Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شرکت کا بیان کبيرہ نمبر218: مشترکہ کاروبارمیں ایک شریک کا دوسرے سے خيانت کرنا کبيرہ نمبر219: وکيل کا اپنے موکل سے خيانت کرنا

باب الشرکۃ
شرکت کا بیان
کبيرہ نمبر218:     مشترکہ کاروبارمیں ایک شریک کا 
دوسرے سے خيانت کرنا
کبيرہ نمبر219:     وکيل کا اپنے موکل سے خيانت کرنا
 (1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا نعمان بن بشير رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”جس نے اپنے شريک کے ساتھ ايسی چيز ميں خيانت کی جس پر اس نے اسے امين بنايا تھااور اس کی حفاظت کرائی تھی تو ميں اس سے بيزار ہوں۔”
(2)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے ايسے شخص سے خيانت کی جس نے اسے امين بنايا تھا تو ميں اس سے جھگڑا کروں گا۔”
(3)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”4باتيں جس ميں ہوں گی وہ پکا منافق ہو گا اور جس ميں ان ميں سے ايک بات ہو گی اس ميں نفاق کی ايک خصلت ہو گی يہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے:(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خيانت کرے(۳)جب وعدہ کرے تو دھوکا دے اور (۴)جب جھگڑا کرے تو بد کلامی کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( صحیح البخاری ،کتاب الایمان ، باب علامات المنا فق ، الحدیث: ۳۴ ، ص ۵ )
 (4)۔۔۔۔۔۔ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ”ميں دو شريکوں کا تيسرا ہوتا ہوں جب تک کہ ان ميں سے ايک دوسرے سے خيانت نہ کرے، جب کوئی خيانت کرتا ہے تو ميں ان کے درميان سے نکل جاتا ہوں۔”
 ( المستدرک،کتاب البیوع،باب لایغلق الرھن ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۶۹،ج۲،ص۳۶۱)
 (5)۔۔۔۔۔۔جبکہ رزین کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:”جب میں نکل جاتاہوں شیطان آجاتا ہے۔”
 (الترغیب والترھیب،کتاب البیوع،الترھیب من خیانۃ احد۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۸۶،ج۲ص۳۷۷)
 (6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تک دو حصہ داروں ميں سے کوئی اپنے ساتھی سے خيانت نہ کرے اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہوتی ہے،پس جب ان ميں سے کوئی ايک خيانت کرتا ہے تو اللہ عزوجل ان سے اپنی رحمت اٹھا ليتا ہے۔”
 ( سنن الدارقطنی ،کتاب البیوع، الحدیث: ۲۹۱۱ ، ج۳ ، ص ۴۳)
    آخر الذکر دونوں احادیثِ مبارکہ جب تک وہ حصہ دار سچائی اور امانت داری پر قائم رہيں ان کے لئے نزولِ رحمت، حفاظت اور مال ميں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہيں اور جب ان دونوں ميں سے کسی سے بدديانتی واقع ہو جائے تو يہ(احادیثِ مبارکہ)برکت ختم ہونے اور مال پر آفتيں آنے کی طرف اشارہ کرتی ہيں۔
(7)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مؤمن جب بولتا ہے تو سچ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو دھوکا نہيں ديتا اور جب اس کے سپرد امانت کی جاتی ہے تو اس ميں خيانت نہيں کی کرتا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (تفسیرالقرطبی،سورۃ المنافقون،تحت الآیۃ:۱،ج۹،ص۹۳،بتغیرٍ)

تنبیہ:

    ان دونوں کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا ان احادیثِ مبارکہ سے ظاہر ہے اگرچہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے خصوصيت کے ساتھ انہيں کبيرہ گناہوں ميں ذکر نہيں کيا کيونکہ انہوں نے ايسے کبائر ذکر کر دئيے ہيں جو ان دونوں کو بھی شامل ہيں جيسا کہ آئندہ آنے والے بہت سے مقامات سے معلوم ہو گا اور عنقريب امانت کے باب ميں اس سے متعلقہ ديگر احادیثِ مبارکہ بھی ذکر کی جائيں گی۔
error: Content is protected !!