Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر65: درہم ودینارتوڑنا

   ( چونکہ دینارسونے اور درھم چاندی کے ہوتے تھے اور لوگ بلا ضرورت انہیں توڑ کر اپنے استعمال میں لے آتے لہٰذا )بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کیا اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کیا :
وَکَانَ فِی الْمَدِیۡنَۃِ تِسْعَۃُ رَہۡطٍ یُّفْسِدُوۡنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوۡنَ ﴿48﴾
ترجمۂ  کنز الایمان:اورشہرمیں نوشخص تھے کہ زمین میں فساد کرتے اورسنوارنہ چاہتے۔(پ19، النمل:48 )
(1)۔۔۔۔۔۔مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے :”وہ لوگ درہم توڑا کرتے تھے۔”
(2)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مسلمانوں میں رائج سکے بلاضرورت توڑنے سے منع فرمایا ہے۔”
       (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی کسرالدراہم،الحدیث:۳۴۴۹،ص۱۴۸۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:
    میرے نزدیک اس حدیث پاک میں گناہ کے کبیرہ ہونے پرکوئی دلیل نہیں، بلکہ اس کا کبیرہ گناہ ہونا تودورکی بات ہے اس عمل کی حرمت میں بھی کلام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درہم وغیرہ توڑنا اسی صورت میں حرام ہوتا ہے،جب اس سے ان کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہواورمندرجہ بالاحدیث مبارکہ اگردرجہ صحت کوپہنچ جائے تواسے اسی صورت پرمحمول کیاجائے گا۔

error: Content is protected !!