Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قَبْر میں آگ بھڑک اُٹھی

قَبْر میں آگ بھڑک اُٹھی

    حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن شُرَحْبِیْل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص انتِقال کر گیا جس کو لوگ مُتَّقِی اورپرہیزگار سمجھتے تھے ۔جب اُسے قَبْرمیں دفن کیا گیا تو فِرشتوں نے فرمایا:” ہم تجھ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے 100 کوڑے ماریں گے۔ اس نے پوچھا : ”کیوں مارو گے؟ میں تو تقویٰ وپرہیز گاری کو اِختیارکئے ہوئے تھا۔”توفِرِشتوں نے فرمایا:” چلو پچاس کوڑے ہی ماردیں گے۔” اس پر وہ شخص برابر بحث کرتا رہا یہاں تک کہ وہ فرشتے ایک کوڑے پر آگئے اور انہوں نے عذاب ِالٰہی کا ایک کوڑا مارا جس سے تمام قَبْر میں آگ بھڑک اُٹھی!تو اُس نے پوچھا کہ تم نے مجھے کوڑا کیوں مارا ؟فِرِشتوں نے جواب دیا:” تُو نے ایک دن جان بوجھ کربے وُضو نَماز پڑھی تھی۔ اور ایک مرتبہ ایک مظلوم تیرے پاس فریاد لے کر آیا مگر تو نے اس کی مدد نہ کی۔”
 (شرح الصّدورص165،حِلیۃُ الاولیاء ج4ص157رقم 5101)
     اسلامی بہنو!بے وُضو نَماز پڑھنا سخت جُرأَت (جُر۔ءَ۔ت)کی بات
ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام یہاں تک فرماتے ہیں: بِلاعُذرجان بوجھ کر جائز سمجھ کر یا اِستِہزاء ً(اِسْ۔تِہ۔زاء ً۔یعنی مذاق اڑاتے ہوئے) بِغیروُضو کے نَماز پڑھنا کُفرہے۔
   (منح الروض الازھر للقاری ص468)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
error: Content is protected !!