زمین پر قبضے کا حکم شرعی

زمین پر قبضے کا حکم شرعی

اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے ’’فتاوی رضویہ‘‘ شریف میں اس موضوع سے متعلق ایک سوال ہوا:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالی، اور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلی، ایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے ؟ فقط
الجواب:فاسق، فاجر، ظالم،جائر، مرتکب کبائر، مستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے، وَالْعِیَاذُبِاللّٰہِ تَعَالٰی۔خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :جو شخص ایک بالشت بھر زمین ناحق لے گا اللّٰہ تعالٰی وہ زمین، زمین کے ساتوں طبقوں تک اس کے گلے میں قیامت کے دن تک طوق بناکر ڈالے گا۔(مسلم،کتاب المساقاۃ،باب تحریم الظلم ۔۔۔الخ،ص۸۷۰،حدیث:۱۶۱۱)
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

فرماتے ہیں :جو شخص کسی قدرزمین ناحق دبالے گا قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبق تک دھنسا دیا جائے گا۔ (بخاری،کتاب المظالم والغصب،باب اثم من ظلم شیئامن الارض، ۲/ ۱۲۹،حدیث:۲۴۵۴)
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :جو شخص ایک بالشت زمین ناحق لے لے اللّٰہ تعالٰی اسے تکلیف دے کہ اس زمین کو کھودے یہاں تک کہ ساتویں طبقے کے ختم تک پہنچے پھر قیامت کے دن اس کا طوق بناکر اس کے گلے میں ڈالے یہاں تک کہ تمام مخلوق کا حساب کتاب ختم ہوکر فیصلہ فرمادیا جائے ۔(مسند احمد،مسند الشامیین،۶/۱۸۰،حدیث:۱۷۵۸۲)
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:جو کسی قدر زمین ناجائز طور پرلے اللّٰہ تعالٰی ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق ڈالے، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔( مسند ابی یعلی،مسند سعد بن ابی وقاص،۱/۳۱۵،حدیث:۷۴۰)
ان احادیث کو لکھنے کے بعد اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :اس شخص پر فرض ہے کہ مسجد کی زمین وعمارت فورا فورا خالی کردے، اوراپنی ناپاک تعمیر جواُن پر کرلی ہے ڈھاکر دور کردے، اللّٰہ قہار وجبار کے غضب سے ڈرے، ذرا مَن دو مَن نہیں بیس پچیس ہی سیرمٹی کے ڈھیلے گلے میں باندھ کر گھڑی دو گھڑی لئے پھرے۔ اس وقت قیاس کرے کہ اس ظلم شدید سے بازآنا آسان ہے یازمین کے ساتوں طبقوں تک کھود کر قیامت کے دن تمام جہان کا حساب پورا ہونے تک گلے میں، مَعَاذَا للّٰہ یہ کروڑوں من کا طوق پڑنا اور ساتویں زمین تک دھنسا دیا جانا، وَالْعِیَاذُبِاللّٰہِ تَعَالٰی،وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمْ۔(فتاوی رضویہ ، ۱۹/۶۶۳)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *