کبيرہ نمبر227: غصب يعنی غير کے مال پر ظلمًا قابض ہونا

غصب کابیان 
کبيرہ نمبر227:     غصب يعنی غير کے مال پر ظلمًا قابض ہونا
(1)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے بالشت بھر زمين کے معاملے ميں ظلم کيا اسے 7زمينوں کا طوق ڈالا جائے گا۔”
( صحیح البخاری ،کتاب المظالم ، باب اثم من ظلم شیئامن الارض ، الحدیث: ۲۴۵۳ ، ص ۱۹۳)
    ايک قول کے مطابق اس سے مراد يہ ہے:”اسے تکليف کا طوق پہنايا جائے گا نہ کہ 7زمينوں کا طوق بنا کر اس کے گلے ميں ڈالا جائے گا بلکہ قيامت کے دن اس کی گردن پر ان کا بوجھ ڈالا جائے گا۔” جبکہ اَصح قول وہی ہے جوسیدنا امام بغوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بيان کيا ہے کہ”اسے زمين ميں دھنسا ديا جائے گا تو زمين کا وہ حصہ اس کی گردن ميں طوق کی طرح پھنس جائے گا۔”
    آئندہ آنے والی روايات بھی اسی قو ل کی تائيد کرتی ہيں:

غصب کی مذمت پراحادیث مبارکہ :

(2)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے زمين کا بالشت بھر ٹکڑا ناحق لے ليا قيامت کے دن اسے 7زمينوں تک دھنسا ديا جائے گا۔”
( صحیح البخاری ،کتاب المظالم ، باب اثم من ظلم شیئا من الارض ، الحدیث: ۲۴۵۴ ، ص ۱۹۳)
(3)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس شخص نے زمين کا بالشت بھر ٹکڑا نا حق ليلیااللہ عزوجل قيامت کے دن اُسے(یعنی اس کی گردن میں) 7زمينوں کا طوق ڈالے گا۔”
( صحیح مسلم ،کتاب المساقات ، باب تحریم الظلم والغصب ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۴۱۳۶ ، ص ۹۵۸)
(4)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے بالشت بھر زمين ناحق چھین لی اُسے 7زمينوں کا طوق ڈالاجائے گا۔”
( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند سعید بن زیدبن عمرو بن نفیل ، الحدیث:۱۶۴۰، ج۱ ،ص ۳۹۹)
(5)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس شخص نے ایک بالشت زمين کے معاملے ميں کسی پر ظلم کيا اللہ عزوجل (بروزِ قیامت )اُسے سات زمينوں تک گڑھا کھودنے کا پابند بنائے گا، پھر لوگوں کے درميان فيصلہ ہو جانے تک اسے طوق ڈالاجائے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی،الحدیث: ۱۷۵۸۲ ، ج۶،ص۱۸۰)
(6)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے کسی کی زمين ناحق لی اسے اس زمين کی مٹی اُٹھا کر ميدان محشر میں لانے کا پابند بنايا جائے گا۔”
 (المرجع السابق،الحدیث: ۱۷۵۸۰ ، ج۶،ص۱۷۹)
(7)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے ظلماًکسی کی ايک بالشت زمين دبا لی اسے پانی تک پہنچ جانے تک کُھدائی کرنے پھر اس مٹی کو اُٹھا کر میدانِ محشر میں لانے کا پابند بنایاجائے گا۔” ( المعجم الکبیر ، الحدیث:۶۹۵، ج۲۲ ، ص ۲۷۱)
(8)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو زمين کے کسی ٹکڑے پر ناحق قابض ہوا اسے 7زمينوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔” (مسند ابی یعلیٰ الموصلی،مسند سعد بن ابی وقاص،الحدیث:۷۴۰،ج۱،ص۳۱۵)
(9)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ميں نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! سب سے بڑا ظلم کون سا ہے؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”زمين کا وہ ايک گز جسے کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے حق ميں سے کم کر دے، پس اس زمین کی ایک کنکری جو اس نے چھینی ہوگی اسے زمين کی تہہ تک اس کے گلے ميں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اور اس کی تہہ کو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے جس نے اسے پيدا کيا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( المسند للامام احمد حنبل ، مسند عبداللہ بن مسعود ،الحدیث: ۳۷۷۳ ، ج۲ ، ص ۵۳)
(10)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل کے نزديک سب سے بڑا دھوکا زمين کا وہ ٹکڑا ہے جو تم زمين يا گھر کے 2پڑوسيوں کے درميان پاتے ہو، پھر ان ميں سے کوئی ایک دوسرے کے حصّے ميں سے ايک گز زمين کم کر ديتا ہے تو اگروہ اسے کم کریگا تو اسے 7زمينوں کا طوق ڈالاجائے گا۔”
(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی مالک الاشجعی،الحدیث ۱۷۲۵۵ ، ج۶،ص۱۱۰)
(11)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جو کسی شخص کی زمين پر ظلماً قابض ہو ا جب وہ اللہ عزوجل سے ملے گا تو وہ اس پر غضب فرما ئے گا ۔”
