Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شادی میں ہونے والے غیر شرعی کام

🔥🚫 *شادی کی خرافات*🚫🔥

ہماری شادیوں میں نیک دن و تاریخ رکھنے اور دلہن کو قرآن کے سائے میں رخصت کرنے کے علاوہ کیا کیا ہوتا ہے؟

*🔥فوٹو گرافی:*

بعض لوگ شادی کی تقریبات میں فوٹو گرافی کا اہتمام کرتے ہیں، غیر محرم آدمی کو بلاتے ہیں کہ برائے مہربانی ہماری بہنوں، بیٹیوں کی تصاویر بناؤ۔
ان کے جسم کے ایک ایک حصہ کو مختلف زاویوں سے کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کرو۔

*🔥ویڈیو فلم:*

اسی طرح فوٹو گرافی سے بڑھ کر بے غیرتی ویڈیو فلم کا اہتمام ہے، غیر محرم آدمی کو لوگ بلاتے ہیں کہ برائے مہربانی ہماری بہنوں، بیٹیوں کی تصاویر بناؤ۔
ان کے جسم کے ایک ایک حصہ کو مختلف زاویوں سے کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کرو۔

ان کی ایک ایک حرکت کو اچھی طرح ملاحظہ کرتے ہوئے، اس کو مکمل طور پر ویڈیو ریکارڈ کرو تاکہ جب شوق چرائے ہم خود بھی اور کئی دوسرے بے غیرت مل کر اپنی معزز بہنوں بیٹیوں کی حرکات کو دیکھ سکیں اور جب مووی میکر فلم بنا کر فارغ ہوتا ہے تو اس کو بڑی عزت کے ساتھ یہ مسلمان معاوضہ پیش کرتا ہے کہ اس کو قبول کیجئے آپ نے ہماری عورتوں کا اچھی طرح نظارہ کیا ہے، یہ آپ کی خدمت کا حق ہے۔

شریعت کا تھوڑا سا بھی علم رکھنے والا شخص یہ جانتا ہے کہ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے سخت خلاف ہے۔

*🔥دولہا اور دلہن کے لئے اسٹیج کا اہتمام:*

بعض علاقوں میں تکمیل
نکاح کے بعد ایک اسٹیج بنایا جاتا ہے۔

جس کے اوپر دولہا اور دلہن بھری محفل میں رونق افروز ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ دولہا کے رشتہ دار مرد بھی وہاں موجود ہوتے ہیں جن کے سامنے دلہن کا بے حجاب ہونا منع ہے۔

*🔥دلہن کی نمائش:*

بننا سنورنا اور زیب و زینت خواتین کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہ اپنی ذات میں کوئی قابل اعتراض بات بھی نہیں ہے۔ اس لیے دین اسلام میں اس عمل پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں شادی بیاہ کے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کا ایک اجتماعی موقع بن جاتا ہے۔
عام طور پر ہماری شادی کی مجالس یا تو مخلوط ہوتی ہیں یا پھر مرد خود ہی دندناتے ہوئے خواتین کے حصے میں آ جاتے ہیں۔
یوں اللہ تعالیٰ کا حکم سر عام پامال ہوتا ہے۔

مگر سب سے بڑھ کر اس موقع پر دلہن کے طور پر موجود لڑکی کا وجود مجسم اس حکم کی خلاف ورزی بنا ہوا ہوتا ہے۔

سولہ سنگھار کی ہوئی دلہن کو بنا سنوار کر اسٹیج پر بٹھادیا جاتا ہے، زیورات اور لباس کی نمائش کے لیے دلہن کے دوپٹے کو سینے سے ہٹا کر باہتمام پیچھے کمر پر ڈال دیا جاتا ہے۔

یوں کھلے گلے اور چھوٹی آستین کے ساتھ ممکنہ حد تک جسم کی نمائش کا اہتمام بھی ہو جاتا ہے۔
فوٹوگرافر اور مووی بنانے والے سرعام کیمرے کی آنکھ سے دلہن کو ٹٹولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلہن جسے اس وقت سب سے بڑھ کر اللہ کی رحمت کی ضرورت ہوتی ہے، اپنی نمائش کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوجاتی ہے۔

*🔥قیمتی جہیز کا ظالمانہ مطالبہ:*

لڑکے والوں کیطرف سے جہیز کا مطالبہ غیر مسلموں کی رسم ہے۔ اپنی بیویوں اور عورتوں کے ورثاء کو جہیز کے ظالمانہ مطالبے سے پریشان نہیں کرنا چاہیے۔

سادگی نکاح کا حسن ہے…
نبی کریم ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ وہ نکاح بابرکت ہے جس میں خرچ کم ہو۔

اللہ ہم سب کو شریعت مطہرہ کے مطابق پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین
❤️🤲🏻❤️🤲🏻❤️🤲🏻❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!