کبیرہ نمبر58 : لاپرواہی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی کی بات کہنا

    بعض متاخرین کے خیال کے مطابق اسے گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے اوراس میں پائے جانے والے مفاسد عظیمہ اور ظاہری نقصان کی بناء پر یہ بعید بھی نہیں، اس کی دلیل بخاری ومسلم شریف کی یہ روایت ہے۔
Advertisement
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندہ کبھی بے سوچے سمجھے ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ اس کے سبب جہنم میں مشرق ومغرب کے مابین فاصلے سے بھی زیادہ دور جا پڑتا ہے۔”
     (صحیح مسلم، کتاب الزھد ، باب حفظ اللسان، الحدیث: ۸۲۔۷۴۸۱،ص۱۱۹۵)
(2)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آدمی اللہ عزوجل کی رضا کی کوئی بات کہتا ہے اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ بات اسے کہاں تک پہنچا دے گی، مگر اللہ عزوجل قیامت تک اس کے لئے اپنی رضا لکھ دیتا ہے اور آدمی اللہ عزوجل کی ناراضگی کا ایسا کلمہ بولتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کلمہ اسے کہاں پہنچا دے گا تو اللہ عزوجل اس کے لئے قیامت تک کے لئے اپنی ناراضگی لکھ دیتاہے۔” (المسندللامام احمدبن حنبل، الحدیث: ۱۵۸۵۲،ج۵،ص۳۷۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :”یہ بات بادشاہوں اور امراء کے سامنے اس کلام کی طرح ہے جس سے یا تو عام بھلائی یا برائی حاصل ہوتی ہے۔ 
    اسی طرح کسی سنت کی مذمت یا بدعت کو رائج کرنے، حق کو باطل کرنے یا باطل کو حق ثابت کرنے،(ناحق) خون بہانے یا شرمگاہ یا مال کو حلال ٹھہرانے، کسی کی بے عزتی کرنے، قطع رحمی کرنے یا مسلمانوں سے غداری کرنے یا میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کے لئے بولے جانے والے کلمات بھی اسی قبیل سے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!