Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر111: سياہ خضاب لگانا یعنی داڑھی وغيرہ کو بلا کسی مقصد( مثلاً جہاد وغیرہ) کے سياہ خضاب لگانا

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آخر ی زمانے ميں ایسے لوگ ہوں گے جو کبوتروں ۱؎ کے سينوں جيسا سياہ خضاب لگائیں گے وہ لوگ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ سکيں گے۔”
 (سنن ابی داؤد،کتاب الترجل،باب ماجاء فی خضاب السواد، الحدیث:۴۲۱۲،ص۱۵۲۹)

تنبیہ:

    حديثِ مبارکہ ميں وارد اس سخت وعيد کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ ميں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہيں ديکھا، ميرے خيال ميں اسے کتاب الصلوٰۃ ميں بيان کردہ شرائط کے ساتھ ذکر کرنا زيادہ مناسب ہے، مگر چونکہ يہ اس باب سے بھی کچھ نہ کچھ مناسبت رکھتا ہے لہٰذا اسے يہاں ذکر کر ديا گيا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎:یہاں کبوتروں سے مراد جنگلی کبوتر ہیں کیونکہ ان کے سينے اکثر سیاہ ہوتے ہيں، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہيں:”جنگلی کبوتروں کے سینے اکثرسیاہ و نیلگوں ہوتے ہیں،نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اُن(یعنی سیاہ خضاب لگانے والوں ) کے بالوں اور داڑھیوں کو اُن(جنگلی کبوتروں ) سے تشبیہ دی ۔”(فتاوی رضویہ ،ج۲۳،ص۴۹۶)
error: Content is protected !!