Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سلطنت دے کر درویشی خریدی:

سلطنت دے کر درویشی خریدی:

حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم خراسان کے بادشاہ تھے،ایک دن اپنے لشکر کے درمیان گھوڑے پر سوار تھے کہ آپ نے گھوڑے کی زین سے کسی پکارنے والے کی ندا سنی:”اے ابراہیم! ہمارے بندے اس لئے نہیں پیدا کئے گئے،اور نہ ہی ہم سے محبت کرنے والوں کو اس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا اپنی چاہت کو میری چاہت پر قربان کر دو،وگرنہ تم اہلِ عناد میں سے ہو جاؤ گے۔”آپ فرماتے ہیں:”اس آوازنے میرے دل میں تیر پیوست کر دیا،میں نے اپنے ملک وسلطنت اور اہل وعیال کو چھوڑا اور اسی کی طرف حیران وپریشاں نکل گیا جس پر مجھے بھروسہ و اعتماد ہے۔”
جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم اپنے ملک و سلطنت کو چھوڑ کر مالک ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کے لئے سفر کرتے ہوئے ایک گاؤں میں داخل ہوئے،تو آپ غم سے نڈھال ہو چکے تھے۔ راستے میں اپنے رفیق سے بِچھڑ گئے، سات دن تک نہ تو پانی کا گھونٹ پیا اور نہ ہی کوئی لقمہ کھایا۔ شیطان کو آپ کی صداقت پر غیرت آئی،کیونکہ وہ حقیقت کے بادشاہوں اور طریقت کے سلاطِین، اکابرین پر غیرت کرتا ہے۔ اور اُسے غیرت آنی بھی چاۂے کیونکہ انہوں نے وہ مبارک لباس پہن لیا جو شیطان سے اُتار لیا گیا تھا، اور انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کوحاصل کر لیا جس سے شیطان کو دُھتکارا گیا تھا۔ چنانچہ، شیطان ایک نیک بزرگ کی شکل میں ظاہر ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابراہیم! بات سنو، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ محبوب جس کی وجہ سے تم نے سلطنت چھوڑ دی اور جس کی محبت میں تم نے مصائب وآفات اور ہلاکت کے گھوڑوں پر سواری کی، اس نے توتمہارا نقصان کیا اور تمہیں موت کے قریب کر دیا ۔”تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب اپنے مقصودکے ضائع ہو جانے سے امان حاصل ہو جائے تو موت کے آنے میں کوئی نقصان نہیں۔”
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم ابھی اسی حیرانگی کے عالم میں تھے کہ ایک خوبصورت شخص آپ کے پاس آیا، جس کی خوشبو سب کو معطَّر کر رہی تھی اور کہنے لگا:”اے ابراہیم! کیا آپ اسمِ اعظم سیکھنا چاہتے ہیں جس کی بدولت آپ کو پانی پلایا جائے اور کھانا بھی کھلایا جائے۔”آپ نے فرمایا: ” جی ہاں۔”تو اس نے آپ کو اسمِ اعظم سکھادیا ۔آ پ نے اس سے پوچھا: ”آپ کون ہیں ؟” جواب دیا :”میں آپ کا بھائی خضر (علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام )ہوں۔” پھر حضرت سیِّدُنا خضرعلٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :”اگر آپ چاہیں تو میری صحبت اختیارکر سکتے ہیں۔”آپ نے فرمایا:”نہیں ۔”انہوں نے پوچھا: ”کیوں؟” تو ارشاد فرمایا:”اس لئے کہ صحبت، شرکت سے حاصل ہوتی ہے اورمیں جس کی محبت میں گرفتار ہوں،اس میں کسی کو شریک نہیں کرناچاہتا،اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی کی صحبت اختیار کرنا چاہتا ہوں اور میں کسی غیر کی صحبت اختیار کرنے میں اس سے ڈرتا ہوں کیونکہ وہ بہت زیادہ غیرت مند ہے،لہٰذا مجھے اس کی حاجت نہیں۔”

حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے جب اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑا تھا تو وہ حاملہ تھیں،ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام گھر والوں نے دادا کے نام پر رکھا۔ جب وہ بڑا ہوا اور جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو اپنی والدہ سے پوچھا : ”اے میری ماں ! کیا میرے والد نہیں؟”تو والدہ نے جواب دیا :”کیوں نہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تمہارے والد ہيں۔ ”اس نے پھر پوچھا: ”وہ کہا ں چلے گئے؟”ماں نے جواب دیا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی تلاش میں۔” نوجوان بیٹے نے عرض کی: ”اے میری والدۂ محترمہ! پھر آپ مجھے بھی جانے دیں،میں بھی اسی کو تلاش کرتا ہوں جسے میرے والد ِمحترم تلاش کر رہے ہیں،شاید! میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں۔”ماں نے کہا :”تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے میرے بیٹے!تیرے باپ کی جدائی سے میرا دل بہت جَلا ہے، اب تو اپنے فراق سے میرے دل کو مزید نہ جلا۔” چنانچہ، وہ فرمانبرداربیٹااپنی ماں کی خوشی کی خاطر رُک گیا حتّٰی کہ ماں کا انتقال ہو گیاتو وہ بہت غمگین رہنے لگا، کیونکہ اب نہ اس کی ماں تھی،نہ اسے باپ کا پتہ تھا۔ پھر وہ نوجوان ننگے پاؤں گھر سے نکل پڑا، لوگوں سے ڈرتے ڈرتے ویران مساجد میں راتیں گزارتا ،دروازوں سے کھانے کے لقموں کا سوال کرتا ، یہاں تک کہ مکہ مکرَّمہ پہنچ گیا۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم طواف میں مشغول تھے، اورآپ کے کچھ مرید بھی آپ کے ساتھ طواف کر رہے تھے۔جب آپ کی نظر ایک نوجوان لڑکے پر پڑی تو بے ساختہ آپ کی نگاہیں اس پر جم گئیں،آپ کے ارادت مندوں نے عرض کی :”حضور! اس عظیم مقام اور بابرکت وقت میں یہ کیسی غفلت ہے کہ آپ ایک خوبصوت نوجوان لڑکے کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ رونے لگے اور ایک مُرید سے فرمایا: ”اس کے پاس جاؤ اور پوچھو، یہ کون ہے؟” مرید نے اس کے پاس جا کر سلام کیا،اور بعد ِ سلام پوچھا : ”اے نوجوان! کہاں سے آئے ہو؟” اس نے جواب دیا: ”عجم کے شہر بلخ سے ۔”پھر پوچھا: ”کس کے بیٹے ہو؟”جواب دیا:”یہ تو مجھے معلوم نہیں،ہاں!میری والدہ محترمہ نے مجھے بتایا تھاکہ تمہارے باپ کا نام ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم ہے۔”پھر اس کے رخسار پر موتیوں کی طرح آنسوؤں کی لڑی بن گئی۔
وہ مرید فرماتے ہیں :”میں اپنے پیرو مرشد حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم کے پاس لوٹا اور دیکھا کہ آپ بھی رو رہے ہیں حتّٰی کہ آپ بےہوش ہو گئے، تو میں آپ کے سرِ اقدس کے پاس بیٹھ گیااور جب آپ کو افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: ”اے میرے مرشد! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سے اس نوجوان بیٹے کا حق ضرور وصول کریگا۔” آپ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے،اس کو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے چھوڑدیا تھا، اب میں اس کو واپس لینا نہیں چاہتا۔”میں نے عرض کی:” حضور! میں آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اس کے پاس چلئے۔” چنانچہ، آپ تشریف لے گئے،اس نے پوچھا :”آپ کون ہیں؟” فرمایا: ” میں تمہارا باپ ابراہیم بن ادہم ہوں۔”پھر آپ نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض گزار ہوئے:”یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !یہ میرا بیٹا ،میرے جگر کا ٹکڑا میری تلاش میں آیا ہے، او رتو جانتا ہے کہ میرے دل میں اس کے لئے کتنی

جگہ ہے ،اور یہ بھی جانتا ہے کہ میں اس کے لئے وقت نہیں نکال سکتا،اورتو اپنے بندوں کی مصلحتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔”اس کے بعد سات دن نہ گزرے تھے کہ آپ کے بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے اپنے ہاتھوں سے اس کو غسل دیا، پھر ایک موٹی چادر میں کفن دیا۔ جب آپ اس کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ظاہر ہو جاتے، اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر سے چادر کم پڑ جاتی ۔آپ فرما رہے تھے : ”اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میری اور تمہاری ملاقات بروزِ محشر ہو گی۔”

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن

error: Content is protected !!