Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عورت کا اپنے شوہر کے لیے زیور پہننا کیسا ،ستر عورت کسے کہتے ہیں؟

سوال: کیا عورت کے لیے آواز والا زیور پہننا بالکل منع ہے؟💛❦︎……..🌹꧁
جواب: ایسا نہیں ہے ،بلکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ: عورت کا بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے مشابہت ہے۔👈🏻اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ بجنے والا زیور عورت کے لیے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مثلاً (خالہ ،ماموں، چچا، پھوپھی کے بیٹوں ، جیٹھ ، دیور ،بہنوئی) کے سامنے نہ آتی ہوں ، نہ ان کے زیور کی چھنکار نا محرم تک پہنچے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے! “اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر” (النور 31) یعنی شوہر کے لیے پہننا جائز ہے۔🌸❀………💙♡︎

سوال: عورت کا اپنے شوہر کی رضامندی کے لیے زیور پہننا کیسا؟📙❥︎
جواب: کارِ ثواب ہے۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت کا اپنے شوہر کے لیے زیور پہننا ، بناؤ سنگار کرنا اجرِ عظیم کا باعث اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے۔ اور دلھن کو سجانا سنتِ قدیمہ اور بہت سی احادیث سے ثابت ہے ، بلکہ کنواری لڑکیوں کو زیور لباس سے آراستہ رکھنا کہ ان کی منگنیاں آئیں یہ بھی سنت ہے۔(فتاویٰ رضویہ)✪»»»»»»💜✍︎

سوال: سِترِ عورت کسے کہتے ہیں؟♡︎♥️♥︎
جواب:⛓️☜︎︎︎ سِتر کے لغوی معنی ہیں چھپانا ، ڈھانپنا۔ جن اعضاء کا چھپانا ضروری ہے ان کو عورت کہتے ہیں ، اور مجموعی طور پر چھپانے کے اس عمل کو سَترِ عورت (یعنی پوشیدہ اعضاء کا چھپانا) کہتے ہیں۔ 👈🏻سَترِ عورت (یعنی ستر چھپانا) ہر حال میں واجب ہے خواہ نماز میں ہو یا نہیں ، تنہا ہو یا کسی کے سامنے ، بِلا کسی غرضِ صحیح کے تنہائی میں بھی سِتر کھولنا جائز نہیں ، اور لوگوں کے سامنے اور نماز میں تو سِتر (چھپانا) بالاجماع فرض ہے۔(بہارِ شریعت)⭐❥︎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!