Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر73: غسل کا کوئی فرض چھوڑ دينا

 (1)۔۔۔۔۔۔امير المؤ منين حضرت سيدناعلی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِيْم سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”جس نے جنابت سے غسل کرتے وقت اپنے جسم سے بال برابر جگہ دھونا چھوڑ دی اس کے ساتھ جہنم ميں ايسا ايسا کيا جائے گا۔”حضرت سيدناعلی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِيْم ارشاد فرماتے ہيں :”اسی لئے ميں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی ہے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہميشہ سر کے بال منڈوائے رکھتے تھے۔
 (سنن ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب فی الغسل من الجنابۃ ،الحدیث: ۲۴۹،ص۱۲۴۰)
 (2)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر بال کے نيچے جنابت ہوتی ہے۔”
 (جامع الترمذی، ابواب الطہارۃ ، ماجاء ان تحت کل شعرۃجنابۃ،الحدیث:۱۰۶،ص۱۶۴۳)
 (3)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر بال کے نيچے جنابت ہوتی ہے لہٰذا بالوں کو تر کر کے جلد صاف کر ليا کرو۔”
 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الطہارۃ ، باب فرض الغسل وفیہ دلالۃ علی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۸۴۹،ج۱،ص۲۷۶)
 (4)۔۔۔۔۔۔سرکار ِمدینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا :”اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! ہر بال پر جنابت ہوتی ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند السیدۃ عائشۃ،الحدیث:۲۴۸۵۱،ج۹،ص۴۱۶)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل سے ڈرو اور اچھی طرح غسل کيا کرو کيونکہ یہ وہی امانت ہے جسے تم نے اٹھايا ہے اور انہی اسرار ميں سے ہے جو تمہارے سپرد کئے گئے ہيں۔”  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۶۴،ج۲۵،ص۳۶)
error: Content is protected !!