میلادِ مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم

میلادِ مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم

حمد ِ باری تعالیٰ :

    تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔وہ ایسا ”احد” ہے جو اپنی صفت سَرْمَدِیّت (یعنی ازلی و ابدی ہونے) میں یکتاہے۔ وہ ایسا ”فرد” ہے جو اپنی صفتِ ربوبیت (یعنی رب ہونے) میں یکتاہے۔وہ ایسا ”شکور” ہے جس کے علاوہ حقیقتۃً کسی کا شکر کیا جاتا ہے نہ کسی کی حمد۔وہ ایسا ”غفور” ہے جو سچی توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔وہ ایسا بادشاہِ حقیقی ہے جس نے سب ممالک اوربادشاہوں کو فنا کیاجبکہ اس کی سلطنت کوکبھی زوال نہ آئے گا۔ وہ ایسا بلندرتبہ ہے جس کی طرف پاکیزہ کلمات بلند ہوتے ہیں۔ وہ ایسا حاکمِ مطلق ہے جس نے تمام اہلِ دنیا کی موت کا اٹل فیصلہ فرما دیا ہے لہٰذاکوئی بھی اس دُنیا میں ہمیشہ نہ رہے گا۔ اس نے اپنے برگزیدہ رسولوں کومبعوث فرمایاتاکہ وہ قابلِ حمد وستائش راہِ حق کی طرف لوگوں کی راہنمائی فرمائیں اور انہیں اس ہستی کے سامنے پردہ بنائے رکھا جس کے لئے بروزِ قیامت شفاعت اور لِوَاءُ الحَمْد(یعنی حمد کے جھنڈے)کا وعدہ ہے اور اس ہستی کو خَاتَمُ الْاَنْبِیَاء صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کے لئے راہِ ہدایت و اضح فرمائیں۔ اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: وَ اِذْ قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۶﴾ ترجمۂ  کنزالایمان:اوریادکروجب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتاہوا۔ اور ان رسول کی بشارت سناتاہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے، ان کانام احمد ہے، پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو ہے۔”(پ۲۸،الصَف:۶)
     اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب ِ مکرّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قدرو منزلت کا اظہار اور تعظیم و توقیر کرتے ہوئے ان کا ذکر بلند فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے مشرکین کی شرک کی آگ کو بجھا یا اور مؤمنین کے لئے نورِ ایمان ظاہر فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے آپ کی امت کو کامل فرحت و سرور عطا فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری انسانیت کے لئے بشیر ونذیر(یعنی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا)بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کواللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکادینے والا آفتاب بناکر بھیجا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہر موجود شئے کے لئے رحمت بناکرمبعوث فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک نور سے ساری کائنات کو منوّرفرمایا۔ چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: ”یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۴۵﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾ ترجمۂ  کنزالایمان:اے غیب

کی خبریں بتانے والے(نبی)!بے شک ہم نے تمہیں بھیجاحاضر ناظراور خوشخبری دیتااور ڈرسنا تا۔اوراللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتااور چمکادینے والا آفتاب۔”(۱)(پ۲۲،الاحزاب:۴۵۔۴۶)

