Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نیکیوں کی دو قسمیں

نیکیوں کی دو قسمیں

نیکیاں دو قسم کی ہوتی ہیں : (ایک ) وہ جن کا کرنا ہم پر فَرْض یا واجِب ہوتا ہے جیسے نماز ، روزہ وغیرہ تو ایسی نیکیاں ہر صورت کرنی ہی ہوں گی کیونکہ ان کی ادائیگی پر ثواب اور عدمِ ادائیگی پر عتاب وعِقاب(یعنی ملامت کرنے کے ساتھ ساتھ سزابھی) ہے اور(دوسری )وہ نیکیاں جومُسْتَحَبَّات کے درجے میں ہیں جیسے نوافِل وغیرہ یعنی اگر کریں تو ثواب اور نہ کریں تو گناہ نہیں لیکن ثواب سے بہرحال محروم رہیں گے۔

کیا نیکی کمانا مشکل کام ہے ؟

ہماری اکثریت اس وَسْوَسے کا شکار ہوکرنیکیوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتی کہ ’’نیکیاں کمانا بہت مشکل ہے ‘‘ مگر حیرت اُس وَقْت ہوتی ہے کہ جب یہی لوگ دنیاوی مال ودولت کمانے کے لئے مشکل سے مشکل کام پر راضی ہوجاتے ہیں ۔ اس کے لئے بُھوک ، پیاس ، دُھوپ ، ذِلت ، تھکاوٹ، کیا کچھ برداشت نہیں کرتے ! حتی کہ اپنی جان بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں ، صِرْف اس وجہ سے کہ ان کا ذہن بنا ہوتا ہے کہ اس پریشانی کے صِلے میں انہیں تھوڑی بہت رقم مل جائے گی جس سے وہ اپنی ضَروریات وخواہشات پوری کر سکیں گے ، لیکن افسوس کہ جب ایسوں کے سامنے آخرت میں ملنے والے اِنعامات وآسائشات کا تَذْکرہ کر کے نیک کاموں کی ترغیب دی جائے توانہیں یہ کام بہت مشکل دکھائی دیتے ہیں اور وہ راہِ فرار اِختیار کرنے کے لئے حیلے بہانے بنانے لگتے ہیں ۔

error: Content is protected !!