Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر203 ناپ ،تول یاپیمائش میں کمی کرنا

   اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿1﴾الَّذِیۡنَ اِذَا اکْتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوۡنَ ۫﴿ۖ2﴾وَ اِذَا کَالُوۡہُمْ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمْ یُخْسِرُوۡنَ ﴿ؕ3﴾اَلَا یَظُنُّ اُولٰۤئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبْعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿4﴾لِیَوْمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿5﴾یَّوْمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿6﴾
ترجمۂ کنز الايمان:کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ ليں پورا ليں اور جب انہيں ماپ تول کر ديں کم کر ديں کيا ان لوگوں کو گمان نہيں کہ انہيں اٹھنا ہے ايک عظمت والے دن کے لئے جس دن سب لوگ رب العالمين کے حضور کھڑے ہوں گے۔(پ30، المطففين:1تا6)
    يعنی لوگ قیامت کے دن اپنی قبروں سے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنے کے اٹھيں گے، پھر انہيں ميدانِ حشر ميں لايا جائے گا، ان ميں سے بعض بجلی سے بھی تيز سوار ہو کر جا رہے ہوں گے، بعض اپنے قدموں پر چل رہے ہوں گے، بعض گھٹنوں کے بل چل رہے ہوں گے اور چہرے کے بل گر رہے ہوں گے، کبھی چليں گے کبھی ٹھوکريں کھائيں گے اور کبھی سرگرداں اونٹ کی طرح بھٹک رہے ہوں گے اور ان ميں کچھ ايسے بھی ہوں گے جو چہرے کے بل چل رہے ہوں گے اور يہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوں گے يہاں تک کہ وہ اپنے رب عزوجل کی بارگاہ ميں کھڑے ہوں گے تا کہ اپنے اعمال کا حساب ديں اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزاء ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو جزاء بھی بری ہو گی۔
    سیدنا سدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے اس آيت مبارکہ کا شانِ نزول يہ ہے کہ”جب ہمارے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدينہ شریف ميں تشريف لائے تو وہاں پر ايک شخص تھا جس کا نام ابو جہينہ تھا اس کے دو پيمانے تھے ايک کے ساتھ ديتا اور دوسرے کے ساتھ ليتا تھا،تو اللہ عزوجل نے يہ آيت مبارکہ نازل فرمائی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:”جب خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدينہ شريف تشريف لائے تو وہ لوگ ماپ تول کے اعتبار سے سب لوگوں سے برے تھے، تواللہ عزوجل نے يہ سورت نازل فرمائی، پس اس کے بعد انہوں نے پيمانے اچھے کر لئے۔”
(سنن ابن ماجہ،ابواب التجارات ، باب التوقی فی الکیل والوزن، الحدیث : ۲۲۲۳،ص۲۶۱۰)
(2)۔۔۔۔۔۔نبی کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پیمائش اور وزن کرنے والوں سے ارشاد فرمایا:”بے شک تمہيں ايسا کام سونپاگيا ہے جس ميں تم سے پہلی اُمتيں ہلاک ہو گئيں۔”
(جامع الترمذی، ابواب البیوع،باب ماجاء فی المکیال والمیزان،الحدیث: ۱۲۱۷،ص۱۷۷۳)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمارے پاس تشريف لائے اورارشاد فرمايا:”اے گروہ مہاجرين!جب تم پانچ خصلتوں ميں مبتلاکردئیے جاؤاورمیں اللہ عزوجل سے تمہارے اِن ميں مبتلا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں:(۱)جب کسی قوم ميں فحاشی ظاہر ہوئی اور انہوں نے اعلانيہ اس کا اِرتکاب کيا تو ان ميں طاعون اور ايسی بيماری پھيل گئی جو ان کے پہلے لوگوں ميں نہ تھی۔ (۲)انہوں نے ماپ تول ميں کمی کی تو قحط سالی ميں مبتلا ہو گئے اورسخت بوجھ اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہو گئے (۳)انہوں نے اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دی تو آسمان سے بارش روک دی گئی اور اگر چوپائے نہ ہوتے توان پر بارش نہ ہوتی (۴)انہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا عہد توڑا تو اللہ عزوجل نے ان پر دشمن مُسلَّط کر دئيے جنہوں نے ان سے وہ سب لے ليا جو کچھ ان کے قبضہ ميں تھا اور (۵)ان کے حکمرانوں نے اللہ عزوجل کے قانون کے مطابق فيصلہ نہ کيا اور اللہ عزوجل کے قانون میں سے کچھ لیااورکچھ چھوڑدیاتو اللہ عزوجل نے اُن کے درمیان اختلاف پیداکردیا۔”
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الفتن، باب العقوبات ، الحدیث: ۴۰۱۹،ص۲۷۱۸)
(4)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس قوم ميں بھی لوٹ مار يعنی چوری کی کثرت ہوئی اللہ عزوجل نے ان کے دلوں پر دشمن کا رعب ڈال ديا، جس قوم ميں بھی زنا عام ہوا ان ميں اموات کی کثرت ہو گئی، جس قوم نے بھی ناپ تول ميں کمی کی اللہ عزوجل نے ان کے رزق کو کم کر ديا، جس قوم نے بھی نا حق فيصلہ کيا ان ميں لڑائی جھگڑا عام ہو گيا اور جس قوم نے بھی عہد کو توڑا اللہ عزوجل نے ان پر دشمن کو مُسلَّط کر ديا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب تغیر الناس،الفصل الثالث، الحدیث: ۵۳۷۰،ج۳،ص۲۷۶)
(5)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:”اللہ عزوجل کی راہ ميں مرناامانت کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا ديتا ہے،(پھر ارشادفرمایا) بندے کو قيامت کے دن لايا جائے گا اگرچہ وہ اللہ عزوجل کی راہ ميں قتل کيا گيا ہواوراس سے کہاجائے گا: ”اپنی امانت ادا کر۔”وہ عرض کریگا:”اے رب عزوجل!کيسے ادا کروں حالانکہ دنيا توختم ہوگئی۔”پس(فرشتوں سے)کہا جائے گا:”اسے ھَاوِيَۃ کی طرف لے جاؤ۔”وہ اسے لے کر ھَاوِيَۃ کی جانب چل دیں گے اوراس کی امانت اسی ہيئت ميں لائی جائے گی جس ميں اس دن تھی جب اسے دی گئی تھی،تو وہ اسے ديکھتے ہی پہچان لے گا اور اس کے پيچھے جائے گا يہاں تک کہ اسے حاصل کر لے گا اور اپنے کندھے پر اٹھا لے گا حتی کہ جب اسے يقين ہو جائے گا کہ وہ باہر آ گيا ہے تو وہ اس کے کندھے سے گر جائے گی اور وہ ہميشہ اس کے پيچھے جاتا ہی رہے گا۔
    پھر فرمایا:”نمازایک امانت ہے، وضو بھی امانت ہے، وزن اور ماپ بھی امانت ہيں اور دیگر اشياء شمار کيں اور ان ميں سخت ترين وديعت ہے۔”حضرت سيدنازاذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہيں:”ميں حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آيا اور ان سے عرض کی:”کیاآپ نہیں جانتے کہ حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ايساايساکہاہے؟”توانہوں نے ارشاد فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا ہے،کياآپ نے اللہ تعالیٰ کا يہ فرمانِ عاليشان نہيں سنا:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ
ترجمۂ کنز الايمان:بے شک اللہ تمہيں حکم ديتا ہے کہ امانتيں جن کی ہيں انہيں سپرد کر و۔(پ5، النساء:58)
(شعب الایمان، باب فی الامانات ووجوب ادائھا الی اھلھا، الحدیث: ۵۲۶۶ ،ج۴، ص ۳ ۲ ۳ )

تنبیہ:

    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریح کے مطابق اسے بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اور يہ ظاہر بھی ہے کيونکہ یہ لوگوں کے مال باطل طريقے سے کھانے میں شمار ہوتا ہے، اس وجہ سے اس پر شديد وعيد ہے، جيسا کہ مذکورہ آيت مبارکہ اور ا حاديث مبارکہ سے آپ نے جان ليا۔
error: Content is protected !!