Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر109: بطورِتکبرشلوار،کپڑا،آستين يا دامن بڑا رکھنا کبيرہ نمبر110: اِترا کر چلنا

 (1)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”ازار (یعنی تہبند) کا جو حصہ ٹخنوں سے نيچے ہو وہ جہنم ميں ہے۔”
(صحیح البخاری ،کتاب اللباس،باب اسفل من الکعبین فھو فی النار،الحدیث:۵۷۸۷،ص۴۹۴)
 (2)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”مؤمن کا ازار اس کی پنڈلی کے پٹھوں تک ہے، پھر نصف پنڈلی تک، پھر ٹخنوں تک اور ٹخنوں سے نيچے جو ہوگا وہ جہنم ميں ہے۔”
 ( الترغیب والرھیب،کتاب اللباس والزینۃ ،باب الترغیب فی القمیص۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲،ج۳،ص ۶۴)
 (3)۔۔۔۔۔۔نبیئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی   اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے :”اللہ عزوجل قيامت کے دن اس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہ فرمائے گا جو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلے گا۔”
 (صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم جر الثوب۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۵۴،۵۴۵۳،ص۱۰۵۱)
    اور ایک روایت میں ہے کہ ” اللہ عزوجل اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گاجو غرور کی وجہ سے اپنا کپڑاگھسیٹ کر چلے گا۔”
 (المرجع السابق، الحدیث:۵۴۶۳،ص۱۰۵۱)
 (4)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑاگھسیٹ کر چلے گا اللہ عزوجل اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔” تو حضرت سیدنا ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اگر ميں اپنے تہبند کا خيال نہ رکھوں تو وہ ڈھيلا ہو کرلٹک جاتا ہے۔” توحضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمايا:”تم ان لوگوں ميں سے نہيں ہو جو تکبر کی وجہ سے ايسا کرتے ہيں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (سنن ابی داؤد،کتاب اللباس،باب فی قدرموضع الازار،الحدیث:۴۰۹۵،ص۱۵۲۲)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ ميں نے اپنے ان دو کانوں سے رسول اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کويہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :”جو محض تکبر اور لوگوں کی تحقير کے ارادے سے اپنا تہبند گھسیٹ کر چلے گا اللہ عزوجل قيامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔”
 (صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم جرالثوب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۴۵۹،ص۱۰۵۱)
 (6)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے ارشاد فرمايا :”حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جو احکام ازار يعنی تہبند کے بارے ميں ارشاد فرمائے قميص کے بھی وہی ہيں۔”  (سنن ابی داؤد ،کتاب اللباس، باب فی قد ر موضع الازار ، الحدیث: ۴۰۹۵ ، ص ۱۵۲۲)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا علاء بن عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہيں کہ ميں نے حضرت سیدنا ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تہبند کے بارے ميں سوال کيا؟” تو انہوں نے ارشاد فرمايا:”تم نے ايک باخبر آدمی سے سوال کيا ہے، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”مؤمن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہو تو حرج نہيں۔” يا ارشاد فرمايا :”اگر نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درميان ہو تو گناہ نہيں اور جو اس سے نيچے ہو وہ جہنم ميں ہے اور جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکا کر چلے گا اللہ عزوجل قيامت کے دن اس پرنظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( ابو داؤد،کتاب اللباس،باب فی قدرموضع الازار،الحدیث:۴۰۹۳،ص۱۵۲۲”المؤمن”بدلہ”المسلم”)
 (8)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ ميں شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہوا تو لمبائی کی وجہ سے ميرا تہبند لٹک رہا تھا،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ”يہ کون ہے؟” ميں نے عرض کی: ”عبد اللہ بن عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہما)۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم واقعی اللہ عزوجل کے بندے ہوتو اپنا تہبند اونچا کر لو۔” لہٰذاميں نے اپنا تہبند آدھی پنڈليوں تک کر ليا۔” پھر مرتے دم تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا تہبند اتنا ہی رہا۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمربن الخطاب، الحدیث:۶۲۷۱،ج۲،ص۵۱۰)
