ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے؟

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے؟

حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ میں ایک قبرستان میں زیارت ونصيحت اور موت کے متعلق غوروفکر اورعبرت حاصل کرنے کی خاطر آیا۔ میں نے تمنا کی کہ کوئی شخص مجھے ان کے متعلق کچھ بتائے یا ان کا کوئی عبرت ناک واقعہ بیان کر ے۔ چنانچہ، میں نے ایسی غم بھری آواز میں درج ذیل شعر پڑھا کہ جس نے غوروفکر سے میرے غموں کے چقماق کو آگ لگا دی (چقماق ایک مخصوص پتھر ہے جس کو رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے):

أتَیْتُ الْقُبُوْرَ فَنَدَیْتُہَا فَاَیْنَ الْمُعَظَّمُ وَالْمَحْتَقَر
وَأیْنَ الْمُدِلُّ بِسُلْطَانِہٖ وَاَیْنَ الْعَزِیْزُ اِذَا مَا افْتَخَر

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔میں قبروں کے پا س آیا اورانہیں پکار کرکہا: کہا ں ہیں وہ لوگ، دنیا میں جن کی عزت کی جاتی تھی اور وہ جن کو حقیر سمجھا جاتا تھا؟
(۲)۔۔۔۔۔۔اور کہا ں ہیں وہ جنہیں اپنی سلطنت پر بہت بھروسہ تھا؟ کہا ں ہیں وہ عزت دار جو فخرکیا کرتے تھے؟
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”میں وجد سے بے ہوش تھا کہ مجھے ایک قبرسے جواب ملا جس کا مفہوم یہ ہے:
”وہ سب فنا ہو گئے، اب ان کی خبر دینے والا بھی کوئی نہیں، وہ سب مر کر عبرت کا نشان بن گئے اور بارگاہِ ربُّ العزَّت میں حاضر ہو گئے ۔ اے گزرے ہوئے لوگوں کے بارے میں مجھ سے پوچھنے والے! کیا تیرے پاس ان گزرے ہوؤں کی عبرت والی کوئی بات نہیں۔” حضرتِ سیِّدُنامالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں: ”جب میں واپس آیا تومسلسل آنسو بہارہا تھا اور مجھے اس سے بہت عبرت حاصل ہوئی۔
ایک مردِ صالح فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں نے قبروں کی زیارت کی تو میرے دل میں نارِجہنم کے خوف کا شعلہ

بھڑک اُٹھا۔ میں ایک لمحہ کے لئے قبروں کے پاس ٹھہر گیا اور نگاہِ عبرت سے ان کو دیکھنے لگا اور اس کے بعد صبح وشام کے دونوں کناروں میں اہلِ قبر سے سرگوشیاں کرتا اور بیٹھا رہتا۔ پس میری سوچ غوروفکراور عبرت کے میدان میں گھومنے لگی تو میں نے ان کو مخاطب کرکے کچھ باتیں کی جنہیں میں نے پیارے پیارے اشعار کی لڑی میں اس طرح پرو دیا:

أحْبَابُنَا فَارَقْتُمُوْنَا فَاَوْحَشَتْ قُلُوْبٌ لَنَا مِنْ بَعْدِکُمْ وَدِیَارُ
فَکَمْ قَدْ تَذَاکَرْنَا مَحَاسِنَ مَنْ مَضٰی فَجَاء َتْ دُمُوْعٌ لِلْفَرَاقِ غَزَارُ
قَضَوْا وَقَضَیْتُمْ ثُمَّ نَقْضِیْ فَلَا بَقَا لِحَیٍّ وَکَاْسَاتُ الْمُنُوْنِ تَدَارُ
وَکُنَّا وَاِیَّاکُمْ نَزُوْرُ مَقَابِرًا وَمُتُّمْ فَزُرْنَاکُمْ وَ سَوْفَ نُزَارُ
سَقَتْ دِیْمَۃُ الرِّضْوَانِ رِیًا ثَرَاکُمُوْ وَسَحَتْ لَہَا فِیْ سَاحَتَیْہِ بِحَارُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے ہمارے عزیزو! تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تمہارے بعد ہمارے دل اور گھر ویران ہو گئے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔جتنی مرتبہ بھی ہم نے چلے جانے والوں کی خوبیاں یاد کیں تو ان دوستوں کی جدائی کی وجہ سے ہمارے آنسوکثرت سے بہنے لگے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تم سے پہلے لوگوں کو بھی موت نے آلیا تم بھی چل بسے اور ہم بھی فنا کے گھاٹ اُتر جا ئیں گے۔ پس کسی بھی زندہ کے لئے بقاء نہیں کیونکہ موت کے پیالے گھومتے رہتے ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ہم اورتم قبرستان کی زیارت کرتے تھے پس تم مر گئے توہم تمہا ری (قبروں کی)زیارت کر رہے ہیں عنقریب (ہم بھی مر جائیں گے اور) لوگ ہماری (قبروں کی)زیارت کریں گے۔
(۵)۔۔۔۔۔۔تم پربخشش کی بارش ہمیشہ ہمیشہ برستی رہے اس طرح کہ اس میں سمندر سما جائيں۔
وہ صالح بزرگ فرماتے ہیں:
”پس اسی وقت زبانِ حال نے جواب دیاجن کو میں اشعار میں بیان کرتا ہوں:

