Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چھ کے صدقے چھ لاکھ کا حج قبول کر لیا گیا

چھ کے صدقے چھ لاکھ کا حج قبول کر لیا گیا :

حضرتِ سیِّدُنا علی بن مُوَفَّقْ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد میں مسجدخیف ومنیٰ کے درمیان سو گیا۔ میں نے آسمان سے اُترتے دو فرشتے دیکھے، ایک نے دوسرے سے کہا: ”اے اللہ کے بندے!کیاتو جانتاہے کہ اس سال کتنے لوگوں نے بیت اللہ شریف کا حج کیا؟ تواس نے کہا: ”نہیں ۔” پھرپہلے نے خود ہی بتایا: ”چھ لاکھ افراد نے۔” پھر اس نے پوچھا: ”کیا تو جانتاہے کہ کتنے افراد کاحج قبول ہوا؟” اس نے جواب دیا: ”نہیں۔” تو اس نے بتایا کہ اس بار صرف چھ افراد کا حج قبول ہوا ہے۔پھر وہ دونوں فضا میں پروازکرگئے۔ میں بیدار ہوا اس حال میں کہ میں ڈر رہاتھا۔میں نے کہا:”ہائے افسوس! میں ان چھ میں سے کہاں ہوں گا؟”جب میں نے عرفات میں وقوف کیا اور مزدلفہ میں رات گزاری تو انہی دو نوں فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حسب ِ عادت آسمان سے نازل ہوئے۔ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور کہا:”اے اللہ کے بندے!کیا تو جانتا ہے کہ تیرے رب
عَزَّوَجَلَّ نے اس رات کیافیصلہ فرمایا ہے؟”اس نے کہا:”نہیں ” تو پہلے نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان چھ مقبولین میں سے ہر ایک کی وجہ سے ایک ایک لاکھ کو بخش دیا اور تمام کا حج قبول فرمالیا ہے ۔پھر میں بیدار ہوگیا اور مجھے اتنی خوشی تھی کہ جس کو اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا،کیونکہ تمام حجاج کا حج قبول فرما لیاگیا اورجودو کرم سے نوازا گیااور کسی کو بدبخت ومحروم نہ کیا گیا۔

error: Content is protected !!