 (9)۔۔۔۔۔۔اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :” تین شخص ايسے ہيں کہ جن سے اللہ عزوجل نہ تو کلام فرمائے گا، نہ ان پر نظرِرحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہيں پاک فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔” خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین،شفیع المذنبین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ بات تین مرتبہ ارشاد فر مائی، حضرت سيدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! خائب وخاسر ہونے والے يہ لوگ کون ہيں؟” تو حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”کپڑا لٹکانے والا، احسان جتا نے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بيچنے والا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( الترغیب والترھیب،کتاب اللباس والزینۃ،باب الترغیب فی القمیص،الحدیث:۳۱۲۹،ج۳،ص۵۸)
 (10)۔۔۔۔۔۔ايک اور روايت ميں ”تہبندلٹکانے والا”کے الفاظ آئے ہیں۔”
 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار،الحدیث:۲۹۳،ص۶۹۶)
 (11)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”کپڑا لٹکانے کاعمل تہبند، قميص اور عمامہ ميں بھی ہو سکتا ہے، جو تکبر کی وجہ سے ان میں سے کوئی چیز گھسیٹے گا اللہ عزوجل بروزِقيامت اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔”
 ( سنن ابی داؤد ،کتاب اللباس ، باب فی قدر موضع الازار ، الحدیث: ۴۰۹۴،ص۱۵۲۲)
(12)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”تہبندلٹکانے سے بچتے رہو کيونکہ يہ تکبر ميں سے ہے اور اللہ عزوجل اسے پسند نہيں فرماتا۔”
 ( سنن ابی داؤد ،کتاب اللباس ، باب ماجاء فی اسبال الازار ، الحدیث: ۴۰۸۴ ، ص۱۵۲۱)
 (13)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ہے :”اے مسلمانوں کے گروہ! اللہ عزوجل سے ڈرو اور آپس ميں صلہ رحمی کرو کيونکہ صلہ رحمی سے زيادہ جلدکسی چیزکا ثواب نہيں ملتا، ظلم سے بچتے رہو کيونکہ ظلم سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہيں ملتی اور والدين کی نافرمانی سے بچتے رہوجنت کی خوشبو 1,000سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے مگر خداعزوجل کی قسم! والدين کا نافرمان، قطع رحمی کرنے والا، بوڑھا زانی اور تکبر کی وجہ سے تہبندلٹکانے والا جنت کی خوشبونہ پاسکے گا، بے شک کبريائی تمام جہانوں کے پروردگار اللہ عزوجل کے لئے ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۵۶۶۴ ، ج۴ ،ص ۱۸۷)
 (14)۔۔۔۔۔۔اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ ”جس نے تکبر کی وجہ سے اپنے پہنے ہوئے کپڑے لٹکائے اللہ عزوجل قيامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گااگرچہ وہ اللہ عزوجل کے نزديک معزز ہی کيوں نہ ہو۔”
 (مجمع الزوائد ،کتاب اللباس ، باب فی الازار وموضعہ ، الحدیث: ۸۵۴۰، ج۵، ص۲۲۱ )
 (15)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جبرائيل علیہ السلام نے ميرے پاس حاضر ہو کر عرض کی :”يہ شعبان کی پندرھویں رات ہے، اس رات ميں اللہ عزوجل بنی کلب کی بکريوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے،لیکن اس رات ميں اللہ عزوجل مشرک، جادوگر، قطع رحمی کرنے والے، چادر لٹکانے والے، والدين کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہيں فرماتا۔”
 ( الترغیب والتر ھیب ،کتا ب الصوم ، باب التر غیب فی صوم شعبان، الحدیث: ۱۵۵۳،ج۲، ص۳۵ )
 (16)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا بريدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ہم مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر تھے کہ قريش کا ايک شخص اپنے حلّے(جبے)ميں اِتراتا ہوا آيا، جب وہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ سے جانے لگا، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”اے بريدہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! اللہ عزوجل قيامت کے دن اس کے لئے ميزان قائم نہيں فرمائے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( مجمع الزوائد،کتاب اللباس،باب فی الازار وموضعہ ، الحدیث:۸۵۳۲،ج۵،ص۲۱۹)

تنبیہ:

    ان احادیثِ مبارکہ ميں صراحۃ ًبيان کی گئی شديد وعيد کی بناء پر اس گناہ کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اورحضرات شيخين و صَاحِبُ العُدَّہ کی اس بات کو برقرار رکھنا کہ اِترا کر چلنا صغيرہ گناہ ہے۔” اس بات پر محمول ہے جبکہ اس کی حالت سے مخلوق کی تحقير کا پہلو نہ نکلتا ہو ورنہ يہ کبيرہ گناہ ہے کيونکہ ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصريح گزر چکی ہے کہ تکبر کبيرہ گناہ ہے، اسی لئے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ايک جماعت نے شيخين پر يہ اعتراض کيا ہے کہ اِتراکرچلنے کوصغیرہ گناہ پربرقرار رکھنا محلِ نظر ہے بشرطیکہ وہ تکبر و فخر کی نيت سے اترا کر چلے کيونکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿37﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمين ميں اتراتا نہ چل بے شک ہر گز زمين نہ چير ڈالے گا اور ہر گز بلندی ميں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔(پ15، بنی اسرائیل: 37)
error: Content is protected !!