( المعجم الکبیر،الحدیث:۲۵،ج۲۲،ص۱۸)
12)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جو شخص مسلمانوں کے راستے ميں سے ايک بالشت زمين پر قبضہ کرے وہ قيامت کے دن 7زمينوں کے برابر بوجھ اٹھا کر لائے گا۔” ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۳۱۷۲ ،ج ۳ ، ص ۲۱۵)
(13)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”کسی مسلمان کے لئے جائز نہيں کہ اپنے بھائی کاعصا اس کی رضا مندی کے بغيرلے لے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع ، الترھیب من غصب الارض ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۹۰۷، ج۲ ، ص ۴۱۱)
    مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ بات مسلمان پرمسلمان کے مال کی حرمت کی شدت بيان کرنے کے لئے ارشادفرمائی۔
تنبیہ:
    امام بغوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے غصب کے کبيرہ گناہ ہونے کے لئے ”غصب شدہ مال کی قيمت کم از کم چوتھائی دينار” ہونے کا اعتبار کيا ہے، جبکہ قاضی ابو بکر باقلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بعض معتزلہ کا قول نقل کيا ہے کہ”انہوں نے غصب شدہ مال کی قيمت 200درہم ہونے کو شرط قرار ديا ہے۔” جبکہ جبائی کے نزديک اس کی ماليت 10درہم ہونا ضروری ہے، جبائی سے5درہم کا قول بھی منقول ہے، جبکہ بصرہ کے مشائخ نے اس کی ماليت ايک درہم بيان کی ہے۔
    علامہ حليمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”اگرغصب کی ہوئی شئے کم ماليت کی ہو تو غصب کرنا صغيرہ گناہ ہے مگر اس صورت ميں يہ ضروری ہے کہ شئے کا مالک اس شئے کا محتاج نہ ہو ورنہ يہ کبيرہ گناہ ہے۔”
    علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”چوتھائی دينار کا ذکر علامہ ہروی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب الاشراف اورامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے صحيح نسخے ميں ہے،اور”الروضۃ ”ميں ايک درہم کا ذکر ہے اور يہ نقل کرنے کی طرف سے تحريف ہے۔
    شيخ عزّ الدِّين ابن عبد السَّلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”اگرجھوٹی گواہی زیادہ مال کے معاملے ميں ہوتويہ کبيرہ گناہ ہے اور اگر کم مال ميں ہو مثلاً منقّٰی ياکھجورتو بھی ان مفاسد سے باز رکھنے کے لئے اسے کبيرہ گناہ قرار ديا جائے گا جس طرح کہ شراب کا ايک قطرہ پينے کو کبيرہ گناہ قرار ديا گيا ہے اگرچہ فساد ثابت نہ بھی ہو اور غصب کے مال کا چوری کے نصاب کے مطابق ضابطہ ہوناچاہے۔” اور شيخ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے يتيم کامال کھانے ميں بھی يہی فرماياہے۔
   توسط میں ہے:علامہ شریح الرّویانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یتیموں کے اموال باطل طریقہ سے کھانے کو کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، جیسا کہ رشوت لینا، یہاں انہوں نے اس بات میں فرق بیان نہیں کیاکہ آیا اس کی مقدارچوتھائی دینار ہویانہ ہو،اسی طرح صاحب العُدَّۃنے بھی رشوت لینے اور یتیموں کا مال کھانے کومطلقًاکبیرہ کہاہے اور اس کے اطلاق کوان صورتوں کے علاوہ ناپ تول میں خیانت کے باب میں بھی جاری کیا ہے، نیزحضرت سیدناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے جونص بیان کی ہے وہ مغصوبہ شئے کے چوتھائی دینارتک ہونے کی قیدکاکمزورہوناثابت کرتی ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    مزید ارشاد فرمایا:صاحب العُدَّۃکایہ قول کہ ”زکوٰۃ ادا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔”ثابت کرتا ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں خواہ تھوڑی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے یا زیادہ، یہی ظاہرمذہب ہے۔
    علامہ ہروی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ کے اس قیاس کہ” مغصوبہ چیزکے چوتھائی دینار کی مقدار ہونے” سے مرادیہ ہے کہ اس سے کم قیمت چیزغصب کرنا کبیرہ نہیں،لیکن یہ تعریف مستندنہیں۔بلکہ علامہ ابن عبد السَّلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے :”علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایک دانہ بھی غصب یاچوری کرناکبیرہ گناہ ہے۔”امام قرطبی علیہ رحمۃاللہ القوی کا قول بھی اس کی تائیدکرتا ہے :”اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ جس نے مال حرام کھایا اگرچہ اس پر کھانے کی تعريف صادق نہ آتی ہوپھربھی يہ فسق ہے۔”علامہ بشربن المعتمراورمعتزلہ کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ”200درہم غصب کرنے سے فسق کا حکم لاگو ہوگا۔”جبکہ ابن جبائی کے نزدیک ایک یا اس سے زائد درہم کے غصب پربھی فاسق ہوجائے گا۔
