گھر میں قبر:

صالحین کی حکا یا ت

گھر میں قبر:

حضرت سیِّدُنا محمد بن سماک واعظ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ” ایک دفعہ میرے سامنے ایک عابد کی تعریف کی گئی۔ چنانچہ میں اس کی زیارت کے لئے چل پڑا۔ میں نے اس کو گھر میں پایااوردیکھاکہ اس نے ایک قبر کھود رکھی ہے اور قبر کے کنارے بیٹھ کر، اپنے سامنے کھجور کے پتے سیدھے کررہا ہے۔ میں نے اسے سلام کیا، اس نے دھیمی آواز میں سلام کاجواب دینے کے بعد پوچھا: ”آپ کون ہیں؟”میں نے کہا :”محمد بن سماک۔” وہ بولا: ”محمد بن سماک واعظ؟” میں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس نے کھجور کے پتے رکھ دئیے اور کہنے لگا: ”اے ابن سماک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ! سننے والے کے لئے واعظ اسی طرح ہے جیسے بیمار کے لئے طبیب۔لہٰذا آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔”
میں نے اسے وعظ ونصیحت کرتے ہوئے کہا: ”کیا آپ اس سے ڈرتے نہیں کہ آپ کی خطائیں بھلائی نہ جائیں گی اور آپ کے گناہ مٹا ئے نہ جائیں گے۔ پھرآپ کے سامنے کتنی سختیاں، ہولناکیاں، تکالیف اور مصائب وآلام ہیں۔جن میں سے پہلی قبر کی تاریکی ہے،پھر حشرونشر کی تاریکی، پھر پل صراط کی تاریکی، پھر اعمال کا وزن کیا جانا، پھر اُمیدوں کا منقطع ہو جانا اور پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب فرمانا۔”یہ سن کروہ شدت سے رونے لگ گیا۔ پھر کہنے لگا: ”اے ابن سماک! اس کے بعد کیا ہوگا؟”میں نے کہا: ”اس کے بعد گناہوں کا بھاری بوجھ اٹھاکر جہنم کی آگ پر سے گزرناہے اور سب سے بڑھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا زجر وتوبیخ فرمانا ہے۔” اس نے جب یہ سنا تو ایک زور دار چیخ ماری اور قبر میں جا گِرا۔ ایک بہت بوڑھی عورت باہر نکلی، وہ اس کے چہرے سے مِٹی صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھی: ”ان دو آنکھوں پر میرے ماں باپ قربان! انہوں نے عرصۂ درازسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں شب بیداری کی اور عرصۂ دراز تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے روتی رہیں۔ پھر اُس نے اسے حرکت دی اور دیکھا تو اس کا طائر ِ روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کرچکا تھا۔ میں اس کے گھر سے نکلا تو اچانک حضرت سیِّدُنا سری سقطی،حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم،حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ م اور عابدوں کا ایک قافلہ دیکھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”کیا حضرت سیِّدُنا ابویزید خوَّاص رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہو گیا؟” میں نے کہا: ”جی ہاں۔” پھر میں نے ان کو ان کے گھر کا راستہ بتایا۔ وہ اندر داخل ہوئے تاکہ اسے قبر سے نکال کر غُسل و کفن کا انتظام کریں تو اس کو اس حال میں پایا کہ اسے غسل دیا جاچکا تھااور پاکیزہ کفن بھی پہنا دیاگیاتھا۔ پھر مسلمانوں نے اس کی نمازِجنازہ پڑھی اور میں اپنے گھر لوٹ آیا۔اس وقت میں اپنے آپ کو بہت ذلیل و حقیر محسوس کر رہا تھا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!