Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر137 مخلوق کی ناشکری کرنا

        یعنی مخلوق کی ایسی ناشکری کرناجس سے اللہ عزوجل کی ناشکری لازم آئے۔
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اللہ عزوجل کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ عزوجل کے نام پر تم سے سوال کرے اسے ديا کرو، جو اللہ عزوجل کے نام پر تم سے فریاد رسی چاہے اس کی مدد کرو، جو تم سے بھلائی کے ساتھ پيش آئے تو اسے اچھا بدلہ دو اور اگر تم اس کی استطاعت نہ رکھو تو اس کے لئے اتنی دعا کروکہ تمہيں يقين ہو جائے کہ اس کا بدلہ چکا ديا ہے۔”
 (سنن النسائی، کتاب الزکاۃ ، باب من سال باللہ عزوجل ، الحدیث: ۲۵۶۸،ص۲۲۵۴)
 (2)۔۔۔۔۔۔ايک اورروايت ميں ہے :”پھر اگر تم اس کا بدلہ دينے سے عاجز رہو تو اس کے لئے اتنی دعائيں مانگو کہ تمہيں يقين ہو جائے کہ اس کا شکريہ ادا کر چکے ہو کيونکہ اللہ عزوجل شاکر (یعنی شکر قبول کرنے والا) ہے اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔”  (المعجم الاوسط،الحدیث: ۲۹،ج۱،ص۱۸)
 (3)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ اِنسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جسے کچھ عطا کيا گيا اگر وہ وسعت پائے تو اس کابدلہ ضرور دے اور اگر وسعت نہ پائے تو اس کی تعريف ہی کر دے کيونکہ جس نے تعريف کی اس نے شکر ادا کيا اور جس نے چھپايا اس نے ناشکری کی۔”
(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المتشبع۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۰۳۴،ص۱۸۵۵)
(4)۔۔۔۔۔۔سرکارِ مدينہ، راحتِ قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس کے ساتھ بھلائی کی گئی اوراُس نے تعريف کے علاوہ کوئی جزاء نہ پائی تب بھی گويا اس نے شکر ادا کيا اور جس نے اسے چھپايا اس نے ناشکری کی اور جو کسی باطل شئے سے مزين ہو وہ جھوٹ کا لبادہ پہننے والے کی طرح ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ،باب المسالۃ والاخذ وما یتعلق بہ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۴۰۶،ج۵،ص۱۷۵)
(5)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس پر احسان کيا جائے اور وہ اسے ياد رکھے توگويا اس نے اس کا شکر ادا کيا اور اگروہ اسے چھپائے تو اس نے ناشکری کی۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث: ۴۸۱۴،ص۱۵۷۷)
(6)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”بے شک لوگوں ميں اللہ عزوجل کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ وہی ہے جو ان ميں سے لوگوں کا زيادہ شکر گزار ہے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث الاشعث بن قیس الکندی،الحدیث: ۲۱۹۰۵،ج۸،ص۱۹۷)
(7)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو لوگوں کا شکر ادا نہيں کرتا وہ اللہ عزوجل کا شکر گزار نہيں ہو سکتا۔”
     (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث: ۴۸۱۱،ص۱۵۷۷)
 (8)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس کے ساتھ اچھا سلوک کيا جائے اسے چاہے کہ اسے ياد رکھے کيونکہ جس نے احسان کو ياد رکھاگويا اس نے اس کا شکر ادا کيا اور جس نے اسے چھپايا بے شک اس نے ناشکری کی۔”
     (المعجم الکبیر، الحدیث:۲۱۱،ج۱،ص۱۱۵)
 (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث النعمان بن بشیر،الحدیث: ۱۸۴۷۷، ج۶، ص۳۹۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (10)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس کے ساتھ بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے کو جَزَاکَ اللہُ خَيراً (یعنی اللہ عزوجل تجھے بہترین جزاء دے) کہا تووہ ثناء کو پہنچ گيا۔”
 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی الثناء بالمعروف، الحدیث: ۲۰۳۵،ص۱۸۵۵)

تنبیہ:

    دوسری حدیثِ پاک کے ظاہری مفہوم کی وجہ سے اسے کبيرہ گناہ قرار ديا گيا کيونکہ لوگوں کی ناشکری بندے کو اللہ عزوجل کی نعمتوں کی ناشکری کی طرف لے جاتی ہے، مگر ميں نے کسی کو اس بات پر تنبيہ کرتے ہوئے نہيں پایا شايد ان کا عذر يہ تھا کہ انہوں نے سمجھاکہ ”اس سے مراد محسِن کی نعمت کی ناشکری ہے۔” حالانکہ صرف يہی بات اس کے کبيرہ گناہ ہونے کا تقاضا نہيں کرتی۔
error: Content is protected !!