کیا اب بھی باز نہیں آئیں گے ؟

کیا اب بھی باز نہیں آئیں گے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مسلمان کوبلا وجہِ شرعی تکلیف دینے والا اپنی زندگی میں ، موت کے وقت ، حسابِ حشر میں اور سب سے بڑھ کر عذاباتِ جہنم کی وجہ سے خود تکلیف میں آجائے گا ، کیا یہ سب کچھ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی نہیں ہے ! کیا اب بھی ہم مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہیں آئیں گے ! آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم کس کس انداز سے دوسروں کے لئے باعثِ تکلیف بن سکتے ہیں ؟ چنانچہ

(1)مسلمان کو گھور کر دیکھنا

کسی کو ڈرانے یا خوفزدہ کرنے کے لئے صرف ہاتھ پاؤں یا چھڑی یا اسلحہ ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ کام آنکھوں سے بھی لیا جاتا ہے ،چنانچہ ہمارے معاشرے میں تیزنگاہوں سے گھورکرڈرانا بہت معمولی سمجھا جاتا ہے(بالخصوص بچوں کو) ، لیکن یہ

نادانی ہے ، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو اپنے بھائی کی طرف ڈرانے والی نظروں سے گھورے اللّٰہ تعالٰی اسے قیامت کے دن ڈرائے گا۔(شعب الایمان،باب فی طاعۃ اولی الامر،فصل فی ذکر۔۔۔الخ، ۶/۵۰،حدیث: ۷۴۶۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔ (مزید لکھتے ہیں:)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللّٰہ تعالٰی اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/۳۶۹)

آنکھ سے تکلیف پہنچانا جائز نہیں

سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے اِس طرح اشارہ کرے جس سے تکلیف پہنچے۔(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثالث،۲/۲۴۳)ایک مقام پر ارشاد فرمایا:کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ (ابوداوٗد،کتاب الادب،باب من یاخذ۔۔۔الخ، ۴/۳۹۱، حدیث:۵۰۰۴)
المدد یا شَہِ اَبرار مدینے والے
قلب سے خوفِ خدا دُور ہوا جاتا ہے
(وسائلِ بخشش،ص۴۳۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *