Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حج ادا نہ کرنے والے کی محرومی :

(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سعيد بن جبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے :”ميرا ايک مال دار پڑوسی مر گيا اس نے حج ادا نہيں کيا تھا تو ميں نے اس پر نماز(جنازہ) نہ پڑھی۔”
(مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الحج،باب فی الرجل یموت ولم یحج وہوموسر،الحدیث:۴،ج۴،ص۳۹۲)

تنبیہ:

    اس گناہ کو علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی صراحت کی وجہ سے کبيرہ گناہ شمار کيا گيا ہے اور اس کی دليل سخت وعيد ہے۔
سوال:قدرت کے باوجود حج نہ کرنے والے پر اس کی موت کے بعد فسق کا حکم لگا نے کا فائدہ کيا ہے؟
جواب:آخرت کے اعتبار سے تو بالکل واضح ہے جبکہ دنيوی احکام کے اعتبار سے اس کے چند فوائد ہيں کہ قدرت کے سالوں کے آخر ميں اس کا فاسق ہو کر مرنا ظاہرجائے گا، اس صورت ميں اس نے جوگواہی دی ياجوفيصلہ کیا اس کا باطل ہونا ظاہر ہو گا،نیزنابالغ بچوں کے نکاح کرانے اور ہر اس چيز کا معاملہ ہے جس ميں عدالت شرط ہے کيونکہ قدرت کے سالوں ميں سے آخری سال ميں اس کے عمل کا باطل ہونا اس کی موت کے سبب ظاہر ہو جاتا ہے اور يہ وہ عظیم فوائد ہيں جو وضاحت کے محتاج ہيں ۔
error: Content is protected !!