Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ابوعلی جبائی کا غلط استدلال:

گمراہی میں معتزلہ کا امام ابو علی جبائی کہتاہے :”یہ بات تو ثابت ہے کہسَیِّئَۃٌکا لفظ کبھی مصیبت اور بخشش پر بولا جاتا ہے اور کبھی گناہ و معصیت پر، پھر یہ کہ اللہ عزوجل نے سَیِّئَۃٌکی اضافت پہلے اپنی جانب فرمائی پھر دوسری مرتبہ بندے کی طرف، لہٰذا ان دونوں میں تطبیق ضروری ہے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ جب پہلے معنی کے اعتبار سے سَیِّئَۃٌ کا لفظ اللہ عزوجل کی طرف مضاف ہے تو دوسرے معنی کے اعتبار سے اسے بندے کی طرف مضاف کرنا واجب ہے تا کہ دو متصل آیتوں میں پیدا ہونے والا تناقض زائل ہو جائے۔ جبکہ ہمارے مخالفین نے اپنے آپ کو آیت میں تبدیلی کرنے پر آمادہ کر لیا اور فَمِنْ نَفْسِکَ کو اَفَمِنْ نَفْسِکَ پڑھا یعنی اس میں استفہام کا معنی پیدا کیا اور قرآن میں تبدیلی کر کے قرآن میں دو معنی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے رَوافِض کا طریقہ اختیار کیا۔
    اگر یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل نے حَسَنَۃٌ کو اپنی طرف منسوب کیاجو کہ اطاعت ہے اورسَیِّئَۃٌ کو اپنی جانب منسوب نہ کیا، حالانکہ یہ دونوں تمہارے نزدیک بندے کے فعل ہیں(تو اس کا جواب یہ ہے کہ )حَسَنَۃٌیعنی نیکی اگرچہ بندے ہی کا فعل ہے مگر وہ اس تک اللہ عزوجل کے فضل ہی سے پہنچتا ہے ،لہٰذا اس کی اضافت اللہ عزوجل کی طرف درست ہے جبکہ سَیِّئَۃٌ کی اضافت اللہ عزوجل کی طرف نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو اللہ عزوجل نے برائی کی، نہ اس کا ارادہ فرمایا، نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی رغبت دلائی، لہٰذا مِنْ جَمِیْعِ الْوُجُوْہ اس کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف سے ختم ہو گئی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

error: Content is protected !!