سزا کا مستحق ہے

سزا کا مستحق ہے

صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبہارِشریعت جلد2صفحہ 407پرلکھتے ہیں: جو شخص مسلمان کو کسی فعل یاقول سے اِیذا پہنچائے اگرچہ آنکھ یاہاتھ کے اِشارے سے وہ مستحقِ تعزیر ہے ۔ ۱؎
(الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶)

بُرے خاتِمے کے چار اسباب

شرحُ الصُّدور میں ہے، بعض عُلَماء ِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں : بُرے خاتمے کے چار اَسباب ہیں:(۱)نماز میں سُستی (۲) شراب نوشی

(۳)والدین کی نافرمانی(۴) مسلمانوں کو تکلیف دینا ۔ (شرحُ الصُّدور ص ۲۷)
مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت
پئے سیِّدِ مُحْتَشَم یاالٰہی
(وسائلِ بخشش،ص۵۷۳)

(حکایت:3)
چھڑی باغ میں واپس رکھ آئے

حضرتِ سیِّدُناصالح دَہّان علیہ رحمۃُ الحنّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا جابربن زید رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک مرتبہ اپنے گھروالوں میں سے کسی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے ایک باغ سے گزرے تو کتوں کو بھگانے کے لئے وہاں سے ایک شاخ اٹھالی اورگھرلوٹتے وقت مسجدمیں رکھ دی ۔مسجدمیں موجود لوگوں سے کہا : اس کا خیال رکھنا ! یہ میں نے ایک قوم کے باغ کے پاس سے گزرتے وقت اٹھالی تھی ۔ لوگوں نے کہا : اے ابوشَعْثاء ! اس شاخ کی کیا اہمیت ہے ؟ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اگرباغ سے گزرنے والا ہرشخص ایک ایک شاخ لیتارہے توباغ میں کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ چنانچہ صبح ہوئی توآپ وہ شاخ اُسی باغ میں واپس رکھ آئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ، جابر بن زید ، ۳/ ۱۰۳ ، رقم : ۳۳۳۵)

دو اچھی اور دو بُری خصلتیں

منقول ہے:دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے افضل کوئی خصلت نہیں: (۱)اللّٰہ تعالٰیپر ایمان لانا(۲)مسلمانوں کو نفع پہنچانا، جبکہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ

ان سے زیادہ بُری کوئی خَصلت نہیں(۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲)مسلمانوں کو تکلیف دینا۔ (اَلمُنَبِّہات،ص۳)
کروں یا خدا مومِنوں کی میں خدمت
نہ پہنچے کسی کو بھی مجھ سے اَذِیَّت

(حکایت:4)
عبادت کا طعنہ دینے کا انجام

بَحْرُ الْعُلُوْم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنّان علیہ رحمۃُ المنّان اپنے دادا مرحوم عبدالرحیم بن دوست محمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:دادا جان ایک بازار میں مزدوری کرتے تھے،ایک دفعہ اُجرت لینے کے لئے اس شخص کے پاس گئے جس کے یہاں مزدوری کرتے تھے تو اس کے لڑکے نے کہا:ابھی گزشتہ ہفتے تو خرچی لے کر گئے تھے،آج پھرچلے آئے،اتنی عبادت و ریاضت تو کرتے ہیں،اسی سے خوب ڈھیر سارا روپیہ کیوں نہیں مانگ لیتے!دادا جان نے ان کو کوئی جواب نہ دیا،فوراً گھر واپس لوٹ آئے اور دیر تک یہ فرماتے رہے:کیسے لوگ ہیں،یہ مسلمان کہے جائیں گے؟اللّٰہ کا نام لینے اور بندگی کرنے پر طعنہ دیتے ہیں۔بھلا ان لوگوں کو کیا احساس ہوتا،البتہ حضرت اس جملے پر نہایت دُکھی رہے اور آپ نے اس شخص کے لئے کام کرنا چھوڑ دیا۔بحر العلوم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مزید فرمایا: اللّٰہ تعالٰیکسی کی سرکشی پسند نہیں فرماتا،میرے زمانے تک وہ لوگ زندہ رہے،ساری اکڑفوں ختم ہوگئی تھی۔ ان میں ایک صاحب تو اس طرح مرے کہ مرتے دم انہیں کوئی ایک چمچہ پانی دینے
والا نہ تھاحالانکہ تین چار جوان بچے موجود تھے۔ (بحرالعلوم نمبر ملخصاً،ص۲۲۴)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ :تَعْزِیر:کسی گناہ پر بغرضِ تادِیب (اَدَب سکھانے کے لئے)جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزیرکہتے ہیں ،شارِع نے اس کے لئے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیارصرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو، آقا غلام کو ،ماں باپ اپنی اولاد کو، اُستاذشاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔(بہارِ شریعت 2/403 بحوالہ الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶) اس کے تفصیلی مسائل جاننے کے لئے بہارِ شریعت جلد2کے حصہ 9 صفحہ 403کا مطالعہ کیجئے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *