Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر214: کسی راستے ميں بلااجازتِ مالک تصرف کرنا یعنی ايسا راستہ جسے مالک نے اپنی ملکیت سے الگ نہ کیا ہو۔ کبيرہ نمبر215: شارع عام ميں غيرشرعی تصرف کرنا یعنی ایساتصرف کرنا جس سے گزرنے والوں کو سخت نقصان پہنچے۔ کبيرہ نمبر216: قائلین حرمت کے نزديک مشترکہ ديوار ميں بلااجازتِ شریک تصرف کرنا یعنی ايسا تصرف کرنا جسے عادۃًبرداشت نہ کيا جاتا ہو۔

کبيرہ نمبر214: کسی راستے ميں بلااجازتِ مالک تصرف کرنا
یعنی ايسا راستہ جسے مالک نے اپنی ملکیت سے الگ نہ کیا ہو۔
کبيرہ نمبر215:    شارع عام ميں غيرشرعی تصرف کرنا
یعنی ایساتصرف کرنا جس سے گزرنے والوں کو سخت نقصان پہنچے۔
کبيرہ نمبر216:     قائلین حرمت کے نزديک مشترکہ ديوار
ميں بلااجازتِ شریک تصرف کرنا
یعنی ايسا تصرف کرنا جسے عادۃًبرداشت نہ کيا جاتا ہو۔
    ان تینوں کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے مگر انہوں نے ان کے کبيرہ گناہ ہونے کی صراحت نہيں کی کيونکہ ان ميں سے ہر ايک ميں لوگوں کی ايذا رسانی اور ان کے حقوق کو ظلم و تعدی کی بناء پر دبانا پايا جاتا ہے، اور بلاشبہ يہ دونوں باتيں يعنی ايذارسانی اور حق تلفی ان تینوں کو شامل ہے، لہذا اسے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام سے سمجھی جانے والی تصريح کی بناء پر کبيرہ گناہ کہا گيا ہے اور ظلم و غصب کی آئندہ آنے والی ابحاث اور ديگرا بحاث ميں آنے والے دلائل ان تینوں صورتوں کو شامل ہيں، لہذا انہيں اس جگہ ياد رکھنا بھی ضروری ہے اور عنقريب غصب کے بيان ميں ايک حديثِ مبارکہ آئے گی کہ،
(1)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے لوگوں کے راستے ميں سے ايک بالشت پر قبضہ کر ليا وہ قيامت کے دن اتنی مقدار کی 7زمينيں اٹھا کر لائے گا۔”  ( العجم الکبیر ، الحدیث: ۳۱۷۲ ، ج ۳ ، ص ۲۱۵)
error: Content is protected !!