Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چوتھی حدیثِ پاک کی ساتویں سند

     امام بزار علیہ رحمۃاللہ الغفّار ۱؎(292-210ھ)اپنی ” مُسْنَد۲؎” میں فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن عبداللہ کوفی ، عبداللہ بن شریک سے ، وہ اپنے والد سے ، وہ اعمش سے ، وہ ابو سفیان سے اور وہ حضرت سيدنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم بارگاہِ ِنبوت میں حاضر تھے کہ ایک اچھی ہت و حالت والاشخص آیا۔صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس کی کچھ خوبیاں بیان کیں تورسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”میں اس کے چہرے پر جہنم کی علامت دیکھ رہا ہوں۔”جب وہ قریب پہنچا تو اس نے سلام کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:”اللہ عزوجل کی قسم!مجھے یقین ہے کیاتُونے اپنے دل میں اس طرح نہ کہاتھايا اپنے بارے ميں یہ نہ سوچاتھا کہ تو ان لوگوں میں سب سے افضل ہے؟”اس نے جواب ديا:”ہاں(ایساہی ہے) ۔” جب وہ چلا گیا تونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(شیطان کا) سینگ ظاہر ہوگیاہے ،یہ اوراس کے ساتھی انہی(شیاطین) میں سے ہیں۔
    حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!کیامیں اسے قتل نہ کردوں ؟”توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کیوں نہیں۔”چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف گئے مگر اسے مسجد میں نماز کی حالت میں پایا توبارگاہِ اَقدس میں حاضرہوکر عرض کی: ”میں نے اسے نماز کی حالت میں پایاتو قتل نہ کرسکا۔”
    حضرت سیدناعمرِفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”کیا میں اسے قتل نہ کر دوں ؟ ” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کیوں نہیں ۔”چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف گئے مگر اسے مسجد میں نماز کی حالت میں پایاتوبارگاہِ نبوت میں حاضرہوکر عرض کی:”میں نے اسے نماز کی حالت میں پایا تو قتل نہ کرسکا۔”
    حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے عرض کی:”یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!کیا میں اسے قتل کردوں؟”آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”کیوں نہیں،اگرتم نے اسے پالیاتوضرورقتل کردو گے۔” حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم اس کی طرف گئے مگر اسے نہ پایا ۔” (وہ مسجد سے جاچکاتھا)
۱؎ حافظ الحدیث ، المحدث ، الفقیہہ ابو بکر احمد بن عمر و بن عبدالخالق البصری ، البزار، آپ کی چند مشہورکتب یہ ہیں: شرح موطأ امام مالک ، مسند البزار ،البحر الزاخر وغیرہ ۔
(معجم المؤلفین،ج۱،ص۲۲۰،الاعلام للزرکلی،ج۱،ص۱۸۹)
۲؎ مسند البزار ، لابی بکر احمد بن عمر و بن عبدالخالق البزار ۔     (کشف الظنون،ج۲،ص۱۶۸۲)
error: Content is protected !!