Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر168: جانور کو بطورِنذرچھوڑدينااورنفع نہ اٹھانا

   اللہ عزوجل ارشادفرماتا ہے :
مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ
ترجمۂ کنزالايمان:اللہ نے مقرر نہيں کياہے کان چرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصيلہ اور نہ حامی۔(پ7، المائدۃ:103)
(1)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے نذر کے طور پر جانوروں کو آزاد چھوڑا وہ ہم ميں سے نہيں۔”
(لم نجدہ بھذااللفظ وانماوجدناہ بلفظ”أول من سیب”من حدیث سعیدبن مسیب)        (فتح الباری،کتاب التفسیر،باب ماجعل اللہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۶۲۳،ج۷،ص۲۴۱)
تنبیہ:
    اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا بالکل واضح ہے اگرچہ ميں نے کسی کو اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کرتے نہيں ديکھا کيونکہ اس ميں جاہليت سے مشابہت پائی جاتی ہے اور اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا يہ فرمانِ عالیشان کہ”جس نے نذر کے طور پر جانورکو آزاد چھوڑا وہ ہم ميں سے نہيں۔”اس پر شديد وعيد کا تقاضا کرتا ہے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ہمارے اصحاب شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں:”جو کسی شکار کا مالک بنا پھراسے نذر کے طور پر آزاد چھوڑ ديا تو وہ گنہگار ہے اور وہ جانور اس کی ملکيت سے نہ نکلے گا اگرچہ وہ اسے چھوڑتے وقت يہ کہہ دے کہ”ميں نے اسے مباح کر ديا جو چاہے پکڑ لے۔” اور اگر اس نے يہ کہاکہ”ميں نے اسے مباح کيا جو چاہے پکڑ کر کھا لے۔” توجو اسے اٹھا لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا ایسانہیں کہ اسے خریدکرتصرف کرناپڑے اور مالک جو روٹی کے ٹکڑے اور کٹی ہوئی گندم کے خوشے پھينکتا ہے اس کاحکم یہ نہیں تو جو اُٹھا لے گا وہ مالک بن جائے گا۔”
error: Content is protected !!