مئے محبوب سے سرشار کردے اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے

مئے محبوب سے سرشار کردے
اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
گما دے اپنی اُلفت میں کچھ ایسا
نہ پاؤں میں میں میں جو بے بقا ہے
پلادے مَے کہ غفلت دُور کردے
مجھے دنیا نے غافل کردیا ہے
عطا فرما دے ساقی جامِ نوری
لبالب جو چہیتوں کو دیا ہے
ثنا لکھنی ہے محبوبِ خدا کی
خدا ہی جن کی عظمت جانتا ہے
میں تیرے فیض سے کچھ کہہ سکوں گا
میں کیا ہوں اور مرا یارا ہی کیا ہے
سنا اے بلبل باغِ مَدینہ
ترانہ اور دل یہ چاہتا ہے
سنا نوریؔ غزل اس کی ثنا میں
ثنا جس کی ثنائے کبریا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!