    حضور نبئ پاک، صاحب ِلولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سیِّدُ المرسلین ،امامُ المتّقین ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام مخلوقات پر برتر وبالا مقام عطا فرمایا اوراس وقت نبوت عطافرمادی تھی جبکہ حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پانی اور مِٹی کے درمیان تھے۔ (یعنی ابھی آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مکمل نہ ہوئی تھی) اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری مخلوق کا رسول بنایا اور قرآنِ مجیدمیں ارشاد فرمایا: وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجامگر رحمت سارے جہان کے لئے۔”(۲)(پ۱۷،الانبیآء: ۱0۷)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بلند مقام عطا فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عجب حسن سے نوازا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت کو مؤمنین کے لئے بہار بنایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت سے دینِ
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”شاہد کا ترجمہ حاضر و ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے۔ ”مفرداتِ راغب” میں ہے اَلشُّھُوْدُ وَالشَّھَادَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْبِالْبَصِیْرَۃِ یعنی شہود اور شہادت کے معنٰی ہیں حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے، بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اسی لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتاہے اس کو بیان کرتا ہے ۔ سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم تمام عالم کی طرف مبعوث ہیں۔ آپ کی رسالت عامہ ہے۔جیسا کہ ”سورہ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضُور پُر نُورصلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم قیامت تک ہونے والی ساری خلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال، تصدیق، تکذیب، ہدایت، ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔(ابوالسعود وجمل) سراج کا ترجمہ قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ نوح میں وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراَجاً اور آخر پارہ کی پہلی سورۃ میں ہے وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَّھَّاجاً اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوّت نے پہنچائی اور کفر و شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نُورِ حقیقت افروز سے دُور کردیا اور خلق کے لئے معرفت و توحید ِ الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کے وادئ تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِ ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نُورِ نبوّت سے ضمائروبصائر اور قلوب و ارواح کو منور کیا۔ حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزار ہاآفتاب بنادئیے اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا۔”
2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”کوئی ہو، جن ہو یا انس، مؤمن ہو یا کافر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مؤمن کے لئے تو آپ دُنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دُنیامیں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیرِ عذاب ہوئی اور خسف ومسخ اور استیصال کے عذاب اُٹھادئیے گئے۔ تفسیرِ رُوحُ البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ تامہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیعِ مقیدات رحمتِ غیبیہ وشہادتِ علمیہ وعینیہ ووجود یہ و شہودیہ و سابقہ ولا حقہ وغیر ذلک تمام جہانوں کے لئے عالمِ ارواح ہوں یا عالمِ اجسام ،ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔”
اسلام ہمیشہ بلند ومضبوط ہوتا رہے گا اور کفرو شرک کمزور وذلیل ہوتارہے گا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوپاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اصول و فروع کے اعتبار سے طیب و طاہر ہیں۔ میلادِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر شاہِ ایران کے محل” کِسریٰ” میں زلزلہ آگیا، اس کی بنیادیں کمزور پڑ گئیں اور وہ گرنے کے قریب ہوگیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عظمتِ شان کی خاطر آپ کو امت کے گنہگاروں کا شفیع بنایا۔اُمت کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرامین توجہ سے سننے اور احکام کی بجاآوری کا حکم فرمایا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو دنیا میں اس امت کا رسول اورآخرت میں شفیع بنایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو لوگوں کے سامنے اپنی عظمت و شرف بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرمایا: ”قُلْ یٰاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔”(۱)(پ۹،الاعراف:۱۵۸)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضور پرنور، شاہِ غیور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عزت کاتاج پہنایااور ساری کائنات کوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نورسے منوّر فرمایا۔ دیہاتی اور شہری لوگوں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذریعے عزت عطا فرمائی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہر قسم کے گدلے پن سے محفوظ رکھااورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک نور سے فارس کا صدیوں سے جلنے والا آتش کدہ بجھا دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت کی برکت سےحَنَادِس(یعنی آخر ِماہ کی تین انتہائی سیاہ راتوں)کی تاریکیوں کو روشنی عطافرمائی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہیبت وجلال کی پوشاک عطافرمائی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرسلسلۂ نبوت ورسالت کو ختم فرمایا۔ قرآنِ کریم میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اور صحابۂ  کرام علیہم الرضوان کی شان یوں بیان فرمائی: ” مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ ترجمۂ کنزالایمان:محمداللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔”(۲)(پ۲۶،الفتح:۲۹)
    حضور نبئ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسے نبی ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوشاندار عزت ومقام
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”یہ آیت سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے عمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خلق کے رسُول ہیں اور کل جہاں آپ کی اُمت۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے، حضور فرماتے ہیں ”پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کِسی کو نہ ملیں : ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔ میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کِسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں۔ میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تیمم) اور مسجد کی گئی جس کِسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے۔ دشمن پر ایک ماہ کی مسافت تک میرارعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی۔اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی۔” مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ” میں تمام خلق کی طرف رسُول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے۔”
2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”صحابہ کا تشدّد کفّار کے ساتھ اس حد پر تھا کہ وہ لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا بدن کِسی کافر کے بدن سے نہ چھو جائے اور ان کے کپڑے سے کِسی کافر کا کپڑا نہ لگنے پائے ۔” (مدارک )
پرفائز فرمایااور بڑی بڑی نعمتیں عطافرمائیں۔ عیسائی پادریوں اور یہودی راہبوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نبوت کی بشارت دی اور کاہنوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری کی خوشخبری دی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے عمدہ اوصاف اور اچھی تعریف ساری کائنات میں عام کردی ۔ ربّ ِ کائنات نے ربیع الاول جیسے مبارک مہینے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ نمائی فرمائی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری مخلوق سے افضل بنایا اور عزت و وقارکے عظیم جُبّے پہنائے۔ لوگوں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کے ذریعے متنبہ فرمایا۔ اور اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید، فرقانِ حمیدمیں ارشاد فرمایا: ”اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡکُمْ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمْ کَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾ ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے۔(پ۲۹،مزمل:۱۵)
    اے میرے دانش مند اسلامی بھائیو! ذرادیکھو تو سہی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس محترم نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے کیسے کیسے اعلیٰ انعامات، اعزاز اورعظیم فضائل تیار کررکھے ہیں۔ پس یہی وہ رسول ہیں جو خلقِ عظیم اور عزت وعظمت کی صفت سے متصف ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلّ نے آپ کی شان بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا: ”لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾ ترجمۂ  کنزالایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول،جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔”(۱) (پ۱۱،التوبۃ:۱۲۸)
    بے شک انسان نے سب سے پہلے جس کلام سے ابتداء کی اور زبان نے قوت گویائی حاصل کی وہ اس ذات کا کلام ہے جس نے ساری مخلوق کو پید ا کیا اور قوتِ گویائی عطا فرمانا محض اس خالقِ کا ئنات جَلَّ جَلَالُہٗ کا مخلوق پرفضل و احسان ہے ۔اسے کسی حاجت نے مخلوق کی پیدائش پر مجبور نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی ضرورت ایسی تھی جس کی وجہ سے وہ محتاج تھا کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے کیونکہ وہ تو مطلقاً غنی و بے پرواہ ہے اور وہ تو ایسی ذات ہے جس کے خزانے بہت زیادہ خرچ کرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے اور اس کا اپنے بندوں پرسب سے بڑا فضل واحسان یہ ہے کہ اس نے ان کے پاس اپنے مخلص ومہربان ،عظمت وجلال

