Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صحابیِ رسول کا آسان نکاح

صحابیِ رسول کا آسان نکاح

مشہور صحابی اور بارگاہِ رسالت کے خادمِ خاص حضرت سَیِّدُنا ربیعہ بن کَعْب  اَسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں رہا کرتا تھا ، ایک مرتبہ رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم نکاح کیوں نہیں کرتے؟میں نے عرض کی کہ ایک تو یہ کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، دوسرا یہ کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی چیز آپ کی خدمت گُزاری کرنے میں رُکاوٹ کا سبب بنے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ (کچھ عرصہ بعد) پھر وہی سوال کیا۔ میں نے بھی جواب میں وہی بات عرض کی ۔ میں نے سوچا کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ خُوب جانتے ہیں کہ دُنیا و آخرت میں میرے لئے کون سی چیز  بہتر ہے لہٰذا  اگر اب کی بار رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہی ارشاد فرمایا تو میں ضرور نکاح کر لوں گا۔ چنانچہ ، جب تیسری بار ارشاد فرمایا : تم نکاح کیوں نہیں کرتے میں نے عرض کی : یارسولَالله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! جس سے چاہیں میرا نکاح کر دیجئے!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے انصار کے ایک قبیلے کے پاس بھیجا کہ اُن سے جا کر کہنا کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےمجھے اِس لئے بھیجا ہے کہ تم اپنے خاندان کی فلاں لڑکی سے میرا نکاح کردو۔ چنانچہ میں نے جاکر اُنہیں یہ پیغام سُنایا تو انہوں نے خُوش آمدید کہا اور میری بہت عزّت کی اور میری شادی کردی ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ذریعے ادائیگیِ مہر کیلئے گٹھلی بھر سونے کا اور ولیمہ کیلئے ایک فربہ مینڈھے کا انتظام بھی فرمادیا۔ (1)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور کیجئے!!ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مُبارَک زمانے میں کس قدر سادہ ، سَسْتی اور آسان شادیوں کا رَواج ہوا کرتا تھا کہ گٹھلی کے وزن برابر سونے کے بدلے نکاح ہوگیا اور صرف ایک مینڈھے کے ذریعے ولیمے کی سنّت ادا کردی گئی ، صرف یہی نہیں بلکہ خود ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُبارَک نکاح اور شہزادیِ کونین حضرت سَیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نکاح بھی ہمارے لئےبہترین نمونہ ہے۔   ، 
________________________________
1 –   مسند احمد ، مسند الـمدنیین ، ۵ / ۵۶۹ ، حديث :  ۱۶۵۷۷ملخصا
error: Content is protected !!