ماہِ رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت:

ماہِ رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت:

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے، جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا

کرتے: ”رمضان المبارک کے پورے مہینے کو مرحبا! اس کے دن میں روزے ہیں اور راتوں میں قیام اور اس میں بیوی بچوں پر خرچ کرنا اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔”

روزے داروں کی شان:

حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”بروزِ قیامت روزے دار اپنی قبروں سے نکلیں گے تو اپنے روزے کی خوشبو سے پہچانے جا ئیں گے اور اُن کے مونہوں سے مُشک سے بھی تیز خوشبو نکل رہی ہو گی۔ ان کے پاس دسترخواں اور صُراحیاں لائی جائیں گی جن کے منہ مُشک سے بندھے ہوئے ہوں گے، پھر اُن سے کہاجائے گا: ”کھاؤکہ تم اس وقت بھوکے رہتے تھے جب لوگ پیٹ بھرکر کھاتے تھے اور پیؤکہ تم اس وقت پیاسے رہتے تھے جب لوگ سیراب ہوتے تھے اور آرام کرو کہ تم اس وقت تھکتے تھے جب لوگ آرام کر رہے ہوتے تھے۔ تووہ کھا ئیں پئیں گے اورآرام کریں گے حالانکہ لوگ تھکے ماندے اور پیاسے حساب کتاب میں مشغول ہوں گے۔”

(کنز العمال ،کتاب الصوم، الباب الاول، الفصل الاول،الحدیث۲۳۶۳۹،ج۸،ص۲۱۳،بتغیر قلیل)

پیارے اسلامی بھائیو!یہ ماہِ رمضان کے روزہ داروں کے لئے بشارت ہے جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خطاؤں اور نافرمانیوں سے بچاتے رہیں گے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے روزے رکھیں گے۔ پس اس گناہ گار کا کیاحال ہو گا جو روزہ رکھنے کے باوجود اپنے بھائیوں کا گوشت کھاتا ہے اورنما زاس طرح پڑھتا ہے کہ اس کاجسم ایک جگہ ہوتا ہے اور دل دوسری جگہ۔ زبان سے تو ذِکْرِاِلٰہی عَزَّوَجَلَّ کرتا ہے مگر دل فلاں فلاں کی یادمیں مشغول ہوتا ہے؟ اوراے وہ شخص جو اس حال میں صبح کرتا ہے کہ خسارے کا سبب بننے والے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے اور شا م اس اُمید پر کرتا ہے جس کی دیوار موت کے ہاتھوں گرنے والی ہوتی ہے پس عنقریب تو جان لے گا کہ کل بروزِ قیامت کون شرمندہ ہوکر آئے گا اور اس ماہِ مبارک میں گناہ کی وجہ سے وہ اس وقت خون کے آنسو رورہا ہو گا۔
اے روزے ترک کرنے والے! کیا تو نے اپنی تنگ قبر کے لئے تیاری کرلی ہے؟ یا تیرے پاس کوئی ایسا عمل ہے جو حشر میں تیری نجات کا ذریعہ بنے ؟یاماہِ رمضان میں روزے کی حدودکی حفاظت کی ہے یا اس کی حرمت پامال کر دی؟ کتنے ہی روزے فاسد ہو گئے لیکن فر ض ساقط نہ ہوا؟ کتنے ہی روزے دار ہیں جنہیں بروزِ قیامت حساب وکتاب ذلیل وخوار کریگا؟ کتنے ہی نافرمان ہیں جن سے اس مہینے میں زمین پناہ مانگتی ہے اور آسما ن اس کے اعمال کاشکوہ کرتاہے؟ اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ میں بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مقبول ہوں یا مردود، بدبخت ہوں یا خوش بخت۔ مگر یہ معاملہ پوشیدہ ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم!

سعادت مند ہے وہ جس نے اس مہینے کی قدرکی اور اپنے اعضاء کو گناہوں سے باز رکھا۔ اور بدبخت ہے وہ جسے اپنے روزوں سے بھوک وپیاس کے سوا کچھ نہ ملا :

شَھْرُالصِّیَامِ لَقَدْ عَلَوْتَ مُکَرَّمًا وَغَدَوْتَ مِنْ بَیْنِ الشُّھُوْرِ مُعَظَّمَا
یَا صَائِمِیْ رَمْضَانَ ہٰذَا شَھْرُکُمْ فِیْہِ اَبَاحَکُمُ الْمُھَیْمِنُ مَغْنَمَا
یَا فَوْزَ مَنْ فِیْہِ اَطَاعَ اِلٰھَہُ مُتَقَرِّبًا مُتَجَنِّبًا مَا حَرَّمَا
فَالْوَیْلُ کُلُّ الْوَیْلِ لِلْعَاصِی الَّذِیْ فِیْ شَھْرِہِ اَکَلَ الْحَرَامَ وَاَجْرَمَا

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے ماہِ رمضان! تو عزت وشان کے ساتھ بلند ہوا اور تمام مہینوں سے زیادہ عظمت والا ہو گیا۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اے ماہِ رمضان کے روزے رکھنے والو! یہ تمہارا مہینہ ہے، اس میں اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہارے لئے اپنی نعمتیں عام فرمادی ہیں۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اے کامیاب شخص ! جس نے اس مہینے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کیا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔پس اس نافرمان کی ہلاکت و بربادی ہے جس نے اس مہینے میں بھی حرام کھایا اور جرم کا مرتکب ہوا۔
سُبحانَ اللہ عزَّوَجَلَّ!کیا شان ہے ان لوگوں کی!اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کو توفیق دی تو انہوں نے روزے رکھے اور قیام کی طاقت دی تو انہوں نے طویل قیام کیا،انہوں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے اپنے کلیجوں کوپیاسارکھا تواس نے انہیں ہر پریشانی سے راحت بخشی اور ان کی مرادوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ انہیں کافی ہوگیا اور وہ سب کچھ چھوڑکر اطاعتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مصروف ہوگئے۔خوش نصیب ہیں وہ جنہوں نے طاعت الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں راتیں بسر کیں تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کو عمدہ مناجات کی لذَّات سے تازگی عطا فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے بہت بڑے اجر کو پالیا۔اے لوگو!تم ماہِ رمضان کی جدائی میں افسردہ ہو اور تہجد اور تراویح کی راتیں ختم ہو جانے پر غمزدہ ہو کیونکہ یہ ایسا موسم ہے جس میں تم رحمت کی بارش اور دعاؤں کی قبولیت پاتے ہو ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ رمضان کے روزوں اور راتوں کے قیام میں کیونکررغبت نہ کی جائے؟ اس مہینے کے جانے پر کیونکر افسوس نہ کیا جائے جس میں تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں؟ اوراس مہینے پرکیونکر نہ رویاجائے جس میں نیکی کرنے والے کا نفع اورغنیمت کا موقع فوت ہوجائے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *