے ۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سر اٹھا کر فرمایا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، اے فقراء!جب عنایت کے انوار مردہ دلوں پر روشنی کرتے ہیں تو وہ راحت و سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر ظلمت ان کے لئے روشن ہو جاتی ہے۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سانس لیا تو تمام قندیلوں کی روشنی لوٹ آئی،اور وہ اتنی بے چینی سے جلِیں کہ قریب تھا کہ ایک دوسرے پر گر پڑتیں۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آیتِ سجدہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جب سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیاتو راہب بھی رسوائی کے خوف سے لوگوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سجدے میں یوں دعا کی: ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تو اپنی مخلوق کی تدبیر اور اپنے بندوں کی مصلحت بہتر جانتاہے ،یہ راہب مسلمانوں کے لباس میں مسلمانوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں سجدہ کئے ہوئے ہیں،میں نے ان کے ظاہر کو تبدیل کر دیا، ان کے باطن کو تبدیل کرنے پر تیرے سوا کوئی قادر نہیں،میں نے انہیں تیرے دستر خوانِ کرم پربٹھا دیاہے تو ان کو کفر کی تاریکی سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل فرمادے۔ راہبوں نے ابھی سر سجدے سے نہ اٹھائے تھے کہ ان سے کفر و شرک کی ناپاکی دور ہو گئی اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے،اور اپنے مقصود کو حاصل کر لیا۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دستِ اقدس پر توبہ کر لی اور اپنے کئے پر ندامت سے آنسو بہانے لگے حتیٰ کہ ان کی چیخ و پکار کی آواز مسجد میں گونج اٹھی۔وہ دن گواہ ہے کہ تین شخص اسی اجتماع میں انتقال کر گئے۔ جب بادشاہ تک یہ بات پہنچی تو اس نے ان سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور انعام واکرام سے نوازا اور حضرتِ سیِّدُناشیخ ابومدین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بھی ان کے قبولِ اسلام سے بہت خوش ہوئے۔

رِقَّت انگیز دُعا:

یا اِلٰہَ العٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ!سوالی تیرے دروازے پر کھڑے ہیں، گنہگار تیری بارگاہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں، حاجت مند اپنی حاجات پیش کر رہے ہیں، عصیاں شعاروں نے تیرے سامنے عاجزی وانکساری سے اپنے سر جھکا لئے ہیں، کوتاہی کرنے والوں کے پاس عذر پیش کرنے کے لئے دلائل ختم ہوگئے ہیں، سائلین کی کشتی تیرے بحرِکرم کے ساحل پرکھڑی ہے، سب اس اجازت نامے کی اُمیدکئے ہوئے ہیں جو تیری رحمت کے کنارے تک پہنچا دے، انہوں نے اپنے ہاتھ تیرے جودوکرم کی موسلا دھار بارش کی طرف بڑھا دئیے ہیں، خائفین کے دل تیری وعیدوں کے خوف سے بے چین ہیں کہ وہ کیسے جواب دیں گے جبکہ تیراعفو وکرم تمام بندوں کوشامل ہے، یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! اگر سائلین کوتیری بارگاہ سے ہی مردود کر دیا گیا تو وہ کس کے پاس جائیں گے؟ اگر گنہگاروں کو تیرے ہی دروازے سے دھتکار دیا گیا تو ان کاوالی کون ہو گا؟ اگر تیری بارگاہ سے دور رہنے والوں کو مایوس کردیا گیا

تو ان کا سہارا کون ہوگا؟ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !جب تائبین تیری بارگاہ میں رجوع کرتے ہیں تو تُوہی ان کی توبہ قبول فرماتا ہے۔
یااللہ عَزَّوَجَلَّ! عارفین معرفت کے ذریعے تجھ تک پہنچ گئے اور عبادت کی کثرت کرنے والوں کی تیری بارگاہ میں حاضری ہو گئی ۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ! متکبرین تیرے جلال کی ہیبت سے لرزتے ہیں، ظالم و جابر تیرے کمالِ اقتدار سے کانپتے ہیں اور تیرے دیدار کی تڑپ رکھنے والے تیرے جمال کا مشاہدہ کرکے راحت پاتے ہیں۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ!محبین کے جگر تیری طلب میں پاش پاش ہوئے جاتے ہیں،قیام کرنے والے تیری مناجات کی لذت سے کامیابی کا ہار پہنتے ہیں،باعمل لوگ تیرے ثواب سے نفع مند ہوتے ہیں اور ہر لمحہ تجھے پیشِ نظر رکھنے والے تیرے قرب میں حاضر ہوتے ہیں۔
یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تیری بارگاہ میں گنہگاراپنے گناہوں پر نادِم،نافرمان شرمندہ ہیں،تیری کڑی نگرانی سے حیاء کے مارے سر جھکائے کھڑے ہیں،خطا کار تیری ہیبت سے خاموش ہیں،خائفین تیری عظیم طاقت سے پارہ پارہ ہو رہے ہیں، یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو صرف عبادت گزاروں پر رحم فرمائے گا تو خواب ِ غفلت میں سونے والوں پر رحم کون کریگا؟ یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو صرف باعمل بندوں پر ہی نظرِ رحمت فرمائے گا تو کوتاہوں کا کیابنے گا؟ یااللہ عَزَّوَجَلَّ!اپنی بارگاہ سے بھٹکے ہوؤں کو اپنی معرفت کے دروازوں کی طرف لوٹا دے ۔ اور بھٹکے ہوؤں کے دلوں کو اپنی مہربانی اور لطف وکرم کے انوار سے ہدایت عطا فرما اور اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ان سب کو اپنے سایۂ عفو و کرم میں داخل فرماکر ان کو اپنی مغفرت سے نواز دے۔(آمین)

وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّم ۔

error: Content is protected !!