پڑوسی کا حق ضائع کرنے والا ہم سے نہیں

پڑوسی کا حق ضائع کرنے والا ہم سے نہیں

 

رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:فَمَنْ یُضِیْعُ حَقَّ جَارِہٖ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو اپنے پڑوسی کا حق تلف کرے ’’وہ ہم سے نہیں۔‘‘(المطالب العالیہ،کتاب الادب،باب جمل من الادب، ۷/۱۱۸،حدیث:۲۶۰۴)

پڑوسیوں کو گوشت اور کپڑے دیا کرتے

حضرت ِسیِّدُنا عبداللّٰہ بن ابی بکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اپنے پڑوس کے گھروں میں سے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھروں کے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے،عید کے موقع پر انہیں قربانی کا گوشت اور کپڑے بھیجتے اور ہر عید پر سو غلام آزاد کیا کرتے تھے۔(المستطرف،الباب الثالث والثلاثون،۱/۲۷۶)

پڑوسی کے گیارہ حقوق

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :نبی صلّی اللّہ علیہ وآلہٖ وسلّمنے فرمایا:پڑوسی کے گیارہ حق ہیں ( ۱) جب اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہو اس کی مدد کرو (۲) اگر معمولی قرض مانگے دے دو ( ۳) اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو (۴) وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی بلکہ ضرورت ہو تیمار داری کرو(۵) مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جائو(۶) اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو (۷) اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو (۸) اپنا مکان اتنا اونچا نہ بنائو کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے (۹) گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیۃ بھیجتے رہو، نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں(۱۰) اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو(۱۱) اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللّٰہرحم فرمائے

(مرقات){مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:}کہا جاتا ہے ہمسایا اور ماں جایا (یعنی سگا بھائی)برابر ہونے چاہئیں ۔ افسوس مسلمان یہ باتیں بھول گئے قرآنِ کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۲)

اچھا کیا یا بُرا؟

ایک شخص نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ و سلَّمکی خدمتِ باعظمت میں عرض کی :یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! مجھے کیونکر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برُا؟ارشاد فرمایا:جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا تو بے شک تم نے اچھا کیا، اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برُا کیا تو بیشک تم نے برُا کیا ۔
( ابن ماجہ،کتاب الزہد،باب الثناء الحسن،۴/۴۷۹،حدیث:۴۲۲۳)

د یوار کی مٹی(حکایت )

ایک بزرگ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں نے کسی کو خط لکھااور اسکی سیاہی پڑوسی کی دیوار کی مٹی سے خشک کرنے لگا ۔میر ے دل نے پڑوسی کی دیوار سے مٹی لینا اچھا نہ سمجھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس معمولی سی مٹی کی کیا حیثیت اور اسکے لئے اجازت لینے کی کیا ضرورت؟ چنانچہ میں نے مٹی لے کر سیاہی کو خشک کرنا شروع کر دیا جب مٹی خط پر ڈالی ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا، وہ آواز

کچھ یوں تھی:
سَیَعْلَمُ مَنِ اسْتَخَفَّ بِتُرَابِ مَا یَلْقٰی غَدًا مِنْ سُوْ ءِ الْحِسَابِ
ترجمہ:جو شخص مٹی کو معمولی سمجھتا ہے اسے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اسکا حساب کتنا برا ہے۔( احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ۔۔۔الخ،بیان تفصیل الاعمال۔۔۔الخ،۵/ ۹۹)
امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور ناراض پڑوسی (حکایت )
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’جنتی محل کا سودا‘‘ کے صفحہ 33پر لکھتے ہیں:یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں شہید مسجد ،کھارادَر، بابُ المدینہ کراچی میں اِمامت کی سعادت حاصل کرتا تھا،اور ہفتے کے اکثر دن بابُ المدینہ کے مختلف علاقوں کی مسجِدوں میں جا کر سنّتوں بھرے بیانات کر کرکے مسلمانوں کو دعوتِ اسلامی کا تعارُف کروا رہا تھااور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مسلمانوں کی ایک تعداد میری دعوت قبول کر چکی تھی اور دعوتِ اسلامی اٹھان لے رہی تھی مگر ابھی دعوتِ اسلامی ایک کمزور پودے ہی کی مِثل تھی ۔واقِعہ یوں ہوا کہ مُوسیٰ لین، لیاری،بابُ المدینہ میں جہاں میری قِیام گاہ تھی وہاں کامیرا ایک پڑوسی کسی ناکردہ خطا کی بناء پر صرف وصرف غَلَط فہمی کے سبب مجھ سے سخت ناراض ہو گیا اور بِپھر کرمجھے ڈھونڈتا ہواشہید مسجد پہنچا۔میں وہاں موجود نہ تھا بلکہ کہیں سنّتوں بھرا بیان کرنے گیا ہوا تھا،لوگوں کے بقول اُس شخص نے مسجِدمیں نمازیوں کے سامنے میرے بارے میں سخت برہمی کا اظہار کیا اور کافی شور مچایا اور اعلان کیا کہ میں الیاس قادری کے

(کارناموں) کابورڈ چڑھائوں گا وغیرہ۔ میں نے کوئی انتِقامی کاروائی نہ کی نیز ہمّت بھی نہ ہاری اور اپنے مَدَنی کاموں سے ذرہ برابر پیچھے بھی نہ ہٹا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند روز کے بعد جب میں اپنے گھر کی طرف آ رہا تھا تو وُہی شخص چند لوگوں کے ہمراہ مَحَلّے میں کھڑا تھا،،میری کسوٹی کا وقت تھا، ہمّت کی اور اُس کی طرف ایک دم آگے بڑھ کر میں نے کہا:’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ اِس پر اُس نے باقاعدہ منہ پھیرلیا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ میں جذبات میں نہ آیا بلکہ مزید آگے بڑھ کرمیں نے اُس کو بانہوں میں لیا اور اُس کا نام لے کر مَحَبَّت بھرے لہجے میں کہا:’’بَہُت ناراض ہو گئے ہو!‘‘میرے یہ کہتے ہی اُس کا غصّہ ختم ہوگیا، بے ساختہ اُس کی زَبان سے نکلا:نابھئی نا! الیاس بھائی کوئی ناراضگی نہیں ! اور پھر۔۔۔پھر۔۔۔ میرا ہاتھ پکڑ کر بولا: چلو گھر چلتے ہیںآپ کو میرے ساتھ ٹھنڈی بوتل پینی ہوگی۔‘‘ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ اپنے گھر لے جا کر اس نے میری خیرخواہی کی۔
ہے فَلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بِگڑ جاتا ہے نادانی میں
جس کی کشتی ہو محمد کی نگہبانی ڈوب سکتی ہی نہیں موجوں کی طُغیانی میں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

برائی کو بھلائی ختم کرتی ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ اُصول یاد رکھئے! کہنَجاست کونَجاست سے نہیں پانی سے پاک کیا جاتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی آپ کے ساتھ نادانی وشدّت بھرا
سُلوک کرے تب بھی آپ اُس کے ساتھ نرمی و مَحَبَّت بھرا سُلوک کرنے کی کوشِش فرمائیے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس کے مُثبَت نتائج دیکھ کر آپ کا کلیجہ ضَرور ٹھنڈ ا ہو گا۔ حضرت سیدنا حکیم لقمان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے میرے بیٹے!جو شخص یہ کہتا ہے کہ برائی کو برائی دور کرتی ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔اگر وہ سچا ہے تو دوآگیں روشن کرے اور دیکھ لے کہ کیا ایک آگ دوسری کو بجھاتی ہے ۔برائی کو تو بھلائی دور کرتی ہے جیسے آگ کو پانی بجھاتا ہے۔(المستطرف،الباب الثانی والثلاثون،۱/۲۶۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!