1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”(یعنی )محمدِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم عربی قرشی، جن کے حسب ونسب کو تم خوب پہچانتے ہوکہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم اُن کے صدق و امانت زہد و تقویٰ، طہارت وتقدّس اور اخلاقِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے اور ایک قراء ۃ میں اَنْفَسِکُمْ بفتحِ فا آیا ہے۔اس کے معنٰی ہيں کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل اس آیتِ کریمہ میں سیِّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ سید ِ عالم صلَّی  اللہ علیہ وآلہ وسلَّم وسلم نے اپنی پیدائش کا بیان قیام کرکے فرمایا۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلادِ مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔اس آیت میں اللہ تبا رک وتعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے دو ناموں سے مشرف فرمایا۔یہ کمالِ تکریم ہے اس سرور انور صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی۔”

والے نبی اور سچے اور امانت دار رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بھیجا جن کے پیغامِ ربّانی پہنچانے کی خوبی بیان کرتے ہوئے وہ خود ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا ہُوَ عَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾ ترجمۂ  کنزالایمان:اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔(پ۳0،التکویر:۲۴)” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے احمد مجتبیٰ، محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نوری وجود سے کفر کی تاریکیاں دور فرمادیں، آسمانِ ایمان پر ستاروں کو چمکایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے انوار وتجلیات سے مہینے کی آخری انتہائی تاریک تین راتوں کو روشن فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری پر ایران کا شعلہ زن آتَش کدہ بجھادیا۔شاہِ ایران کو اس کے سلطنت کے زوال سے ڈراتے ہوئے اس کے محل ”کِسریٰ” میں شگاف ڈال دئیے۔ شاہِ روم قیصرنے اپنی ہلاکت پر دلالت کرنے والا خواب دیکھ لیا۔
     اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس امت کو اپنے محبوب نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے تمام امتوں پر فضیلت ورفعت عطا فرمائی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پختۂ ارادوں کی تلوار کی برکت سے اس امت کے سامنے بلند وبالا چوٹیوں کو سر نگوں کردیا۔ اس لئے امت پر لازم ہے کہ شب ِ میلادُالنبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم(یعنی بارہ ربیع النورشریف ) کو اپنی سب سے بڑی عید بنا لیں اور سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت پرحد درجہ خوشیاں منائیں اورغرباء ومساکین پرصدقہ وخیرات کر کے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشنودی حاصل کریں اوریتیموں ،بیواؤں اور کمزوروں کی امدادکرکے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی وصیت پرعمل کریں۔ علماء کرام دامت برکاتہم العالیہ اورمبلّغین لوگوں کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت کے واقعات بیان کریں۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وجودِ مسعود کی برکت سے لوگوں پر جو مہربانیاں فرمائیں انہیں اور آپ کے خصائلِ حمیدہ کو لوگوں کے سامنے ثابت کریں تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو جس مقام و مرتبہ اور قدرت وطاقت سے نوازا ہے وہ ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے نیزوہ یہ بات بھی جان لیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مثل کوئی انسان پیدانہیں فرمایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!