Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

موت کے بعد بھی ستر ہولناکیاں ہیں:

موت کے بعد بھی ستر ہولناکیاں ہیں:

سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ”موت کی سختیاں تلوار کی ہزارضربوں سے بھی زیادہ شدیدہیں اور بے شک اس کے بعدبھی ستر ہولناکیاں ہیں جن میں سے ہر ایک موت سے سترگنا زیادہ سخت ہے۔” (حلیۃ الاولیاء،عبد العزیزبن ابی رواد،الحدیث۱۱۹۳۴،ج۸،ص۲۱۸مختصرًا)

حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ” میں نے ایک رات قبراور موت کے متعلق خوب غورو فکر کیا تو اسی رات میں نے خواب دیکھا گویا میں قبر ستان میں ہوں اور مردے اپنی قبروں میں اس حال میں ہیں کہ ان کے بستربچھے ہوئے ہیں اور ان کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔”میں نے پوچھا:” یہ کون ہیں؟”مجھے بتایاگیا: ”یہ فرمانبردار ہیں جو قیامت تک اللہ عزَّوَجَلَّ کے خاص فضل وکرم میں رہیں گے۔”میں نے پوچھا:”نافرمان کہاں ہیں؟” تو بتایاگیا: ” زمین نے انہیں وحشت کی تاریکیوں میں دھنسادیا اب نہ تو وہ دیکھ سکتے ہیں، نہ ہی دکھائے جائیں گے۔ نیک اور بدکاردونوں میں فرق یہ ہے کہ ایک کے لئے دنیا قید خانہ اورقبر آزادی ہے اوردوسرے کے لئے دنیاآزادی اور قبرقیدخانہ ہے۔انہوں نے دنیامیں خود کوتھکاکر وصال کی حلاوت اوروجدان کی راحت پائی ہے، کانوں کوناپسندیدہ باتوں سے بندکرکے نظریں جھکاتے ہوئے جمالِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا مشاہدہ کیا اورمحبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا جام پی کرمدہوش ہو گئے۔”
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اتنا کچھ جان لینے کے باوجودیہ غفلت کیسی؟حالانکہ تمہیں بوسیدہ ٹھکانے کی طرف لوٹنا ہے؟ یہ لاپرواہی کیسی؟حالانکہ زندگی مختصرہے۔ کب تک سرکشی اور کوتاہی کرتے رہوگے ؟یہ کاہلی کیسی؟حالانکہ تمہیں ڈرانے والے نے بھی ڈرایا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! حبیب کے دروازے سے تمہاراپیچھے رہنا تمہاری بری تدبیر ہے۔ کب تک تم تکبر کرتے رہو گے؟ حالانکہ اللہ عزَّوَجَلَّ دیکھ رہا ہے؟ اے بھائیو! جوانی میں تمہارا گھومنا پھرنا تمہیں پریشان کردے گا اور اپنے نفس کے دھوکے کی طرف مائل ہونا تمہیں بدل دے گا اور تمہارا نعمتوں والے گھر کو چھوڑ کر جہنم کی طرف بھا گنا تمہاری حالت کو تبدیل کر دے گا۔کیاتم قبر میں اپنے ٹھکانے کوبھول گئے؟ ہاں! گناہوں نے تمہارے دل کو سیاہ کر کے تمہیں بدل کر رکھ دیا۔ کیا تم اس گھڑی کو یاد نہیں کرتے جس کی ہولناکی سے تمہاری پیشانی سے پسینہ بہنے لگ جائے گا؟جس کے اچانک آنے سے زبانیں گنْگ(گونگی )ہو جائیں گی اور آنکھوں سے افسوس کے قطرے ٹپکنے لگیں گے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، قیامت کے ہوشرُبا منظر کو یاد رکھو! کیونکہ معاملہ بہت سخت ہے اور اپنی بقیہ عمر جلدی جلدی نیکیاں کرنے میں گزارو۔ورنہ موت کے بعد ندامت فائدہ نہ دے گی۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

(4) وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔ (پ26،ق:19)
پیارے اسلامی بھائیو! کہاں ہیں تم سے پہلے والے لوگ؟ کہاں ہیں تمہارے ہم عمرجو کُوچ کر گئے؟کہاں ہیں صاحب ِ مال اوران کے جانشین؟ اب وہ سب اپنے گناہوں پر نادم ہو رہے ہیں۔ ہائے افسوس! اے کاش! وہ اس مقام کی ہولناکی کو جان لیتے جس سے بچہ بھی بوڑھاہوجاتاہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
پیارے اسلامی بھائیو! تعجب ہے جب تمہیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف بلایا جاتاہے توتم لا پرواہی کرنے لگتے ہواور جب تمہیں نصیحتیں نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہیں توتم اَکَڑتے ہو۔ یاد رکھو! تم سے پہلے کتنوں کوموت نے پچھاڑاکہ اب ان کانام ونشان بھی باقی نہیں۔ اے وہ لوگوجن کا جسم تو زندہ ہے لیکن دل مردہ ہے۔ عنقریب حسرتوں کے وقت تم اس چیز کا مشاہدہ کرلو گے جس کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔
پیارے اسلامی بھائیو! کتنی ہی جانوں کو موت نے ان کے گھروں میں بے آرام کیا! کتنی ہی آزمائشوں اور بلاؤں کو ان جسموں میں آباد کیاجو نازونِعَم میں پلے بڑھے تھے! کتنوں کی ارواح کو اپنے بوجھ سے قبرکے گڑھوں کی طرف منتقل کیا !اور بہت سے افراد کے رخساروں کوقبر کی مٹی میں ذلیل کیا۔اے میرے بھائیو !اپنی جان پر روؤ اس رونے سے پہلے جوفائدہ نہ دے گا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(پ26،ق:19)