یَقُوْلُ لِسَانُ الْحَالِ اِذْ اَخْرَسَ الرَّدَی لِسَانًا لَہُمْ مِنْہُ الْفَصِیْحُ یُغَارُ
شَرِبْنَا بِکَاْسٍ اَسْکَرَ تْنَا مَرِیْرَۃً اَلَا رُبَّ سُکْرٍ مَا حَوَاہُ عِقَارُ
فَلَا یَغْتَرِرْ بِاللہِ مَنْ عَاشَ بَعْدَنَا بِعَیْشٍ فَاَیَّامُ الْحَیَاۃِ قِصَارُ
وَإنَّا وَجَدْنَا خَیْرَ اَزْوَادِنَا التَّقٰی ہُوَ الرِّبْحُ حَقًا مَا عَدَاہُ خَسَارُ
وَمَا العَیْشُ اِلَّا زَوْرَۃُ الطَّیْفِ فِی الْکَرٰی وَمَا ھٰذِہِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّۃُ دَارُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔جب موت نے ان کی زبان کو بند کردیا تو اس کی طرف سے فصیح زبانِ حال جواب دیتی ہے کہ،
(۲) ۔۔۔۔۔۔ہم نے ایک پیالہ پیا جس نے ہمیں زبردست نشہ دیا۔ خبردار !کتنے ہی نشے ایسے ہیں جن کو شراب نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ہمارے بعد زندہ رہنے والا زندگی کے عیش وعشرت کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غفلت نہ برتے پس زندگی کے دن بہت ہی کم ہیں۔

(۴)۔۔۔۔۔۔اور ہم نے اپنے زادِ راہ میں سے تقویٰ کو سب سے بہتر پایا، یہی حقیقی نفع ہے، اس کے علاوہ سب کچھ خسارہ ہے۔
(۵) ۔۔۔۔۔۔اور زندگی تو صرف نیند میں آنے والے خواب کی طرح ہے اور یہ ذلیل دُنیا (مستقل) گھر نہیں ۔
اے دنیامیں رہنے والے!موت کے شیرسے ڈر، بے شک یہ حملہ آور ہوگا،پھریہ لذات کی طرف مائل ہوناکیسا؟اور تحقیق موت تیری تلاش میں ہے، اے شخص! ان ہلاک ہونے والے پہلوانوں سے عبرت پکڑپس ان میں غور کرنے والے کے لئے نصیحتیں ہيں۔

لَقَدْ زُرْتُ اَقْوَامًا کِرَامًا اُحِبُّہُمْ وَہُمْ تَحْتَ اَطْبَاقِ الثَّرٰی فِیْہِ اَمْوَاتٌ
وَوَاصَلْتُہُمْ مِنْ بَعْدِ بَیْنٍ وَفُرْقَۃٍ فَکَانَ لَنَا فِیْہِمْ عِظَاتٌ وَاِنْصَاتٌ
وَاَعْجَبُ شَیْءٍ فِی الْوُجُوْدِ اِجْتِمَاعُنَا وَنَحْنُ عَلٰی ذَاکَ التَّوَاصِلِ اَشْتَاتٌ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔بے شک میں بہت سے معزز لوگوں سے ملا جن سے مجھے محبت تھی اور اب وہ مِٹی کے ڈھیر تلے مردہ پڑے ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد میں بھی ان سے جا ملوں گا، پس ان میں ہمارے لئے نصیحتیں اور غور سے سننے والی باتیں ہیں۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اور موت انتہائی تعجب خیز چیز ہے کہ مرنے میں تو ہم سب اکٹھے ہیں مگر اسے پانے میں (وقت کے اعتبار سے) ہم سب مختلف ہیں۔
منقول ہے کہ اسی صالح بزرگ نے ایک قبر پر اس طرح لکھا ہوا پایا:

