Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر71: بد ن يا کپڑوں کو پيشاب سے نہ بچانا

(1)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ان ميں عذاب ہو رہا ہے اور يہ عذاب کسی بڑی چيز کے سبب نہيں ہو رہا مگر يہ بڑا گناہ ضرور ہے ان ميں سے ايک چغلخوری کرتا تھا اوردوسرا پيشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا۔”
(صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ ، باب الدلیل علی نجاسۃ البول۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۷،ص۷۲۷)
(2)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک ديوار کے قريب سے گزرے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دو آدميوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں ميں عذاب ہو رہا تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے اور يہ عذاب کسی بڑے سبب سے نہيں ہو رہا۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”ان ميں سے ايک پيشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغلخوری کرتا تھا۔”
(صحیح ابن حزیمہ، کتاب الوضوء، باب التحفظ من البول کَی لایصیب ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۵۵،ج۱،ص۳۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(3)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :”عذابِ قبر عموماً پيشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔”
   (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۱۱۲۰،ج۱۱،ص۷۰)
(4)۔۔۔۔۔۔ایک روایت کے الفاظ ہیں :”قبر کا عذاب پیشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا اس سے بچو۔”
(5)۔۔۔۔۔۔ایک اورروایت میں ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”اکثرعذابِ قبر پيشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔”
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الطہارۃ،باب التشدیدفی البول،الحدیث:۳۴۸،ص۲۴۹۸)
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”پيشاب (کے چھینٹوں) سے بچتے رہو کيونکہ قبر ميں بندے سے سب سے پہلے پيشاب کے بارے ميں سوال کيا جائے گا۔” (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۶۰۵،ج۸،ص۱۳۳)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ايک مرتبہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ميرے اور ايک دوسرے شخص کے درميان تشریف لے جا رہے تھے، اسی اثناء ميں دو قبروں پر پہنچے تو ارشاد فرمايا :”ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے، لہٰذا تم دونوں مجھے ايک ٹہنی لا کر دو۔” حضرت سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: ”ميں اور ميرا رفیق ٹہنی لینے چلے گئے، پھر ميں نے ايک ٹہنی لا کر پيش کی تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے دو ٹکڑے کر کے ايک ايک ٹکڑا دونوں قبروں پر رکھ ديا اور ارشاد فرمايا :”امید ہے کہ جب تک يہ تر رہيں گی ان کے عذاب ميں کمی کی جائے گی۔” (المعجم الاوسط، الحدیث: ۳۷۴۷،ج۳،ص۲۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(8)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ نبئ کریم ، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک مرتبہ سخت گرم دن ميں بقيع غرقدکی طرف تشريف لے گئے، صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پيچھے پيچھے چل دئيے جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جوتوں کی آواز سنی تو ٹھہر کر بيٹھ گئے يہاں تک کہ انہيں آگے جانے ديا پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بقيع غرقَد پہنچ کر دو نئی قبروں کے پاس سے گزرے تو دریافت فرمایا :”آج تم نے يہاں کس کو دفن کيا ہے؟” صحابہ کرام عليہم الرضوان نے عرض کی: ”فلاں، فلاں کو۔”پھر عرض کی : ”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! معاملہ کيا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمايا :”ان ميں سے ايک پيشاب سے نہ بچتا تھا جبکہ دوسرا چغلخوری کرتا تھا۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايک تر ٹہنی پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور قبر پر رکھ دئيے، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايسا کيوں کيا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”تا کہ ان کے عذاب ميں تخفيف ہو جائے۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”انہيں کب تک عذاب ہوتارہے گا؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”يہ غيب کی بات ہے جسے اللہ عزوجل ہی جانتا ہے اور اگر تمہارے دل منتشر نہ ہوتے اور گفتگو ميں زيادتی نہ کرتے تو تم بھی وہ سنتے جو ميں سنتا ہوں۔”