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہوشیار ہوجاؤ! دنیا احمقوں کے لئے سرسبزوشاداب ہے، عنقریب کچھ دنوں کے بعد تم میری بات سمجھ جاؤ گے جب تمہاری روح نکل رہی ہو گی، جب وہ سب کچھ کھل کر سامنے آجائے گا جوتمہاری آنکھوں سے اوجھل ہے اور پھر عمل کا موقع نہ ملے گا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(پ26،ق:19)

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔
پیارے اسلامی بھائیو!افسوس ہے تم پر!کیاتمہیں علم نہیں کہ تم ہر لمحہ موت کی طرف سفرکررہے ہو؟کیا تمہیں علم نہیں کہ تمہارے برے اعمال شمار کئے جارہے ہیں؟کتنے ہی امید رکھنے والے رسوا ہوئے!انہوں نے امیدیں باندھ رکھی تھیں کہ اچانک موت کا گزرہوا اور وہ اپنی اُمیدوں کو نہ پہنچ سکے جن کی ان کو چاہت تھی۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(پ26،ق:19)

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
اے مولیٰ عزَّوَجَلَّ سے اعراض کرنے والے! کب تک یہ اعراض کرتا رہے گا؟کیا تجھے علم ہے کہ تیری جوانی طلبِ مال میں گزر گئی اور اب تیرے لئے ہلاکت ہے؟کیونکہ تیری عمرگزر چکی ہے اور تیرے اعضاء ہر لمحہ تجھ سے بغاوت پر آمادہ ہیں۔ افسوس! اب توزادِ راہ جمع کرلے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! سفربہت طویل ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
اے وہ شخص جس کادل نیک محفل میں بھی اسباب میں مشغول رہتا ہے! اے وہ شخص جو وعظ ونصیحت سن کر بھی توبہ نہیں کرتا! اے وہ شخص نافرمانیوں نے جس پر تاریک پردہ ڈال دیا! اے وہ شخص خوا ہشاتِ نفسانیہ نے جس پر جنت کے دروازے بند کر دئیے! اپنے نفس پرروکیونکہ رونا اکثر فائدہ دیتا ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
کیا تجھے علم نہیں کہ موت تجھے ٹکٹکی باندھ کردیکھ رہی ہے؟ اس نے دوسروں کاشکا رکیا اور عنقریب تجھے بھی شکار کرے گی۔ کیا تجھے اُس کا علم نہ ہوا جو دوسروں کے ساتھ کیاگیا؟ کیا تیری غفلت نے ہر وادی وگھاٹی میں تجھے موت سے خبر دار نہ کیا؟ کیا تو نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کایہ فرمان نہیں سنا ؟

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾ (پ26،ق:19)

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔
اے اللہ عزَّوَجَلَّ کے بندو! قرآنِ کریم میں غوروفکر کرو، وعدہ ووعید کو سمجھنے کے لئے اپنے دلوں کو حاضر رکھو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کو لازم پکڑوکیونکہ یہی فرمانبردار بندوں کی شان ہے اور اس کے غضب سے ڈرو ،کتنے ہی لوگ خدائے جبا ر و قہار عَزَّوَجَلَّ کے نافرمان ہیں، جبکہ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

(5) اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے ۔(پ30، البروج: 12)
کہاں ہیں جنہوں نے مضبوط مضبوط محلات کی بنیاد رکھیں؟ اور بخوشی عرصۂ دراز تک لوگوں پر حکمرانی کرتے رہے اور خود ان لوگوں سے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسے ۔ اپنی جہالت سے سمجھ بیٹھے کہ انہیں یہاں سے کوچ نہیں کرناپھر جب انہوں نے

ہلاکت کا جام پیا تو وہ چیختے رہ گئے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ انہوں نے موت سے ڈرانے والے کے ڈرانے کو نہیں سنا۔
جیسا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
اے شخص! تجھے تیرا گذشتہ اور آئندہ آنے والادن ڈرا رہا ہے ۔سورج چاندتیرے سامنے عبرت کے نمونے ہیں اور تو خطا ؤں پر ڈٹا ہو اہے۔بے شک تو قبر کے قریب ہے اورپھر بھی اس وعید سے غافل ہے جو تجھے سنائی جاتی ہے۔

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
کیا تجھے علم نہیں کہ زبان کے متعلق سب کچھ پوچھا جائے گا،قدم کے نشانات کا حساب لیا جائے گا اورزبان کی لغزشوں کابھی حساب ہوگا، تیرے اعضاء تیرے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کی گواہی دیں گے،کیا تو نہیں جانتا کہ موت تیری تاک میں تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے؟ چنانچہ،اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
اے اپنی آنکھوں سے عبرت کے نمونوں کا مشاہدہ کرنے والے!اوراے اپنے کانوں سے نصیحتوں کو سننے والے!تجھے ہر لمحہ موت سے ڈرایا جارہا ہے۔ چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)
گویا تو موت کے دہانے پرکھڑاہے اورموت تجھے اس طرح اُچک لے گی جس طرح بجلی بینائی چھین لیتی ہے اور افسوس تو اس کوخودسے دور بھی نہ کر سکے گااگرچہ تومشرق ومغرب کا بھی مالک بن جائے۔اس وقت تجھے یہ سب کچھ چھوٹ جانے پر بہت زیادہ افسوس اور حسرت ہوگی۔ اور اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے

وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)

error: Content is protected !!