اِصْبِرْ لِدَہْرٍ نَالَ مِنْ فَہٰکَذَا مَضَتِ الدُّہُوْرُ
فَرْحًا وَحُزْنًا مَرَّۃً لَا الْحُزْنُ دَامَ وَلَا السُّرُوْرُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اُس زما نے پر صبر کر جس نے تجھے رسوا کیا، اسی طرح بہت سارے زمانے گزر چکے ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔خوشی اور غمی ایک ہی مرتبہ ہوتی ہے، نہ غمی ہمیشہ رہتی ہے، نہ ہی خوشی۔
حضرتِ سیدنا اصمعی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”میں حیرت انگیز امور اور حشر ونشر میں بڑا غورو فکر کیا کرتا تھا اور میں قبروں پر لکھا ہو اپڑھ کر سکون حاصل کرتا تھا پس اس دوران میں نے تین قبریں دیکھیں ان پر تختیاں تھیں جن پر یہ لکھا ہوا تھا :

اَلَا قَلَّ لِمَاشٍ عَلٰی قَبْرِنَا غُفُولٌ لَاشَیْاءً حُلَّتْ بِنَا
سَیَنْدَمُ یَوْمًا لِتَفْرِیْطِہٖ کَمَا قَدْ نَدِمْنَا لِتَفْرِیْطِنَا

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔سن لو! ہماری قبر کے پاس سے گزرنے والے کے لئے کم مدت ہے، وہ ان چیزوں سے بہت زیادہ غافل ہے جو ہمیں پہنائی گئی ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔عنقریب ایک دن وہ اپنی غفلت کی وجہ سے شرمسار ہوگا جیسا کہ ہم اپنی غفلت کی وجہ سے شرمندہ ہوئے ۔
اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” اسی طرح میں نے قبرپر لگے ہوئے ایک پتھر پر بھی یہ لکھا ہوا پایا:

وَقَفْتُ عَلَی الْاَحِبَّۃِ حِیْنَ صَفَّتْ قُبُوْرُ ھُمُوْ کَاَفْرَاسِ الرِّھَانِ
فَلَمَّا اَنْ بَکَیْتُ وَفَاضَ دَمْعِیْ رَاَتْ عَیْنَایَ بَیْنَھُمُوْ مَکَانِی

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔میں دوستوں کے پاس رُکا، اُن کی قبریں دوڑ لگانے والے گھڑسواروں کی طرف صف بستہ تھیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔پس جب میں رویا اور میرے آنسو بہنے لگے تو میری آنکھوں نے ان کے درمیان میرا مکان دیکھ لیا۔
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں: ”اسی طرح میں تھوڑاسا چلامیرے آنسو بہہ رہے تھے اور میرا دل فراقِ احباب سے چھلنی تھا، میں نے ایک قبر پر لگی تختی پر یہ اشعار لکھے ہوئے دیکھے:

یَا اَیَّہَا النَّاسُ کَانَ لِیْ اَمَلٌ قَصَرَ بِیْ عَنْ بُلُوْغِہِ الْاَجَلُ
فَلَیَّقَ اللہُ رَبُّہ، رَجُلَ اَمْکَنَہ، فِیْ حِیَاتِہِ الْعَمَلُ
مَا اَنَا وَحْدِیْ جُعِلْتُ حَیْثُ تَرَی کَلٌّ اِلٰی مَا نُقِلْتُ یَنْتَقِلُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے لوگو!میر ی بہت سی امیدیں تھیں میرے مر جانے سے وہ نامکمل رہ گئیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔پس اللہ عَزَّوَجَلَّ جس شخص پر رحم فرماتا ہے اُسے دنیاوی زندگی میں عمل کاموقع عطا فرما دیتا ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔صرف مجھے ہی یہاں نہیں رکھا گیابلکہ تو دیکھے گا کہ جدھر مجھے بھیجا گیا ہر ایک ادھر ہی منتقل ہو گا۔
اورآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”اسی طرح میں نے ایک اور قبر پر لکھا ہو ا دیکھا :