    (المسندللامام احمد،حدیث ابی امامۃ الباہلی الحدیث:۲۲۳۵۵،ج۸،ص۳۰۴،”تمزع” بدلہ ”تمترع”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹھہر گئے لہذا ہم بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ٹھہر گئے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا رنگ مبارک متغیر ہونے لگا یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قمیص مبارک کی آستین کپکپانے لگی، تو ہم نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ماجرا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”کیا تم بھی وہ آواز سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟” تو ہم نے عرض کی :” یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کیا سماعت فرما رہے ہیں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ”ان دونوں افراد پر ان کی قبروں میں انتہائی سخت عذاب ہو رہا ہے وہ بھی ایسے گناہ کی وجہ سے جو حقیر ہے۔” (یعنی ان دونوں کےخیال میں حقیر تھا یا پھر یہ کہ اس سے بچنا ان کے لئے آسان تھا) ہم نے عرض کی :”وہ کون سا گناہ ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ان میں سے ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا اپنی زبان سے لوگوں کو اذیت دیتا تھااور چغلی کرتا تھا۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھجور کی دو ٹہنیاں منگوائیں اور ان میں سے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹہنی رکھ دی تو ہم نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا یہ چیز ان کو کوئی نفع دے گی؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں ! جب تک یہ دونوں ٹہنیاں تر رہیں گی ان سے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔”
(صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الأذکار، الحدیث: ۸۲۱،ج۲،ص۹۶،”لایستنزہ”بدلہ”لایستتر”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(10)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے :”چار شخص جہنميوں کو ان کے عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد ايذاء ديں گے، وہ حَمِيم (کھولتے پانی)اور جَحِيم (آگ)میں دوڑتے ہوں گے اور اپنی ہلاکت اور تباہی کی دعا کريں گے، جہنمی ایک دوسرے سے کہيں گے :”انہيں کيا ہوا کہ يہ ہميں مزید ايذاء دے رہے ہيں حالانکہ ہم پہلے ہی تکليف ميں مبتلا ہيں؟” ان ميں سے ايک شخص پرآگ کا صندوق لٹک ر ہاہو گا، دوسرا اپنی انتڑياں کھينچ رہا ہو گا، تيسرے کے منہ سے پيپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور چوتھا اپنا ہی گوشت کھا رہا ہو گا، صندوق والے سے کہا جائے گا :” رحمتِ الٰہی عزوجل سے دوراس شخص کا کيا معاملہ ہے جو ہميں عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد تکليف دے رہا ہے؟” تو وہ کہے گا :”اللہ عزوجل کی رحمت سے دور يہ شخص جب مرا تو اس کی گردن پر لوگوں کے ان اموال کا بوجھ تھا جنہیں وہ ادا يا پورا نہ کر سکا۔” پھر اپنی انتڑياں کھينچنے والے سے کہا جائے گا:”رحمت سے دور اس بندے کا کيا معاملہ ہے جو ہميں عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد تکليف پہنچارہا ہے؟” تو وہ کہے گا کہ ”رحمت سے دور يہ بندہ اس بات کی پرواہ نہيں کرتا تھا کہ اسے(کپڑوں یاجسم پر) کہاں پيشاب لگا اوریہ اسے نہیں دھوتا تھا۔” (بقیہ مکمل حدیثِ پاک غیبت کے باب میں بیان ہوگی)
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۲۲۶،ج۷،ص۳۱۱)
(11)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے دریافت فرمایا :”کيا تم نہيں جانتے کہ بنی اسرائيل کو کيا مصيبت پہنچی؟ ان (کے کپڑوں) کو جب کہيں پيشاب لگتا تو وہ اس جگہ کو قينچيوں سے کاٹ ديا کرتے تھے، پھر ان کے ايک ساتھی نے انہيں ايسا کرنے سے منع کيا تو وہ قبر کے عذاب ميں مبتلا ہو گيا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمدبن حنبل ،الحدیث:۱۷۷۷۳،ج۶،ص۲۲۷)

تنبیہ:

    پس معلوم ہواکہ يہ احاديثِ مبارکہ پيشاب سے نہ بچنے کے کبيرہ گناہ ہونے ميں صريح ہيں،سیدنا امام بخاری عليہ رحمۃ اللہ
الباری نے گذشتہ احاديث کا عنوان اس طرح قائم کيا: بَابُ مِنَ الْکَبَآئِرِ اَنْ لاَّ يَسْتَنْزِہَ مِنَ الْبَوْلِ يہ باب اس بيان ميں ہے کہ پيشاب (کے چھینٹوں)سے نہ بچنا کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔
    سیدنا خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان :”انہيں کسی بڑی چيز کے سبب عذاب نہيں ہو رہا۔” کا مطلب يہ ہے کہ انہيں کسی ايسے عمل پر عذاب نہيں ہو رہا جو ان پر بڑا تھا يا اگر وہ اسے کرتے تو يہ انہيں مشقت ميں ڈال ديتا اوروہ کام پيشاب سے بچنا اور چغل خوری ترک کرنا ہے، يہ مراد نہيں کہ ان دونوں کا گناہ دين کے معاملے ميں بڑا نہيں اور ان کا گناہ کم اور آسان ہے۔”
    حافظ منذری عليہ رحمۃاللہ الولی اس کی وضاحت میں فرماتے ہيں :”اسی(مذکورہ ) وہم کوزائل کرنے کے لئے حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”بے شک يہ بڑا گناہ ہے۔” ان احاديثِ مبارکہ ميں ہمارے اصحاب کے اس قول پر واضح دليل موجود ہے : ”چلتے چلتے يا عضوِ تناسل کو کھينچ کر يا کھنکار کر استبراء کرنا واجب ہے۔” کيونکہ ہر انسان کے لئے استبراء کے طريقے ميں ايک عادت ہوتی ہے جس کے بغير پيشاب کے بچے ہوئے قطرے خارج نہيں ہوتے، لہٰذا ہر انسان کو اپنی عادت کے مطابق استبراء کرنا چاہے، مگر اس معاملہ ميں جڑ سے ابتداء نہيں کرنی چاہے کيونکہ يہ عمل وسوسے پيدا کرتا ہے، اور اگر عضوِ تناسل کوسختی سے دبایاجائے تویہ نقصان دہ ہے۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اسی طرح ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ کرتے وقت شرمگاہ کو دھونے ميں مبالغہ سے کام لے اور تھوڑا ڈِھيلا کرے تاکہ شرمگاہ کے حلقے کے پردے ميں رہ جانے والی نجاست دُھل جائے کيونکہ اعضاء کو ڈھيلا نہ چھوڑنے اور اس جگہ کو دھونے ميں مبالغہ سے کام نہ لينے والے اکثر لوگ نجاست ہی کے ساتھ نماز پڑھ ليتے ہيں اور مذکورہ احاديثِ مبارکہ ميں وارد اس سخت وعيد کا شکار ہو جاتے ہيں کيونکہ اس حدیث پاک کاحکم پیشاپ (کی نجاست)سے بڑھ کر پاخانہ(کی نجاست) کے لئے ہے کيونکہ اس ميں زيادہ گندگی ہے اوریہ زیادہ بُراہے۔

    منقول ہے کہ حضرت ابن ابی زيد مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال کے بعدانہیں کسی نے خواب ميں ديکھا تو پوچھا : ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ يعنی  اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کيا معاملہ فرمايا؟” تو آپ نے جواب دیا :”مجھے بخش ديا گیا۔” پوچھا گیا کہ ”کس وجہ سے؟” تو انہوں نے جواب ديا :”ميرے اس قول کی وجہ سے جو ميں نے استنجاء سے متعلق اپنے رسالے ميں لکھا تھا کہ قضائے حاجت کرنے والے کو چاہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھيلا چھوڑے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ يہ بات فرمانے والے پہلے شخص تھے کيونکہ يہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان جب اپنی مقعد کو ڈھيلا چھوڑتا ہے تو شرمگاہ کے اندر موجود جھلياں اور پردے ظاہر ہو جاتے ہيں، لہٰذا جب وہاں پانی پہنچتا ہے تو اس کے اندر موجود نجاست دُھل جاتی ہے جبکہ ايسا کئے بغير دھونے سے يہ فائدہ حاصل نہيں ہوتا، لہٰذا اس پر ايسا کرنا واجب ہے تا کہ تمام ظاہری جلد سے نجاست اور اس کے اثر کے دُھل جانے کا گمان غالب ہو جائے اور جب اسے غالب گمان ہو جائے اور پھر بھی ہاتھوں سے اس کی بدبُو آتی ہوئی محسوس ہو تو اگر محلِ نجاست سے ملنے والے ہاتھ پر اس کا جَرم موجود ہے تو اسے دھونا فرض ہے کيونکہ يہ نجاست کی دليل ہے اور اگر اس ہاتھ سے بدبُو محسوس نہ ہو مثلاً انگليوں کے درميان سے بدبُو آئے يا بدبو محسوس ہونے ميں شک ہو تو اس پر فقط ہاتھ دھونا لازم ہے کيونکہ اس ميں يہ احتمال بھی موجود ہے کہ بدبُو ہاتھ کے اس حصے سے آرہی ہو جو محلِ نجاست سے مس نہ ہوا تھا۔
error: Content is protected !!