متفرقات

متفرقات

 ( عائشہ رضی اللہ عنہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے عثمان بن مظعون کے بوسہ لیا ، جب مر چکے تھے تو آپ رو رہے تھے یہاں تک کہ آپ کے آنسو عثمان کے چہرے پر بہنے لگے ،
( ترمذی )
( ابو ہریرہ ) فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے کہ مسلمان کے مسلمان پر حق ہیں ، (1) سلام کا جواب دینا ، (2) مریض کی عیادت کرنا ، (3) جنازے کے ساتھ جانا ( 4) دعوت کو قبول کرنا ، ( 5) چھینک کا جواب دینا ۔
(بخاری مسلم )

نتیجہ فسق ادارہ

مسلمانوں کی دینی و دنیوی حالت بدتر ہے ، دنیاوی حالت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں جیسا نظر آناتو درکنار غیر اقوام کے برابر ہوتے چلے جارہے ہیں ، نہ ان میں علمی شوق پایا جاتا ہے نہ ان کے خیالات ترقی پسند ہیں مذہب سے تو ان کو ان کوکسی قسم کا واسطہ ہی نہیں ،
معلوم تو یوں ہوتا ہے کہ لوگ دل سے شوق
سے مسلمان نہیں ہیں بلکہ اس لئے ہیں کہ ان کے ماں باپ مسلمان تھے اور یہ ان کے ہاں پیدا ہوئے ، حالانکہ مسلمان کو چاہئے تھا کہ محد سے لے کر لحد تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے احکام پر دین و دنیا کاٹتا ،
مسلمان کے لئے دین و دنیا کوئی الگ چیز نہیں ہے ، دنیا احکام شرعی کے مطابق گذارے تو بھی دین ہی ہے ، جیسا نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، اور حج وغیرہ اور جن کے ادا کرنے سے اللہ کے نزدیک مومن کامل کو اجر ملے گا ، اسی طرح دینوی امور پر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے احکام کے مطابق عمل کرنے سے اجر ملے گا ۔

مگر مسلمانوں میں فسق کی حد ہوگئی ، جس کی وجہ جہالت ، غفلت اور نفس پرستی ہے ، ہزار کوششوں کے بعد دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں میں رتی برابر بھی شوق پیدا نہیں ہوتا ، روز بروز غیر اقوام کی تقلید کرتے چلے جارہے ہیں ، ان کی صورتوں کو تو دیکھو نہ مرد مسلمان جیسی صورت رکھتا ، نہ لباس نہ طرز زندگی ، نہ عورت کو اس بات کا خیال ہے ، عورتوں کے لباس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فسق کی انتہا ہوگئی ۔

بچوں کا پوچھنا ہی کیا ہے !!
اہل ہانگل ، اہل ہبلی کی اتباع و تقلید کرنے میں جان لٹا رہے ہیں ، اہل ہبلی ، اہل بمبئی کی ، اہل بمبئی لنڈن کی اور اہل لندن شیطان ملعون کی ، یعنے بچہ ، جوا ن ، بوڑھا اپنی عورتوں کے ساتھ شہروں کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے مہلک فتنہ و فساد برپا ہو رہے ہیں ،
اور عیسائی خصلت فاسقوں کو اپنے امام بنا رہے ہیں ۔
فسق کا نتیجہ دیکھو : اللہ کا قہر برس رہا ہے لعنت برس رہی ہے ،
خیرو برکت دنیا سے اٹھ گئی ، پریشانی بڑھ رہی ہے ، روز بروز مسلمان دائرئہ اسلام سے جدا کئے جارہے ہیں ، آئے دن کوئی وہابی بنتا ہے تو کوئی دیوبندی کوئی چکڑانوی وغیرہ وغیرہ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *