Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت سیدنا آدم و موسیٰ علیہماالصلوٰۃالسلام کے درمیان مباحثہ :

 (65)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”حضرت آدم وموسیٰ (علیہما الصلوٰۃ و السلام )میں مباحثہ ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام )نے فرمایا :”آپ تو وہ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی جانب سے روح پھونکی، اپنے ملائکہ سے آپ کو سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں ٹھہرایا لیکن آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکال کر انہیں بدبخت کر دیا۔” تو حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا: ”اے موسیٰ! تم وہ ہو جسے اللہ عزوجل نے اپنی رسالت کے لئے چنا اور تم پر تورات نازل فرمائی تو کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اللہ عزوجل نے مجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی میرے لئے لکھ دیا تھا۔” تو اس طرح حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) پر بحث میں غالب آ گئے۔”
     (جمع الجوامع، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۷۸،ج۱،ص۱۰۸)
 (66)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”حضرت موسیٰ(علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:” مجھے حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) سے ملوادے۔” تو جب اللہ عزوجل نے انہیں حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)سے ملوایا تو حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) سے عرض کی :”آپ ہی ہمارے باپ آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)ہیں؟ آپ ہی وہ ہیں جن میں اللہ عزوجل نے اپنی جانب سے روح پھونکی ، آپ کو تمام اسمأ کا علم عطا فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو سجدہ کیا؟” حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے ارشاد فرمایا:”جی ہاں! ” حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے کہا:”پھر آپ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو ہمیں اور اپنے آپ کوجنت سے نکلوانے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟” تو حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے پوچھا:”تم کون ہو؟” انہوں نے بتایا :”میں موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) ہوں۔”تو حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے ارشاد فرمایا :”تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جنہیں اللہ عزوجل نے حجاب کے پیچھے سے اپنے کلا م سے مشرف فرمایا اس وقت تمہارے اور اللہ عزوجل کے درمیان مخلوق میں سے کوئی قاصد نہ تھا؟” تو انہوں نے جواب دیا :”ہاں! ” حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا:”تو کیا تم نے میری پیدا ئش سے پہلے میرے بارے میں لکھی گئی بات کو اپنی کتاب میں نہ پایا؟” انہوں نے عرض کی :”ہاں! پایا تھا” تو حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر تم مجھے ایسی بات پر کیوں ملامت کرتے ہو جس کے بارے میں اللہ عزوجل نے پہلے ہی سے فیصلہ فرما دیا تھا۔” اس طرح حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) پر غالب آ گئے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (سنن ا بی داؤد،کتاب السنۃ ،باب فی القدر، الحدیث: ۴۷۰۲،ص۱۵۶۸)
    گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی قَد ْرِیَہ کے بارے میں کچھ احادیث آئی ہیں جن کومعتزلہ پرمحمول کیا جا سکتا ہے اور اہلِسنت ان گمراہ اور بدعتی لوگوں کے اس قول سے بری ہیں کہ”اہل سنت ہی قَد ْرِیَہ ہیں۔”
(67)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، لہٰذا اگر وہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب،الحدیث: ۵۵۸۸،ج۲،ص۳۸۹)
 (68)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، لہٰذا اگروہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو اور وہ دجال کا گروہ ہیں اوراللہ عزوجل ان لوگوں کا حشر دجال کے ساتھ فرمائے گا۔”
 (جامع الاحادیث، قسم الاقوال، الحدیث: ۱۷۲۶۹،ج۵،ص۷۳)
 (69)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”عنقریب میری اُمت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن عمر،الحدیث:۵۶۴۳،ج۲،ص۳۹۹)
error: Content is protected !!