Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بَیْتُ الْحَمْد کا حقدار:

(39)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے اپنے بيٹے کی موت کے وقت اللہ عزوجل کی حمد کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَيہ رَاجِعُوْنَ (یعنی ہم اللہ عزوجل کا مال ہيں اور ہميں اسی کی طرف پھرنا ہے) پڑھا، اللہ عزوجل ملائکہ کو اس کے لئے جنت ميں ايک گھر بنانے اور اس کا نام بَيت الْحَمْد رکھنے کا حکم دیتا ہے۔”
(جامع الترمذی،ابواب الجنائز،باب فضل المصیبۃ اذااحتسب،الحدیث:۱۰۲۱،ص۱۷۴۹،مفہومًا)
(40)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :”ميں اپنے جس مؤمن بندے کے کسی دنيوی عزيزکی روح قبض کر لوں پھر وہ اس پر ثواب کی اميد رکھے تو اس کی جزاء جنت ہی ہے۔”
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب العمل الذی یبتغی وجہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۴۲۴،ص۵۴۰)
(41)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”صبراَوَّل صدمے پر ہوتا ہے۔”
(صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،الحدیث:۱۲۸۳،ص۱۰۰)
    يعنی صبر وہی قابلِ تعریف ہوتا ہے جو اچانک مصيبت پہنچنے پر کيا جائے کيونکہ بعد ميں تو طبعی طور پر صبر آہی جاتا ہے۔ اسی لئے بعض حکماء نے ارشاد فرمايا:”عقل مند کو چاہے کہ پريشانی کے ا يام کی ابتداء ہی ميں وہ کام کر ليا کرے جسے احمق پانچ دن بعد کرتا ہے۔”
(42)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے تین نابالغ بچے آگے بھيجے(یعنی فوت ہوگئے اوراس نے صبرکیاتو) وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائيں گے۔” حضرت سيدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”ميں نے دو بچے آگے بھيجے ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اور جودو بھيجے (يعنی اس کے لئے بھی يہی فضيلت ہے)۔”ايک اور شخص نے عرض کی:”ميں نے ايک بچہ آگے بھيجا ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اور جو ايک بھيجے وہ بھی مگر يہ (فضيلت) اَوَّل صدمہ ميں صبر کرنے پر ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(سنن ابن ماجہ ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی ثواب من اصیب بولدہ ، الحدیث:۱۶۰۶، ص۲۵۷۲)
( جامع الترمذی ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی ثواب من قد م ولدا،الحدیث:۱۰۶۱،ص۱۷۵۳)
(43)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس کی سفارش کے لئے دو بچے آگے جا چکے ہوں وہ جنت ميں داخل ہو گا۔” حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:”اور جس کی سفارش کے لئے ايک بچہ آگے گيا ہو۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اور جس کی سفارش کے لئے ايک ہو وہ بھی(جنتی ہے)۔ ”
( جامع الترمذی ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی ثواب من قد م ولدا،الحدیث:۱۰۶۲،ص۱۷۵۳)
(44)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدتنا اُم سليم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے حضرت سيدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بيٹے کا انتقال ہوا تو حضرت سيدتنا اُم سليم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے اہلِ خانہ کو منع کر ديا کہ ميرے علاوہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو يہ بات کوئی نہ بتائے، پھر آپ ان کے پاس آئيں اور رات کا کھانا پيش کيا۔ حضرت سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو حضرت اُم سليم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی خاطر پہلے سے زیادہ اچھا بناؤ سنگھار کيا، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے ہم بستری کی جب انہوں نے ديکھا کہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام اُمور سے فارغ ہو چکے ہيں، تو کہا :”اے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کا اس قوم کے بارے ميں کيا خيال ہے جس نے ايک خاندان کو کوئی چيز عاريتاً دی پھر جب انہوں نے اپنی عاريتادی ہوئی چيز واپس مانگی تو کيا انہيں وہ چيزروک لينے کا اختيار ہے؟” انہوں نے فرمايا”نہيں۔” تو حضرت اُم سليم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی ”پھر اپنے بيٹے پر صبر کرو۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غضبناک ہو گئے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر سارا قصہ عرض کيا، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل تمہاری رات ميں تمہارے لئے برکت فرمائے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل ابی طلحۃ رضی اللہ تعالی عنہ الانصاری،الحدیث:۶۳۲۲،ص۱۱۰۹)
(45)۔۔۔۔۔۔خَاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی چيز کسی کو عطا نہيں ہوئی۔”
(صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ ، باب استعناف عن المسالۃ ، الحدیث: ۱۴۶۹ ، ص ۱۱۶)
(46)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناعلی المرتضی کَرّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِيم نے حضرت سيدنا اشعث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمايا:”اگر تم صبر کرنا چاہو تو ايمان اور اَجر کی اميد پر صبر کرلو ورنہ جانوروں کی طرح صبر آ ہی جائے گا۔” (کتاب الکبائرللامام الذہبی،فصل فی التعزیۃ، ص۲۱۹)
error: Content is protected !!