Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تنبیہ 5:

    جب تم پر غیبت، الزام تراشی یاعیب جوئی کے ذریعے ظلم کیا جائے تو تمہارے لئے مناسب نہیں کہ تم بھی اس کے مقابلہ میں ویسا ہی کرو کیونکہ بدلے میں برابری کو جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں، جبکہ قصاص بھی انہیں چیزوں میں ہوتا ہے جن میں برابری ہوتی ہے، البتہ ہمارے (شافعی)اَئمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے رخصت دی ہے کہ اس کا مقابلہ ایسی شے سے کرے جو کسی سے جدا نہیں ہوتی جیسے احمق کہ حماقت اس سے جدا نہیں ہوتی ۔ 
    حضرت سیدنا مطرف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :”ہرانسان اپنے اور اپنے رب عزوجل کے مابین معاملہ میں احمق ہے مگر بعض کی حماقت دیگر بعض سے کم ہوتی ہے۔”
    حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :” ذاتِ الٰہی عزوجل کی معرفت کے معاملہ میں ہر انسان احمق اور جاہل کی طرح ہے کیونکہ جہالت تو ہرایک میں ہوتی ہے۔”
    سیدناامام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں :”اے بد اخلاق! اے بے حیا! اے عزتوں کو دَاغدارکرنے والے! بشرطیکہ اس میں یہ وصف ہو، اگر تجھ میں حیا ہوتی تو ہر گزا یسی بات نہ کہتا جس نے تجھے میری نظر میں حقیر کردیا، اللہ عزوجل تجھے رسوا کرے اور تجھ سے اِنتقام لے۔”
    کسی پر تہمت لگانا اور والدین کو گالیاں دینا توبالاتفاق حرام ہے اور اس کو جائزکہنے کی صورت میں دلیل یہ ہے کہ، 
(109)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کسی وجہ سے طعنہ دیا، تو حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں ایسا جواب دیا کہ وہ حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاپرغالب آ گئیں جبکہ حضور نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھی موجود تھے توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”یہ (واقعی) اپنے باپ کی بیٹی ہے۔”
              (الدرالمنثور فی التفسیر بالمأثور، سورۃ النور، تحت الآیۃ ۲۶،ج۶،ص۱۶۹)
    یہاں طعنہ دینے سے مراد حق اورسچ بات کے مطابق جواب دینا ہے، یہ اگرچہ جائز ہے مگر اسے ترک کر نا افضل ہے
کیونکہ یہ قبیح اور برے اعمال کی طرف لے جاتا ہے چنانچہ،
(110)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مؤمن کو غصہ جلدی آتا ہے اور وہ راضی بھی جلدی ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ اسی وجہ سے ہے۔”
(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،باب بیان القدرالذی یجوز۔۔۔۔۔۔الخ،ج۳،ص۲۲۳)
(111)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے مخلوق کو غصہ اور رضا کے لحاظ سے تیز اور سست دو حصوں میں تقسیم فرما دیا ہے لہٰذا جو کسی ایک میں تیز ہو گا تو دوسرے میں سست ہو گا،اور اللہ عزوجل نے ان میں سے غصہ کے سست اور رضا میں جلدی کرنے والے کو بہتر بنایا اور اس کے بر عکس کو بدتر بنایا۔”
error: Content is protected !!