    گویا علامہ ابن عبد السَّلام نے علامہ ہروی اور امام بغوی رحمہم اللہ تعالیٰ کے گذشتہ کمزور استدلال کوکوئی وقعت ہی نہ دی جیساکہ ثابت ہوچکاہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں،کیونکہ غاصب،جھوٹی گواہی دینے والے،یتیم کامال کھانے والے،رشوت لینے والے،کم تولنے والے،چوراورزکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے بارے میں جتنی احادیثِ مبارکہ آئی ہیں وہ سب مطلق ہیں پس قلیل وکثیرہر مقدار کو شامل ہیں،اس لئے محض کسی معروف دلیل سے ہی ان کو خاص کرناجائزہوگا کیونکہ شارع علیہ الصلوٰۃ و السلام سے یہ ثابت ہے کہ ہر وہ گناہ جس پر شدید وعیدآئی ہوکبیرہ ہے لہذایہاں بھی یہی صورت ہوگی،نیزجب کوئی شدیدوعیدقلیل وکثیرکی قیدسے مقیّدکئے بغیرصحیح ہوتواس کو اس کے اطلاق پر جاری کرنا واجب ہوتا ہے، نیزاسے کسی معروف صحیح دلیل کے بغیر مقید نہ کرنا بھی واجب ہے، یہی وجہ ہے کہ جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو اس کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی جیسا کہ علامہ اذرعی علیہ رحمۃاللہ العلی نے بھی فرمايا ہے، لہذااس ساری بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے مغصوبہ چیزکی مقدارکومقیّدکیا ہے ان کا یہ قول کمزور ہے اور قابلِ اعتماد بات یہی ہے کہ مغصوبہ چیز کی قلیل و کثیر مقدار میں کوئی فرق نہیں، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی چیزاتنی حقیرہو جو اس بات کا تقاضاکرتی ہوکہ عرف کے اعتبار سے غاصب کومعاف کر دیا جائے” مثلاًمنقّٰی وانگور کا ایک دانہ” تواس کے غاصب کوگناہ ِصغیرہ کا مرتکب کہنا ممکن ہے، لیکن مذکورہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اجماع، جسے علامہ ابن عبد السَّلام علیہ رحمۃاللہ السلام نے بیان فرماياہے، اگر ہم اس کو حقیقی معنوں میں مراد لیں توبھی اکثرعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اجماع کے مطابق ان کا مذکورہ قول ردہوجاتاہے اوراس بات کی تصریح ہو جاتی ہے کہ یہ مطلقاًکبیرہ گناہ ہے کیونکہ لوگوں کے اموال اور حقوق، اگرچہ قلیل ہی ہوں، کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہو سکتے، ہاں،البتہ!کسی کے کتّے وغیرہ کوغصب کرلیناکبیرہ نہیں جیسا کہ چندعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول ہے حالانکہ یہ بھی محتمل ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جب یہی بیان کردہ احادیثِ مبارکہ زمین کے غصب کے بارے میں بیان کیں تواس کے بعد ارشادفرمایا:”کیا زمین کے غصب کے حکم کے ساتھ دوسری اشیاء کے غصب کو بھی ملایا جا ئے گا؟کیونکہ حرمت میں فرق کرنے والی کوئی چيزنہیں،جب حرمت میں دونوں برابرہیں توشدید وعیدمیں بھی برابر ہوں گی یازمین کے غصب میں دوسری اشیاء کے برعکس ضرر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے فرق کیا جائے گا، جو صورت کہ محلِ نظرہے، اس کی دلیل یہ حدیثِ پاک ہے کہ ”میں بروزِقیامت تین افرادکا خصم (یعنی اُن سے مطالبہ کرنے والا)ہوں گا۔”اس میں اس شخص کا بھی تذکرہ ہے:” جس نے کوئی مزدور اجرت پر لیااور کام مکمل کرانے کے بعد اُجرت پوری نہ دی۔”
(صحیح البخاری،کتاب البیوع ، باب اثم من باع حراء،الحدیث:۲۲۲۷، ص۱۷۳)
    تو اس کے لئے اس حدیثِ پاک میں اُجرت کا حق غصب کرنے کی وجہ سے شدید وعید آئی ہے۔
    علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس بات کا ذکرمحض اس دلیل میں غوروفکر کرنے کی غرض سے کیا ہے ورنہ توسب کی تصریح کے مطابق اس میں کوئی فرق نہیں کہ”غصب خواہ زمین ہو یا کوئی دوسری مالی چیزبہرحال یہ کبیرہ گناہ ہے۔”اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاید علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی نظرسے وہ حدیثِ پاک نہیں گزری جو میں نے سب سے آخر میں بیان کی ہے کیونکہ اس میں توصراحتاًایک ڈنڈاغصب کرنے پر بھی وعیدہے، لہذااگراس حدیثِ پاک کواس اُجرت والی حدیثِ پاک کے ساتھ ملا دیا جائے تو ثابت ہو جائے گا کہ وعید نہ صرف زمین میں ہے بلکہ زمین کے علاوہ دوسری مالی اشیاء میں بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *