Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عورتوں کا حمام میں جانا منع ہے :

(15)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ پردہ کئے بغير حمام ميں داخل نہ ہواور جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ اپنی بيوی کو حمام نہ لے جائے۔”
 (سنن النسآئی،کتاب الغسل والتیمم،باب الرخصۃ فی دخول الحمام،الحدیث:۴۰۱ص۲۱۱۲)
(جامع الترمذی،کتاب الادب، باب ماجاء فی دخول الحمام،الحدیث:۲۸۰۱،ص۱۹۳۳)
 (16)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”عنقريب تم پر عجم کی زمين کھول دی جائے گی اور تم وہاں ايسے مکانات پاؤ گے جنہيں حمام کہا جاتا ہے، اس ميں مرد بغير اِزار کے داخل نہ ہوں اور مريضہ اور نفاس والی عورتوں کے علاوہ دیگر عورتوں کو اس ميں داخل ہونے سے منع کر دينا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب الدخول فی الحمام، الحدیث: ۴۰۱۱،ص۱۵۱۶)
 (17)۔۔۔۔۔۔مروی ہے :”مردوں اور عورتوں کو حمام ميں داخل ہونے سے منع کر ديا گيا تھا پھر مردوں کواِزار باندھ کر داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی اور عورتوں کو نہ دی گئی۔”
 (سنن ابن ماجۃ،ابواب الادب،باب دخول الحمام،الحدیث:۳۷۴۹،ص۲۷۰۰)
 (18)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ميری اُمت کی عورتوں پر حمام ميں داخل ہونا حرام ہے۔”
   (المستدرک،کتاب الادب، باب الحمام حرام علی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۸۵۴،ج۵،ص۴۱۲)
 (19)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے، جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اچھی بات کہے يا خاموش رہے اورتمہاری جو عورتيں اللہ عزوجل اورآخرت پر ايمان رکھتی ہيں وہ حمام ميں ہرگز داخل نہ ہوں۔”     اور یہ بات درست ہے کہ حضرت سيدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس روايت کی بناء پر عورتوں کو حمام ميں داخل ہونے سے روک ديا تھا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۷۳،ص۶۸۸)
             (المستدرک،کتاب الادب،باب من کان یومن باللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۸۵۳،ج۵،ص۴۱۱)
 (20)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اس گھر سے بچتے رہو جسے حمام کہا جاتا ہے۔” صحابہ کرام عليہم الرضوان نے عرض کی :”حمام ميں نہانا تو مَيل کو دور کرتا اور مريض کو نفع ديتا ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”پھر جو ا س ميں داخل ہو وہ پردہ کرليا کرے۔”
 (السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب القسم والنشور،باب ماجاء فی دخول الحمام،الحدیث: ۱۴۸۰۵،ج۷،ص۵۰۴،بدون ”المریض”)
 (21)۔۔۔۔۔۔ امام طبرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کی ابتداء میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے :”سب سے بدترين گھر حمام
ہيں ان ميں آوازيں بلند کی جاتی ہيں اور بے پردگی کی جاتی ہے۔”
 (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۹۲۶،ج۱۱،ص۲۱)
 (22)۔۔۔۔۔۔حمص يا شام کی کچھ عورتيں اُم المؤمنین حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ ميں حاضر ہوئيں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان سے پوچھا:”کيا تم وہی ہو جن کی عورتيں حمام ميں جاتی ہيں؟ ميں نے خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اپنے رب عزوجل کے درميان کا پردہ پھاڑ ڈالتی ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی،ابواب الادب،باب ماجاء فی دخول الحمام، الحدیث:۲۸۰۳،ص۱۹۳۳)
 (23)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی پیش آیا جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاان سے مخاطب ہوئیں تو ارشاد فرمایا :”(کیا تم وہی عورتیں ہو جو حمام میں جاتی ہو؟) حالانکہ حمام میں حرج ہے؟ میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :”جو عورت اپنا لباس اپنے گھر کے علاوہ کہیں اُتارتی ہے اللہ عزوجل اس سے اپنی رحمت کا پردہ ہٹادیتا ہے۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ،الحدیث:۲۶۶۳۱،ج۱۰،ص۱۹۱)
 (24)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ پردہ کئے بغير حمام ميں داخل نہ ہواور جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ اپنی بيوی یا لونڈی کو حمام ميں داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔”  (المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۴۶۵۷،ج۵،ص۱۰۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (25)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے حمام کے بارے ميں دریافت کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”عنقريب ميرے(وصالِ ظاہری کے) بعد حمام ہوں گے اور عورتوں کے لئے حمام ميں کوئی بھلائی نہيں۔” پھر انہوں نے عرض کی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! عورتيں اِزار پہن کر حمام ميں داخل ہوتی ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”نہيں، اگرچہ ازار، قميص اور اوڑھنی اوڑھ کر داخل ہوں اور جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنی اوڑھنی اتارتی ہے وہ اپنے اور رب عزوجل کے درميان کا پردہ کھول دیتی ہے۔”
   (المعجم الاوسط،الحدیث:۳۲۸۶،ج۲،ص۲۷۹)
 (26)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”عنقریب تم ایسے علاقے فتح کرو گے کہ جن میں ایسے گھر ہوں گے جن کو حمام کہا جاتا ہو گا، میری اُمت پر ان میں داخل ہونا حرام ہے۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ تو مرض کو دور کرتے ہیں اور میل کچیل کو صاف کرتے ہیں۔” تو
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”(توپھر) چادر میں جانا میری اُمت کے مردوں پر حلال اور عورتوں پر حرام ہے۔”  (المعجم الکبیر، الحدیث:۶۷۱،ج۲۰،ص۲۸۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (27)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ حمام ميں داخل نہ ہو، جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پرايمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کو حمام ميں جانے کی اجازت نہ دے، جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ شراب نہ پئے، جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ اس دسترخوان پر بھی نہ بيٹھے جس پر شراب پی جاتی ہو اور جو اللہ عزوجل اور آخرت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ کسی اجنبی عورت سے تنہائی ميں نہ ملے جس سے ا س کا محرم ہونے کا رشتہ نہ ہو۔”  (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۱۴۶۲،ج۱۱،ص۱۵۳،بتغیرٍ قلیلٍ)
 (28)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حمام ايسا گھر ہے جہاں پردہ نہيں ہوتا اور نہ ہی پانی پاک ہوتا ہے، کسی شخص کے لئے جائز نہيں کہ وہ کپڑا باندھے بغير اس ميں داخل ہو، مسلمانوں کو حکم دو کہ وہ اپنی عورتوں کو آزمائش ميں نہ ڈاليں:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ
ترجمۂ کنز الایمان:مرد افسر ہيں عورتوں پر۔(پ5، النسآء:34)
عورتوں کوسکھاؤ اور تسبيح کرنے کا حکم دو۔”
     (شعب الایمان،باب الحیاء،فصل فی الحمام ،الحدیث:۷۷۷۳،ج۶،ص۱۵۸)
 (29)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حمام بہت ہی برے گھر ہیں ان میں (بیہودہ) آوازیں بلند ہوتی ہیں اور شرمگاہیں ظاہر ہوتی ہیں۔”
 (کنزالعمال،کتاب الطہارۃ،قسم الاقوال،فصل فی دخول الحمام،الحدیث:۲۶۶۱۲،ج۹،ص۱۶۹)
 (30)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے میری اُمت کے مردوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حمام میں بغیر چادر کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ تو ہر گز ان میں داخل نہ ہوں۔”  (المرجع السابق،الحدیث:۲۶۶۱۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (31)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے برے گھر حمام ہیں کہ ان میں (بیہودہ) آوازیں بلند ہوتی اور شرمگاہیں کھلتی ہیں، لہذا جو ان میں داخل ہو تو وہ بغیر پردے کے داخل نہ ہو۔”  (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۹۲۶،ج۱۱،ص۲۱)
 (32)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جو بغير پردے کے حمام ميں
داخل ہو گا اس پر اللہ عزوجل اور ملائکہ کی لعنت ہو گی۔”
         (جامع الصغیر،الحدیث:۸۶۶۱،ص۵۲۵)
 (33)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مسلمان مرد جن گھروں ميں داخل ہوتا ہے ان ميں سب سے اچھا گھر حمام ہے کہ جب وہ اس ميں داخل ہوتا ہے تو اللہ عزوجل سے جنت کا سوال کرتا ہے اور جہنم سے پناہ مانگتا ہے اور سب سے برا گھر جس ميں مسلمان داخل ہوتا ہے دلہن کا کمرہ ہے کہ وہ اسے دنيا کی طرف راغب کرتا ہے اور آخرت بھلا ديتا ہے۔”
   (شعب الایمان،باب الحیاء،فصل فی الحمام ،الحدیث:۷۷۷۹،ج۶،ص۱۶۰)
 (34)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے پہلے جو حمام ميں داخل ہوئے اور ان کے لئے بال دور کرنے والاپاؤڈر رکھا گيا وہ حضرت سيدنا سليمان بن داؤدعلی نبینا وعليہما الصلوٰۃو السلام تھے، جب آپ حمام ميں داخل ہوئے اور اس میں گرمی اور غم کو پايا تو فرمايا:”ہائے، اللہ عزوجل کے عذاب کی تکليف! اس سے پہلے کوئی تکليف نہيں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

