Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جُوْدکی تعریف میں مختلف اقوال:

 اسی طرح حضرات علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا جودو سخاوت کی تعريف ميں بھی اختلاف ہے، ايک قول يہ ہے :”جُوْد احسان کر کے نہ جتلانے اور ديکھے بغير مدد کرنے کو کہتے ہيں۔” ايک قول يہ ہے :”سوال کے بغير عطا کرنا جُوْد کہلاتا ہے۔” ايک قول يہ ہے :” سائل سے خوش ہونا اورممکنہ حد تک عطا کرنا جُوْد کہلاتا ہے۔” جبکہ ايک قول يہ بھی ہے:”اس خيال سے عطا کرنا کہ ميں اور ميرا مال اللہ عزوجل ہی کا ہے جُوْد کہلاتا ہے۔” یہ تمام تعريفيں بُخْل اور جُوْد کی حقيقت کا احاطہ نہيں کرتيں ۔
    لہٰذا حق يہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بُخْل ہے اور جہاں خرچ نہ کرنا واجب ہو وہاں خرچ کرنا فضول خرچی اور اسراف ہے اور ان دونوں کی درميانی صورت قابلِ تعريف ہے اور يہی وہ صورت ہے جسے جُوْد سے تعبير کرنا چاہے، کيونکہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سخاوت ہی کاحکم ديا گيا ہے۔چنانچہ،
(۱) اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :
وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوۡمًا مَّحْسُوۡرًا ﴿29﴾ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(پ15، الاسراء:29)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بيٹھ رہے ملامت کيا ہوا تھکا ہوا۔
(2) وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہيں نہ حد سے بڑھيں اور نہ تنگی کريں۔(پ19، الفرقان:67)
    لہٰذا جُوْد زيادتی و کمی اور حد سے زيادہ تنگی وکشادگی کی درميانی کيفيت کا نام ہے اور اس کا کمال يہ ہے کہ آدمی اپنے دل ميں کوئی غرض نہ پائے يعنی  بے غرض ہو کر عطا کرے بلکہ اسے چاہے کہ وہ اپنے دل کو ايسی جگہ خرچ کرنے پر مائل کرے جہاں خرچ کرنا قابلِ تعريف ہو خواہ وہاں خرچ کرنا شرعاً واجب ہو يا قابلِ مروت و عادت ہو، لہٰذا سخی وہ ہے جو ايسی جگہ خرچ کرنے سے نہ رکے ورنہ وہ بخيل کہلائے گا مگر واجبِ شرعی کو روک لينے والا مثلاً زکوٰۃ يا اہل و عيال کے نفقہ کو روک لينے والا مروّۃًواجب ہونے والے حق مثلاً کم قيمت اشياء ميں تنگی کرنے والے سے زيادہ برا ہے اور اس کی برائی اموال و اشخاص کی تبديلی سے مختلف ہوجاتی ہے، لہٰذا مال دار، پڑوسی، اہل خانہ اور دوست کے ساتھ ايسا سلوک کرنا ان کی اضداد سے ايساسلوک کرنے سے زيادہ براہے۔
    بُخْل کا ايک تيسرا درجہ بھی ہے وہ يہ ہے کہ کثرتِ مال کی صورت ميں انسان مشروع اور مروّت کے واجبات ادا کرتا رہے، پھر ان بھلائی کی جگہوں پر مال خرچ کرنا بند کر دے تا کہ وہ کسی مصیبت کے لئے مال کو بچا کر رکھ سکے نیزاپنے لئے اللہ عزوجل کے تيار کردہ ثوابات، اعلیٰ درجات اور پسنديدہ مراتب پر فانی اغراض کو ترجيح دے تو يہ شخص بہت بڑا بخيل ہے، مگر يہ معاملہ عقل مندوں کے نزديک ہے عام مخلوق کے نزديک نہيں کيونکہ وہ پريشانی کے وقت کے لئے مال جمع کر کے رکھنے کو بہت اہم خيال کرتے ہيں، اس کی وجہ يہ ہے کہ بعض اوقات وہ اپنے پڑوسی فقير کو محروم کرنے کو اس شخص کا برا عمل خيال کرتے ہيں اگرچہ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور اس کی قباحت مال کی مقدار اور فقير کی حاجت و مدد کی زیادتی کے مختلف ہونے سے بدلتی رہتی ہے، پھر وہ شخص ان دونوں واجبات کی ادائيگی کرنے سے بُخْل سے بری ہو جائے گا لیکن اس کے لئے جود و سخا کی صفت اس وقت تک ثابت نہ ہو گی جب تک وہ فضيلت کے حصول کے لئے، نہ کہ تعريف یا خدمت يا بدلے کے لئے، ان دونوں جگہوں پر واجب حق سے زيادہ خرچ نہ کرے اور اس کے لئے اس صفت کا ثبوت اس کی استطاعت کے مطابق کم يا زيادہ خرچ کرنے پر ہو گا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!