کبيرہ نمبر130: صدقہ ميں خيانت کرنا

(1)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہم تم ميں سے جسے کسی کام پر عامل بنائيں پھر وہ ہم سے ايک سوئی يا اس سے زيادہ کوئی شئے چھپائے تو يہ وہ خيانت ہو گی جسے وہ قيامت کے دن لے کر آئے گا۔” ايک انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری ذمہ داری مجھ سے لے ليجئے۔” سرکارِ مدينہ، راحتِ قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا :”تمہيں کيا ہوا؟” اس نے عرض کی”ميں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ايساايسا فرماتے سنا ہے۔” شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”ميں اب بھی يہی کہتا ہوں کہ ہم تم ميں سے جسے کسی کام پر عامل بنائيں اور وہ قليل و کثير لے آئے پھر اسے جو کچھ ديا جائے لے لے اور جس سے منع کيا جائے اس سے بازآجائے۔”
Advertisement
   (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ، باب تحریم ھدایا العمال،الحدیث:۴۷۴۳،ص۱۰۰۷)
 (2)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سيدناسعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمايا:”اے ابووليد! اللہ عزوجل سے ڈرو، قيامت کے دن اس طرح مت آنا کہ تم نے ايک بلبلاتا ہوا اونٹ،ڈکراتی ہوئی گائے يامنمناتی ہوئی بکری اٹھا رکھی ہو۔” انہوں نے عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کيا ايسا بھی ہو گا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” ہاں! اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت ميں ميری جان ہے!” انہوں نے عرض کی،”(مجھے بھی) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھيجا! ميں کبھی بھی کسی چيز پر عامل نہيں بنوں گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الزکاۃ،باب غلول الصدقۃ،الحدیث: ۷۶۶۳،ج۴،ص۲۶۷)
 (3)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے :” عنقريب تم پر مشرق و مغرب کی زمينوں کے دروازے کھل جائيں گے لیکن ان کے عمال (یعنی حکمران) جہنمی ہوں گے سوائے اس کے جو اللہ عزوجل سے ڈرے اور امانت ادا کرے ۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل، أحادیث رجال من اصحاب النبی، الحدیث: ۲۳۱۷۰،ج۹ص۴۴)
 (4)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ميں رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کے ساتھ بقیعِ غرقَد میں پيدل چل رہا تھا کہ ميں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو” تجھ پرافسوس، تجھ پرافسوس۔” کہتے ہوئے سنا، ميں پيچھے ہٹ گيا اور سمجھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ مجھ سے فرمايا ہے، لیکن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”کيا ہوا، چلو!”ميں نے عرض کی،”کيا ميں نے کوئی نيا کام کيا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”نہيں۔” میں نے عرض کی”پھر آپ نے مجھ پرافسوس کيوں کیا؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”تم پر سے نہيں کیا، بلکہ يہ فلاں شخص ہے جسے ميں نے بنی فلاں پر صدقہ لينے کے لئے عامل بنا کر بھيجا پھر اس نے ايک دھاری دار اونی چادر ميں خيانت کی تو اسے اتنی ہی مقدار ميں جہنم کی زرہ پہنا دی گئی۔”
   (سنن النسائی،کتاب الامامۃ،باب الاسرع الی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۸۶۳،ص۲۱۴۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (5)۔۔۔۔۔۔نبی کريم، ر ء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”صدقہ کے مال ميں ظلم کرنے والا صدقہ روک لينے وا لے کی طرح ہے۔”
 (جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ ، باب ماجاء فی المتعدی فی الصدقۃ ،الحدیث: ۶۴۶،ص۱۷۱۰)
    سیدناامام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :” جس طرح صدقہ روکنے والا گنہگار ہے اسی طرح يہ بھی گنہگار ہے۔”
(6)۔۔۔۔۔۔رسول اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ميں تمہيں پشتوں سے پکڑ کر جہنم سے روکتا ہوں