         (شعب الایمان،باب الحیاء،فصل فی الحمام ، الحدیث:۷۷۷۸،ج۶،ص۱۶۰)
 (35)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب آخری زمانہ آئے گا تو ميری اُمت کے مردوں کو پردے کے ساتھ بھی حمام ميں جانا حرام ہو گا۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ايسا کس لئے ہو گا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”کيونکہ وہ ايک ننگی قوم پر داخل ہوں گے، سن لو! اللہ عزوجل (دوسروں کا ستر) ديکھنے والے اور جس کی طرف ديکھا جا رہا ہو(جبکہ وہ خود دِکھاتاہوتو) دونوں پر لعنت فرماتا ہے۔”       (جامع الاحادیث:الحدیث:۲۴۸۸،ج۱،ص۳۶۳)
 (36)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ناف اور گھٹنے کے درمیان کی جگہ سِتر(یعنی مرد کے لئے اسے چھپانا فرض )ہے۔”
 (المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب النھی عن ثمن الکلب۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۴۷۷، ج۴، ص۱ ۷۴)
 (37)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”مسلما ن مرد کا ستر اس کی ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے۔”
 (کنزالعمال،کتاب الصلوٰۃ ،قسم الاقوال، الفصل الاول،الحدیث:۱۹۰۹۰۶،ج۷،ص۱۳۴)
 (38)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”گھٹنوں سے اوپر کا حصہ عورت ہے اور ناف سے نچلا بھی عورت( يعنی  چھپانے کی چيز) ہے۔”
 (سنن الدارقطنی،کتاب الصلوٰۃ، باب الامربتعلیم الصلوات والضرب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۸۷۹،ج۱،ص۳۱۸)
 (39)۔۔۔۔۔۔شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مسلمان مرد کی ران اس کے ستر کا حصہ ہے۔”    (المعجم الکبیر،الحدیث:۲۱۴۹،ج۲،ص۲۷۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(40)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اپنی ران کو چھپا کر رکھو کیونکہ یہ بھی عورت(یعنی چھپانے کی چیز ) ہے۔”
 (جامع الترمذی،ابواب الأدب،باب ماجاء ان الفخذعورۃ،الحدیث:۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)
 (41)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ:”ران چھپانے کی چیز ہے۔”
     (المرجع السابق،الحدیث:۲۷۹۵،ص۱۹۳۲)
 (42)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سیدنا جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :”اے جرہد(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! اپنی ران چھپا لو کيونکہ ران چھپانے کی چيز ہے۔”
         (المرجع السابق،الحدیث:۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)
(المسند للامام حمدبن حنبل، الحدیث: ۱۵۹۳۲،ج۵،ص۳۹۵)
 (43)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اپنی ران ظاہر مت کرو اور نہ ہی کسی زندہ يا مردہ کی ران پر نظر ڈالو۔”
    (سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی ستر المیت عند غسلہ ، الحدیث: ۳۱۴۰،ص۱۴۵۹)
 (44)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ:”ایک مرد کا ستردوسرے مردکے لئے اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مردکے لئے ہے اورایک عورت کا ستر دوسری عورت کے لئے اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مرد کے لئے ہے۔”
 (المستدرک،کتاب اللباس،باب التشدیدفی کشف العورۃ،الحدیث:۷۴۳۸،ج۵،ص۲۵۳)

تنبیہ1:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    گذشتہ احادیثِ مبارکہ ميں بيان کردہ یہ بات کہ ”کسی کے سامنے ستر ظاہر کرنااللہ عزوجل کو ناپسند ہے۔”اس کے کبيرہ گناہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے کيونکہ (ستر کھولے بغیر)بات چيت کرنا تو مباح ہے اس پر ناراضگی مرتب نہيں ہوتی اور حمام میں جانے سے متعلق ميں نے جو احادیثِ مبارکہ ذکر کی ہيں وہ ہماری بيان کردہ اس بات پر شاہد ہيں کہ مرد کا اپنی بيوی يا کنيز (جو اس کے لئے حلال ہو)کے علاوہ کسی کے سامنے شرمگاہ کھولناخواہ صغریٰ ہو يا کبریٰ کبيرہ گناہ ہے۔۱؎
 حضرت سیدنا ابراہيم بن عتبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :”لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرنا فسق مغلظ يعنی دُوگنی برائی ہے اور حمام ميں کھولنا اس سے قدرے کم برا ہے۔”
    طبقات العبادی ميں ہے کہ سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدنا امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کيا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حمام ميں برہنہ نظر آنے والے شخص کے بارے ميں فرمايا کہ اس کی گواہی مقبول نہيں کيونکہ ستر پوشی فرض ہے۔”
