Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چوتھی حدیثِ پاک کی پانچویں سند

     علامہ محاملی علیہ رحمۃاللہ الولی۱؎(330-235ھ) ”اَلْاَمَالِیْ”میں فرماتے ہیں کہ احمدبن محمدبن یحیٰ بن سعید،عباد ابن جویریہ سے ، وہ امام اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے ، وہ حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ حضرت سيدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت علی صاحبھاالصلوٰۃ والسلام میں ایک شخص کاتذکرکیاگیااورجہاد میں اس کی قوّت اورعبادت میں شوق اورکوشش کاذکرکیاگیا۔
    اسی اثناء میں وہ آدمی بھی وہاں آپہنچا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی:”یہی ہے وہ شخص جس کا ہم تذکرہ کر رہے تھے ۔”توسرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ،باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا:”قسم ہے اس ذات  کی جس کے قبضہ ـ  قدرت میں میری جان ہے!مَیں اس کے چہرے پر شیطانی قباحت دیکھ رہا ہوں۔” پس وہ شخص آیا اور سلام کیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:”جس وقت تُو ہمارے پاس آياکيا توُ نے اپنے دل میں اس طرح کہا تھا کہ ان لوگو ں میں کوئی بھی تجھ سے بہتر نہیں ؟”اس نے کہا:”ہاں۔”پھروہ شخص چلا گیااور مسجد میں ایک جگہ مختص کرکے پاؤں سیدھے کئے اور نماز پڑھنے لگا۔
    حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”کون ہے جو اس کی طر ف جائے اور اسے قتل کردے ؟” حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”مَیں قتل کرو ں گا۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف گئے مگر اسے نماز میں قیام کی حالت میں پایا تو قتل کرنے سے خوف محسوس کیا لہذاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت علی صاحبھاالصلوٰۃ والسلام میں لوٹ آئے ۔
    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تم نے کیا کیا؟ ”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے اسے نماز میں قیام کی حالت میں پایا تو قتل کرنے سے خوف محسو س کیا۔”توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”بیٹھ جاؤ۔”
    پھرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:”تم میں سے کون ہے جو اس کی طرف جائے اور اسے قتل کردے؟”حضرت سیدنا عمرفارو قِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”مَیں قتل کروں گا۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے مگر اسے نما ز میں کھڑا پایا تواسے قتل کرنے سے خوف محسوس کیا ۔”پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبئ کریم رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی  بارگاہ میں حاضر ہوئے توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”تم نے کیا کیا؟” عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !مَیں نے اسے نماز میں قیام کی حالت میں پایا تو قتل کرنے سے خوف محسوس کیا ۔”حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا :”بیٹھ جاؤ۔”
    پھرارشاد فرمایا: تم میں سے کون ہے جو اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے؟” حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے عرض کی:” مَیں قتل کروں گا۔’ ‘ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سَیَّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ”اگر تم نے اسے پالیا توضرور قتل کردو گے ۔”حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم اس کی طرف گئے مگر وہ جا چکا تھا،جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ نبوت میں حاضرہوئے توحضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے استفسار فرمایا: ”تم نے کیاکيا ؟” عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!وہ توجاچکا ہے ۔ ‘ ‘ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”بے شک یہ ميری اُمت ميں پہلاسینگ ہے اگر تم اسے قتل کردیتے تو اس کے بعد کبھی دو شخص بھی آپس میں اختلاف نہ کرتے ۔ بے شک بنی اسرائیل اکہتر (71)فر قوں میں تقسیم ہوگئی تھی جبکہ میری اُمت بہتر(72) فرقوں میں بٹ جائے گی ۔ اُن میں ایک فرقہ کے علاوہ باقی سب جہنمی ہوں گے۔” حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمايا:”وہ جماعت ہے ۔”
(المرجع السابق،بدون قول قتادہ،بتغیر) 
۱ ؎ الحافظ،ا لمحدث ، الفقیہہ ابو عبداللہ الحسین بن اسماعیل بن عمر البغدادی ، المحاملی، آپ ۲۳۵ھ کے ابتدا ء میں پیدا ہوئے اور ۳۰ سال کو فہ میں منصب افتا ء پر فائز رہے اور ۲۳ ربیع الاخر۳۳۰ ھ میں آپ کا وصال ہوا ،آپ کے آثار میں سے، الاجزاء المحاملیات ، السنن فی الفقہ ، امالی المحاملی ،کتاب صلوۃ العیدین وکتاب الدعاء وغیرہ ہیں ۔
(معجم المؤلفین،ج۱،ص۶۰۴،الاعلام للزرکلی،ج۲،ص۲۳۴)
error: Content is protected !!