قِفْ وَاعْتَبِرْ فَقَرِیْبًا تَحِلُّ ہٰذَا المَحَلَّا
ہٰذَا مَکَانٌ یُسَاوِی فِیْہِ الْاَعَزُّ الْاَذَلَّا

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔(اے گزرنے والے!)ذرا ٹھہر جا!اور عبرت حاصل کر، عنقریب تجھے بھی اس مکان میں اُترنا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔یہ ایسا مکان ہے جس میں عزت وذلت والے سب برابر ہیں۔
اور فرماتے ہیں:”میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بیٹے کی قبر پر روروکر یہ اشعار پڑھ رہی تھی :

بِاللہِ یَاقَبْرُ ہَلْ زَالَتْ مَحَاسِنُہ، وَہَلْ تَغَیَّرَ ذَاکَ الْمَنْظَرُ النَّضْرُ
یَاقَبْرُ مَا اَنْتِ لَا رَوْضٌ وَلَا فَلَکٌ فَکَیْفَ یَجْمَعُ فِیْکِ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے قبر! کیا اس کے خوبصورت اعضاء برباد ہوگئے؟ اور کیا اس کا پُرکشش اور تروتازہ (چہرہ) تبدیل ہو گیا؟
(۲)۔۔۔۔۔۔اے قبر !تو کیا ہے؟ تو باغ ہے، نہ آسمان پھر کیسے تجھ میں چاند سورج (جیسے لوگ) جمع ہوجاتے ہیں۔
اور فرماتے ہیں:”اسی طرح ایک دن میں کچھ ایسی قبروں کے پاس سے گزرا جن کو میں پہچانتا تھا اور وہ سب ایسے تھے جنہوں نے بہت خوش وخرم، عیش وعشرت اور لذات وشہوات میں زندگی گزاری۔ میں نے ان کی قبروں کی ایک تختی پر یہ اشعار لکھے ہوئے پائے:

اَیُّہَا الْمَاشِیْ بَیْنَ ھٰذِی الْقُبُوْرِ غَافِلًا عَنْ مُعَقَّبَاتِ الْاُمُوْرِ
اُدْنُ مِنِّیْ أُنْبِیکَ عَنِّیْ وَلَا یُنْ بِیکَ عَنِّیْ یَا صَاحِ مِثْلَ خَبِیْرِ
اَنَا مَیِّتٌ کَمَا تَرَانِیْ طَرِیْحٌ بَیْنَ اَطْبَاقِ جُنْدَلِ وَ صَخُوْرِ
اَنَا فِیْ بَیْتِ غُرْبَۃٍ وَ اِنْفِرَادٍ مَعْ قُرْبِیْ مِنْ جِیْرَتِیْ وَعَشِیْرِی
لَیْسَ لِیْ فِیْہِ مُؤْنِسٌ غَیْرَ سَعْیِ مِنْ صَلَاحٍ سَعَیْتُہ، اَوْ فُجُورِ
فَکَذَا اَنْتَ فَاعْتَبِرْ بِیْ وَاِلَّا صِرْتَ مِثْلِیْ رَہِیْنٌ یَوْمَ النُّشُوْرِ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے امورِ آخرت سے غافل ہو کر ان قبروں کے درمیان چلنے والے!
(۲)۔۔۔۔۔۔میرے قریب آ کہ میں تجھے اپنے حالات سے باخبر کروں، اے محترم! جاننے والے کی طرح تجھے کوئی نہیں بتائے گا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔میں مردہ ہوں جیساکہ تو دیکھ رہا ہے کہ مجھے بنجر اور چٹیل میدان میں ڈال دیا گیا ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اپنے پڑوسیوں اور گھر والوں کے باوجود میں اس ویران گھر میں اکیلا ہوں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔نیکیوں اور گناہوں کے علاوہ قبر میں میرے ساتھ کوئی نہیں۔
(۶)۔۔۔۔۔۔اسی طرح تجھے بھی یوم قیامت کے لئے یہاں گروی رکھا جائے گا لہٰذا مجھ سے عبرت حاصل کر، ورنہ تیرا بھی میرے جیسا حال ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *