Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پانچویں وجہ بعد ِ توبہ استقامت نہ ملنے کا خوف

پانچویں وجہ بعد ِ توبہ استقامت نہ ملنے کا خوف

بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں کہ بعد ِ توبہ گناہوں سے بچ پائیں گے یا نہیں ؟ اس لئے توبہ کرنے کا کیا فائدہ ؟
اس کا حل:
یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ

زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔ وقتِ توبہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ، گناہوں سے بچنے پر استقامت دینے والی ذات تو رب العالمین کی ہے ۔اگر ارتکاب ِگناہ سے محفوظ رہنا نہ بھی نصیب ہوا تو بھی کم از کم گزشتہ گناہوں سے جان تو چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں ۔اگر بعد ِ توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہيے کہ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو ۔حضرتِسیدنا ابوسعیدرضي الله تعا لي عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،”شیطان نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کہا،”اے میرے رب!مجھے تیری عزت وجلال کی قسم!جب تک بندوں کے جسموں میں روح باقی ہے،میں انہیں بہکاتا رہوں گا۔”اللہ تعالیٰ نے جواباًارشاد فرمایا،” مجھے اپنی عزت وجلال اور بلندمقام کی قسم!میں ہمیشہ اس وقت تک ان کی مغفرت کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے۔”

(المسندللامام احمدبن حنبل ، مسند ابی سعید الخدری ، رقم ۱۱۲۳ ، ج ۴ ، ص ۵۸)

اور حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ”جب کوئی بندہ گناہ کر لیتا ہے اورپھر کہتا ہے کہ” اے مولا!میں نے گناہ کر لیا ،مجھے معاف کر دے۔” تو اللہ عزوجل فرماتا ہے ،” میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب عزوجل ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی لیتا ہے،(اے فرشتو!گواہ ہوجاؤ کہ)میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔پھر جتنا رب لچاہتا ہے بندہ ٹھہرا رہتا ہے ، ا س کے بعد پھر کوئی گناہ کر لیتا ہے ،پھر عرض کرتا ہے،” یا الٰہی عزوجل ! میں نے پھر گناہ کر لیا، بخش دے ۔” تو رب کریم عزوجل فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب

مجھے معاف کر دے ۔”تو رب عزوجل فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی لیتا ہے ۔(اے فرشتو!گواہ ہوجاؤ کہ)میں نے اپنے بندے کی بخشش فرمادی ،اب جو چاہے کرے ۔ (صحیح البخاری ،کتاب التو حید ، رقم ۷۵۰۷،ج ۴ ، ص ۵۷۵ )
اس انداز سے غوروفکر کرنے کی برکت سے مذکورہ رکاوٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ ان شاء اللہ عزوجل

تُوْبُوْا اِلَی اللہِ (یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)

اَسْتَغْفِرُ اللہَ (میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)

error: Content is protected !!