Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تنبیہ2:

    حاملینِ شرع جب ریاکاری کا لفظ مطلق استعمال کرتے ہیں تو اس سے مرا د وہی مذموم صفت ہوتی ہے جس کی تعریف پیچھے بیان ہو چکی ہے۔پھر اگر ریاکاری کا مقصود دکھاوے کے علا وہ کچھ نہ ہو تو ریا کی عبادت باطل ہو جاتی ہے، کاش ! اسے اس کے علاوہ کوئی برائی حاصل نہ ہوتی مگر اس پر بڑا  گناہ اوربری مذمت بھی لازم ہو جاتی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل سابقہ آیات واحادیثِ مبارکہ سے واضح ہے۔
    اس کے حرام، کبیرہ گناہ اورلعنت کے مقتضی شرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ عزوجل کے ساتھ استہزاء پایا جاتا ہے جیسا کہ اس کی طرف احادیثِ مبارکہ میں اشارہ ہو چکا ہے۔ اسی لئے حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”جب بندہ ریاکاری کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ عزوجل ملائکہ سے ارشاد فرماتا ہے :”اس کی طرف دیکھو کہ کیسے میرا مذاق اڑا رہاہے۔” یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ بادشاہ کی خدمت میں کھڑے ہونے والے خادموں میں سے اگر کوئی خادم صرف با دشاہ کی کسی لونڈی یا کم سن بے ریش غلام کواپنی جانب مائل کرنے کے لئے کھڑا ہو تو ہرعقل مند شخص کے نزدیک یہ اس بادشاہ کا مذاق اڑانا ہی کہلائے گا، کیونکہ وہ شخص اس وہم کے باوجود کہ بادشاہ کا انتہائی مقرب ہو گا،اپنے اس فعل سے قرب کا قصد نہیں کرسکتا، تو اب ایسی کونسی حقارت اور استہزاء رہ گیا ہے جو تمہارا اپنے رب عزوجل کی عبادت میں اپنے جیسے اس بندے کا قصد کرنے سے زیادہ ہو گا جو خود کو کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے عاجز ہے چہ جائیکہ وہ تمہیں فائدہ دے گا لہٰذا اس کے باوجود تمہارا یہ قصد ظاہر کرتا ہے کہ تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ وہ عاجز بندہ تمہاری اغراض پوری کرنے میں اللہ عزوجل سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، اس لئے تم نے ایک کمزور اور عاجز بندے کو اپنے قوی وقادر مولاعزو جل سے بلند کر دیا، انہی وجوہات کی بناء پر ریاکاری کو ہلاکت خیز کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیاہے اور اسی لئے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے ”شرک اصغر” قرار دیا، نیز ریاکاری میں مخلوق کے لئے یہ شبہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ انسان کو اس وہم میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کا مطیع اور مخلص بندہ ہے حالا نکہ وہ ایسا نہیں ہوتا، ایسے شبہے کوتلبیس کہتے ہیں اورتلبیس بھی حرام ہے، مثلاًیہ کسی شخص کی طرف سے قرض اداکرے تا کہ لوگوں میں یہ تأثر قائم ہو جائے کہ یہ بے لوث آدمی ہے اور لوگ اس کی سخاوت کا اعتقاد رکھنے لگیں، ایسی سو چ  گناہ ہے کیونکہ یہ تلبیس اور مکرو فریب کے ذریعے لوگوں کے دل اپنی جانب مائل کرنے کا سبب ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وسوسہ: اگرآپ یہ کہیں کہ”جب ریاکاری کا شرکِ اصغر ہونا ثابت ہو گیا تو اسے شرکِ اکبر سے جدا کیوں کیا گیا؟”
جواب : یہ بات ایک مثال سے واضح ہو گی وہ یہ کہ :”اگر کسی نمازی کو لوگ نیک اور صالح کہنے لگتے ہیں تو اس کی ریاکاری اسے عمل پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے مگر وہ یہ عمل کرتے وقت کبھی تو اس سے اللہ عزوجل کی تعظیم کا قصدکرتا ہے اور کبھی بغیر کسی قصد کے اسے ادا کرتا ہے اوران دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی کفر نہیں جبکہ اس صورت میں شرکِ اکبر اسی وقت ہو گا جب وہ( مثال کے طور پر) سجدوں سے غیر اللہ کی تعظیم کا قصد کرے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ریاکار اس شرک میں اس وقت مبتلا ہوا جب اس کے نزدیک مخلوق کی قدر ومنزلت اس قدر بڑھ گئی کہ اس تعظیم نے اسے رکوع وسجود پر ابھارا اور ایک اعتبار سے اس سجدے سے اسی مخلوق کی تعظیم کی گئی اور یہ شرک خفی ہے جلی نہیں جوکہ جہالت کی انتہا ہے اور ایسا وہی کر سکتا ہے جسے شیطان دھوکے میں ڈالے اور اس وہم میں مبتلا کر دے :”عاجز اور کمزور بندہ اللہ عزوجل سے زیادہ اس کے رزق اور نفع کا مالک ہے۔” اسی لئے وہ اللہ عزوجل سے اپنا قصد پھیر کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا اور وہ ان لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنے لگا، لہٰذا اللہ عزوجل نے اسے دنیا اور آخرت میں انہیں کے حوالے کر دیا جیسا کہ احادیثِ مبارکہ میں بیان ہواکہ”ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کے لئے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان سے اجرطلب کرو۔”حالانکہ وہ اپنے لئے کسی چیزکا اختیار نہیں رکھتے، خصوصاً آخرت میں زیادہ بے اختیار ہوں گے۔
     اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

یَوْمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ88﴾اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ89﴾
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔(پ19، الشعرآء:88۔89)
     دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
 یَوْمًا لَّا یَجْزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوْلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿33﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے بچہ کے کام نہ آئیگا اور نہ کوئی کامی(کارو باری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہر گز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے نام پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(پ21،لُقمٰن:33)
error: Content is protected !!