کہ جہنم سے دورہٹو، جہنم سے بچو، جہنم سے دور ہو جاؤ اور تم ہو کہ مجھ پر غالب آ جاتے ہو اور پتنگوں يا ٹڈيوں کی طرح (اس میں) گرنے لگتے ہو، قريب ہے کہ میں تمہاری پشتوں کو چھوڑ دوں، اور ميں حوضِ(کوثر)پرتمہارے لئے فَرَط ہوں(فَرَط اس شخص کو کہتے ہیں جولوگوں سے پہلے منزل پرپہنچ کران کے لئے آرام وغیرہ کا اہتمام کرے ۱؎)تم میرے پاس اکٹھے اور ايک ايک کر کے آؤ گے اور ميں تمہيں تمہارے چہروں اور ناموں سے پہچان لوں گا جيسا کہ آدمی اپنے اونٹوں ميں اجنبی اونٹ پہچان ليتا ہے، تمہيں بائيں ہاتھ والوں ميں بھيجا جائے گا اور ميں تمہارے لئے رب عزوجل کی بارگاہ ميں قسم کھاؤں گا اور کہوں گا :”اے ميرے رب عزوجل ! ميری قوم! اے ميرے رب عزوجل! ميری اُمت!” تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :”اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم!تم نہيں جانتے کہ انہوں نے تمھارے بعد کيا کيا؟ يہ تمھارے بعد پچھلے پاؤں لوٹ گئے تھے۔” لہذا تم ميں سے کوئی ايسانہ ہو کہ قيامت کے دن اس نے ايک بکری اٹھا ئی ہوئی ہو اور وہ منمنا رہی ہو اور پکارے :”اے محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)! اے محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)!”تو ميں کہوں :”ميں تمہارے لئے کسی چيز کا مالک نہيں، یقینا ميں نے تمہيں پيغامِ خداعزوجل پہنچا ديا تھا۔” 
    اور تم ميں سے کوئی ايسا بھی نہ ہو کہ وہ قيامت کے دن ايک گھوڑا اٹھائے ہوئے آئے جو آواز نکال رہا ہو پس وہ پکارے: ”اے محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)! اے محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)!” تو ميں کہوں :”ميں اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں تمہارے لئے کسی چيز کا مالک نہيں، بے شک ميں نے تمہيں پيغامِ خداپہنچا ديا تھا۔” اور تم ميں سے کوئی ايسا بھی نہ ہو کہ وہ قيامت کے دن چمڑے کا مشک اٹھائے ہوئے ہو وہ پکارے :”اے محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)! اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم)!”تو ميں کہوں:”ميں تمہارے لئے کسی چيز کا مالک نہيں، بے شک ميں نے تمہيں اللہ عزوجل کاپيغامِ پہنچا ديا تھا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (الترغیب والترہیب ، الترغیب فی العمل علی الصدقۃ ،الحدیث: ۱۲،ج۱۱۷۵،ص۳۷۸)
۱؎حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ الرحمن لفظ فرط کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع ،فرط وہ شخص ہے جوکسی جماعت سے آگے منزل پرپہنچ کران کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کاانتظام کرے جس سے وہ جماعت آکرہرطرح آرام پائے ،مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہاہوں تاکہ تمہاری شفاعت، تمہاری نجات، تمہاری ہرطرح کارسازی (یعنی مدد)کروں تم میں سے جوبھی ایمان پرفوت ہوگاوہ میرے پاس میری حفاظت، میرے انتظام میں اس طرح آوے گاجیسے مسافراپنے گھرآتاہے ،بھرے گھرمیں۔(اشعۃاللمعات)مومن مرتے ہی حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس پہنچتاہے بلکہ بعض مومنوں کی جانکنی کے وقت خودحضورانور(صلی اللہ علیہ وسلم)انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری (علیہ رحمۃاللہ الباری)کاواقعہ ہوا،اوربہت مرنے والوں سے(نزاع کے وقت)سناگیاحضور(صلی اللہ علیہ وسلم)آگئے،خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کوبھی ”فرط” فرمایاگیاہے مگروہ ”فرطِ ناقص” ہیں۔حضورانور(صلی اللہ علیہ وسلم)”فرط کامل” یعنی ہرطرح کے منتظم نیز”اَیْدِیْکُمْ” میں خطاب ساری امت میں ہے نہ کہ صحابہ کرام (علیہم الرضوان)سے حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)
 (9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبد اللہ بن احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو تھوڑی چيز کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ عزوجل کا شکرادا نہيں کر سکتااور جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ عزوجل کا شکر ادانہيں کر سکتا، اللہ عزوجل کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا بھی اس کا شکر ادا کرنا ہی ہے جبکہ اس کی نعمتوں کا اظہار نہ کرنا کفرانِ نعمت(یعنی نعمتوں کی ناشکری) ہے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

    مذ کورہ گناہوں کو کبائر ميں شمار کرنا ظاہر ہے، اگرچہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان کی تصريح نہيں کی کيونکہ ان کی کئی مقامات ميں وضاحت ہے اور تحقيق انہوں نے مطلق خيانت کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا ہے اور وہ ان کو اور ان کے علاوہ گناہوں کو بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!