    سیدنا توحيدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب البصائر ميں سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس طرح کی روايت نقل کی ہے مگر اس ميں برہنہ نظر آنے کے بجائے ستر نظر آنے کا ذکر ہے اور يہ روايت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ايک مرتبہ ايسا کرنے پر بھی وہ شخص فاسق کہلائے گااور يہ معاملہ کبيرہ گناہ ہی کا ہے۔
    سیدناابن شريح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ہم عصرسیدنا حسن بن احمد حدادبصري    رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ادب القضاء کی يہ بات بھی اس کے موافق ہے کہ سیدنا ذکريا ساجی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمايا :”جو شخص حمام يا نہر ميں ستر پوشی کے بغير داخل ہو اس کی گواہی قبول کرنا جائز نہيں۔”
    سیدنا ابو بکر احمد بن عبد اللہ بن سختيانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی سند سے سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی سے روایت کرتے ہوئے اسے بطورسند ذکر کيا ہے، پھر سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا کہ سیدنا زکريا رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہيں: ”يہ بات زيادہ مناسب ہے اگرچہ اس کا ستر ديکھنے والا کوئی نہ ہو کيونکہ اس کا يہ عمل مروَّت ميں سے نہيں۔” سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی رائے کو درست قرار ديا اور فرمايا :”يہ عمل مروّت کو ساقط کر ديتا ہے اگرچہ تنہائی ميں ايسا کرنا گناہ نہيں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سیدنا ابن سراقہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اَدبُ الشَّاہِدْميں صراحت کی ہے :”لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرناگواہی کو ساقط کر ديتا ہے۔” مگر انہوں نے اس ميں اس قيد کا اضافہ کيا ہے :”جبکہ وہ بلا ضرورت ايسا کرے۔”
    فَتَاوٰی الشَّاشِیْ ميں ہے :”حمام ميں ستر ظاہر کرنا عدالت (یعنی گواہ بننے کی صلاحیت)ميں نقص ڈالتا ہے۔” سیدنا ابن برہان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :” لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرنا عدالت ميں نقص ڈالتا ہے تنہائی ميں نہيں۔” مگر شيخين نے اَلرَّوْضَۃميں اور اس کی اصل ميں صَاحِبُ الْعُدَّۃ نے اسے مطلقاً صغيرہ گناہ قرار ديا ہے، اور سیدنا حناطِی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ بھی اس کے موافق ہے کہ ”جو شخص حمام ميں بغير ازار کے داخل ہو اور وہ اس طرح کرنے کا عادی ہو جائے تو فاسق ہے۔”فسق کو تکرار کے ساتھ مقيد کرنا اس کے صغيرہ ہونے کی تصريح ہے، بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے خلوت ميں ستر کھولنے کے صغيرہ ہونے کو خلوت ميں بھی ستر پوشی کے وجوب پر محمول کيا ہے اگرچہ وہ کسی دیکھنے والے کی نظر سے محفوظ ہی کيوں نہ ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ہمارے شافعی مذہب ميں معتمد بات يہی ہے کہ ستر کھولنا مطلقاً صغيرہ گناہ ہے مگر لوگوں کی موجودگی ميں ايسا کرنا مروّت کو کم کر ديتا ہے اور باہمی فخر کی کمی کو واجب کرتا ہے، جس سے شہادت باطل ہو جاتی ہے اور سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب اَدْبُ الْقَضَاء کے حوالے سے اور اس کے بعد جو بات گزری اس کواسی پر محمول کيا جائے گا اور کبيرہ گناہ کی تعريف ميں کيا گيا کلام بھی اس پر دلالت کرتا ہے، ہمارے اصحاب نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کے سامنے بغير ضرورت ستر کھولنا کبيرہ گناہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ2:
    وہ آخری حدیثِ پاک جس ميں ديکھنے والے اور دکھانے والے پر لعنت آئی ہے، اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ستر کی طرف ديکھنا کبيرہ گناہ ہے اور اسے کھولنا بھی کبيرہ گناہ ہے کيونکہ ہم يہ بات بيان کر چکے ہيں کہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامات ميں سے ہے اور يہ بات بھی اس کی تائيد کرتی ہے کہ اجنبيہ يا اَمرَد(یعنی خوبصورت لڑکے) کو بغير حاجت عمداً ديکھنا فسق ہے، اس کے نقصانات کا ذکر عنقريب آئے گا۔
۱؎ :احناف کے نزديک:” مرد اپنی زوجہ يا باندی کی ايڑی سے چوٹی تک ہر عضو کی طرف نظر کر سکتا ہے شہوت اور بلا شہوت دونوں صورتوں ميں ديکھ سکتا ہے اسی طرح يہ بھی اس مردکے ہر عضو کو ديکھ سکتی ہيں، ہاں بہتر ہے کہ مقامِ مخصوص کی طرف نظر نہ کرے کہ اس سے نسيان پيدا ہوتا ہے اور نظر ميں بھی ضعف پيدا ہوتا ہے اس مسئلہ ميں باندی سے مراد وہ ہے جس سے وطی جائز ہے۔”
       (بہار شريعت،ج۲،حصہ۱۶،ص۵۷)
error: Content is protected !!