Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پابندیِ شرع کا اہتمام – نیز کچھ میری باتیں –

پابندیِ شرع کا اہتمام – نیز کچھ میری باتیں –

پسر عزیز!  جب
بات حدودِ شریعت کی آ جائے تو ایسے وقت اپنے نفس کا بطورِ خاص جائزہ لیا کرو۔ پھر
تمہیں پتا چل جائے گا کہ اس کا بچاؤ کیسے کیا جاتا ہے؟کیوں کہ جو اپنے نفس کی
حفاظت و رعایت میں کامیاب ہو گیا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہو گیا، اور جو اس محاذ
پر ناکام ہو گیاسمجھو وہ مارا گیا۔لگے ہاتھوں میں تمہیں اپنے کچھ احوال بھی بتا دیتا
ہوں تاکہ تمہیں میری بے تکان محنتوں کا کچھ اندازہ ہوسکے اور مجھے اپنی دعائے خیر
میں یاد کرسکو۔
مجھ پر جو کچھ بھی افضال و انعام ہوا اور جو بھی عزتیں
نصیب ہوئیں اس میں میرے اپنے کسب سے زیادہ میرے مولا کی نوازش و عنایت شامل ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں زندگی کی چھٹی بہار میں داخل ہوا تو مجھے مکتب کی نذر کر دیا
گیا،میں فطرتاً قوتِ ارادی کا بڑا دھنی واقع ہوا تھا۔میں نے ہمیشہ اپنے سے بڑے بچوں
سے دوستی کی، اللہ جل مجدہ نے عالم طفولیت ہی میں مجھے عقل و شعور کی وہ پختگی عطا
فرما دی تھی جو شیوخ کی عقل و خرد پر بھی بھاری تھی۔

مجھے یاد نہیں آتا کہ میں نے کبھی سرراہ کسی بچے کے
ساتھ کھیل کود کیا ہو،اور نہ ہی میں کبھی کھلکھلا کرہنسا۔ اندازہ لگاؤ کہ جس وقت میں
کوئی سات سال کا تھا جامع مسجدکے حلقاتِ درس میں حاضری دیا کرتا تھا۔ میں نے اتنی
سی معمولی عمر میں بھی کبھی خود کوکسی شعبدہ باز یا لفظ کے بازی گروں کے پاس جانے
کی اجازت نہ دی،بلکہ ایسے عالم میں میں محدثین کی تلاش میں سرگرداں پھرتا رہتا تھا،
ان کی بارگاہ میں جا  کر اپنی بساطِ شوق
بچھا دیتا تھا، جب میں ان سے کوئی حدیث سنتاتونہ صرف وہ حدیث بلکہ اس کی طویل ترین
سند بھی حفظ کر لیتا تھا، پھر جب گھر لوٹتا تو وہ ساری یادداشتیں قید تحریر میں لا
کر محفوظ کر دیتا تھا۔
شیخ ابوالفضل ابن ناصر رحمہ اللہ (م۵۵۰ھ)
اپنی خاص توجہ و عنایت مجھ پر مرکوز رکھتے، مجھے لے کر شیوخِ حدیث کے پاس جاتے،
انھیں کی صحبتوں میں رہ کر مجھے مُسند اور دیگر بڑی کتابوں کوسماع کرنے کا زرّیں موقع
میسر آیا۔نیز میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ان کی طرف سے مجھ پر یہ بے پایاں کرم کیوں
ہو رہا ہے۔
ساتھ ہی انھوں نے میرے ملفوظات بھی جمع کیے،پھر جب میں
سن بلوغ کو پہنچا تو انھوں نے وہ تحریر مجھے دکھایا،پھر میں نے ان کے فیضانِ صحبت
کو اپنے اوپر لازم کر لیا تا آں کہ وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے-اللہ انھیں جوارِ
رحمت میں جگہ نصیب فرمائے-تو معرفت و نقلِ حدیث کا یہ شعور میرے اندر ان کی کرم

نوازیوں سے بیدار ہوا۔

یہ وہی دور تھا جب کہ میرے ہم عمر بچے دریائے دجلہ پرجا
کر موج مستی کرتے، اور پُلوں پر چڑھ کر کھیل کود کیا کرتے تھے،اور میرا اپنا حال یہ
تھا کہ (نفس کے ہزار لبھانے کے با وصف) چھوٹی سی عمر میں دنیا سے بے تعلق ہو کر حدیث
کا کوئی صفحہ لیے گھرکے خلوت کدے میں پڑا ہوتا اور اپنے قصر علم کی تعمیر و ترقی میں
مشغول رہتا۔
پھر زہد و ورع کی دولت نصیب ہوئی اور دنیا سے دل بیزار
ہو گیا تو دن روزوں میں گزرنے لگااورسفرزندگی کے لیے تھوڑے سے زادِ  راہ پر میں نے قناعت کر کیا اور نفس کے گلے میں صبر
و شکیب کا تعویذ ڈال دیا۔ یوں ہی کاروانِ حیات چلتا رہا، نیز یہ کہ نیم شبی کی
خلوتوں میں اُٹھ کر مولا کو  منانا اور دم
سحرکی دعاؤں سے خود کو محظوظ کرنا میرا معمول تھا۔
پھر میں نے اپنے آپ کو علم کے کسی ایک فن کی تحصیل ہی
پر قانع نہ ہونے دیا بلکہ بیک وقت سماعِ فقہ و حدیث اور وعظ و بیان سے گہرا شغف
رہا،نیز زاہدانِ شب زندہ داروں کی صحبتوں سے بھی اکتساب فیض و نور کرتا رہا۔ساتھ ہی
علم لغت سے بھی آشنائی کی اور ایسا کوئی فن نہ چھوڑا جس سے کہ عموماً گوشہ نشینی
اختیار کر کی جاتی ہے یاجس کے بارے میں بار بار  تاکید کرنی پڑتی ہے۔
یوں ہی جب کوئی مہمان یا اجنبی آ جاتا تو میں اس کی ضیافت
کے لیے بچھ بچھ جاتا اور جو کچھ موجود ہوتا پوری فراخ دلی سے اس کے روبرو پیش کر
دیتا۔اس طرح فضائل و کمالات کی ہر شاخ پر میں نے اپنا آشیانہ بنانے کی حتی المقدور
کوشش کی۔
یوں ہی جب کبھی بیک وقت دو کام نکل آتے تو ان میں اس
کام کو زیادہ ترجیح دیتا جو حق الحق کا آئینہ دار ہوتا،لہٰذا پروردگار نے میرے لیے
ان حکمت و تدبیر کے عقدے حل فرما دیے اور مجھے ہمیشہ خیر و صلاح کی توفیق سے
نوازا،ساتھ ہی حاسدین و اَعدائے دین کے مکر و فریب سے مجھے امان بخشا۔اس نے میرے لیے
اَسبابِ علم بہم پہنچائے،اور میرے رزق کا اہتمام اس انوکھے انداز سے فرمایاجس کا میں
تصور بھی نہیں کر سکتا۔مجھے فہم وفراست، حفظ کی سرعت اور تصنیف و تالیف کی جدت و
ندرت سے بہرہ مند فرمایا۔ دنیا کی کسی چیز کا مجھے حاجت مند نہ کیا بلکہ جہاں جس چیز
کی ضرورت ہوئی فوراً مہیا ہوئی اور امید سے زیادہ ملی۔
ان سب پرمستزادیہ کہ مخلوق کے دلوں میں میری بے پایاں عقیدت
و قبولیت کے چراغ روشن کر دیے،اور انھیں میری باتوں کا ایساگرویدہ بنا دیا کہ ان کی
صحت ودرستی کے سلسلہ میں ان پر کبھی کوئی شک نہیں گزرتا۔میرے ہاتھوں قریباً دوسوذمی
دامن اسلام میں آباد ہوئے، میری مجلسوں میں لاکھوں سے زیادہ خوش بختوں کو توبہ و رجوع
نصیب ہوا اور کوئی بیس ہزار سے زیادہ ایسی کتابوں کا مطالعہ کیا جو جاہلوں کے بس کی
بات نہیں۔
سماعِ حدیث کے سلسلے میں میں مشائخ کے گھروں کے طواف
کرتا رہتا تھا، کبھی کبھی دوری کا اِحساس نفس کے لیے باعث مشقت بن جاتا،تاہم میں نے
شوق کو امام بنا کر اپنے اس سفر کو جاری رکھا۔اندازہ لگاؤ کہ جب صبح ہوتی تو میز پر
کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا،یوں ہی شام کے وقت بھی بھوکا رہنا پڑتا،تاہم مولا نے
کبھی کسی انسان کے سامنے جھکنے کی ذلت سے بچائے رکھا،اور اس نے خود ہی کہیں سے میری
عزت پر پردہ رکھنے کے لیے رزق کا انتظام فرما دیا۔
اس طرح اگر میں اپنے احوال بسط و تفصیل کے ساتھ بیان
کرنے پر آ جاؤں تودفتراس کے متحمل نہ ہوسکیں گے۔ تو مختصراً عرض یہ ہے کہ اب تم

اپنے سر کی آنکھوں سے خود ہی دیکھو کہ میری حالت و نوبت کہاں پہنچ آئی ہے۔لو اُن
ساری کیفیات کو میں اللہ کی اس آیت کی روشنی میں بیان کیے دیتا ہوں  :

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہ  ُ o
(سورۂ  بقرہ:
۲؍ ۲۸۲)
اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ تمہیں (سب کچھ )سکھادے
گا۔

 

 

(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
error: Content is protected !!