منقبت حضور پر نور سیدنا علاؤالملت والدین علی احمد صابر کلیری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کیسے کاٹوں رَتیاں صابر

منقبت

حضور پر نور سیدنا علاؤالملت والدین علی احمد صابر کلیری

رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

کیسے کاٹوں رَتیاں صابر

تارے ِگنت ہوں سیاں صابر

مورے کرجوا ہوک اُٹھت ہے

مو کو لگالے چھتیاں صابر

توری صورتیا پیاری پیاری

اچھی اچھی بتیاں صابر

چیری کو اپنے چرنوں لگالے

میں پروں تورے پیاں صابر

ڈولے نیا موری بھنور میں

بلما پکڑے بیاں صابر

چھتیاں لاگن کیسے کہوں میں

تم ہو اُونچے اٹریاں صابر

تورے دُوارے سیس نواؤں

تیری لے لوں بَلیّاں صابر

سپنے ہی میں دَرشن دِکھلا دو

مو کو مورے گسیاں صابر

تن من دَھن سب تو پہ وارے

نوریؔ مورے سیاں صابر

جنت میں لے جانے والا درخت

      فرمانِ نبوی : سخاوت جنت کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں زمین پر جھکی ہوئی ہیں جس نے اس کی کسی شاخ کو تھام لیا وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔

(شعب الایمان، ۷/۴۳۴،الحدیث۱۰۸۷۵،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *