Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر54 ،55 ظالموں اورفاسقوں سے محبت کرنا اورنیک لوگوں سے بغض رکھنا

(1)۔۔۔۔۔۔امیرا لمؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” تین باتیں بالکل حق ہیں: (۱)جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو گا اللہ عزوجل اسے ان لوگوں کی طرح نہیں کریگا جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں(۲)اللہ عزوجل جس بندے کی ذمہ داری لے لیتاہے اسے غیرکے سپردنہیں کرتا اور (۳)جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اس کا حشراسی کے ساتھ ہو گا۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۴۵۰،ج۵،ص۱۹)
(2)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تین باتوں پرمیں قسم اٹھاتا ہوں (۱)جس کا اسلام میں حصہ ہو گا اللہ عزوجل اسے ان لوگوں کی طرح نہ کرے گا جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور اسلام کے تین حصے ہیں روزہ، نماز اورزکوٰۃ (۲)اللہ عزوجل دنیا میں جس بندے کی ذمہ داری لے لیتا ہے قیامت کے دن اسے غیر کے سپرد نہیں کرے گا اور (۳)جو شخص جس قوم سے محبت کرے گا اللہ عزوجل اسے اُسی میں شامل کر دے گا۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشہ،الحدیث: ۲۵۱۷۵،ج۹،ص۴۷۸)
(3)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”شرک اندھیری رات میں چیونٹی کے کسی چٹان پر رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے اور اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ کسی چیز پر ظلم کو پسند کرے اور کسی چیز پر عدل سے بغض رکھے، اوردین کیاہے ؟یہی کہ اللہ عزوجل کے لئے محبت کرنا اوراس کے لئے بغض رکھنا۔”
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرمادوکہ لوگواگرتم اللہ کودوست رکھتے ہوتومیرے فرمانبردارہوجاؤاللہ تمہیں دوست رکھے گا۔(پ 3، ال عمران:31)
(المستدرک،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحصین۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۲۰۲،ج۳،ص۷)
(4)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مؤمن کے علاوہ کسی سے دوستی نہ کرو اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔”
(جامع الترمذی، ابواب الزہد،باب ماجاء فی صحبۃ المومن، الحدیث: ۲۳۹۵،ص۱۸۹۲)
تنبیہ:
    ان دونوں کو گذشتہ اور آئندہ آنے والی صحیح احادیث کے تقاضا کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ 
(5)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آدمی انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ محبت کریگا اگرچہ ان جیسے عمل نہ بھی کرے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن نضر، الحدیث:۱۳۸۲۹،ج۴،ص۵۳۳،ملخصاً)
    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بات تو لازم ہے کہ اس نے فاسق سے اس کے فسق کی وجہ سے محبت کی اور صالحین سے ان کی نیکی کی وجہ سے بغض رکھا، لہٰذا یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جس طرح فسق کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اس سے محبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، صالحین سے بغض رکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ ان بدکاروں سے محبت اورنیکوکاروں سے بغض رکھنا اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دینے پر دلالت کرتا ہے اور اسلام سے بغض رکھنا کفر ہے، لہٰذا مناسب بھی یہی ہے کہ اس کی طرف رسائی کے ذرائع بھی کبیرہ گناہ ہوں۔
error: Content is protected !!